پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ برس اکتوبر سے جاری کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا ہے اور مبصرین کے مطابق بہتری کے آثار دور تک دکھائی نہیں دیتے۔
ادھر امریکہ کے افغانستان کے لیے سابق خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے پریس کانفرس کے ردعمل میں ایکس پر پاکستان اور افغانستان کو دوحہ طرز کے معاہدے کی تجویز دی ہے۔
وہ گذشتہ برس کابل کے کئی دورے کر چکے ہییں اور افغان طالبان کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اس مجوزہ معاہدے کے لیے بات چیت کو تیار ہیں۔
ان کی تجویز ہے کہ دونوں ممالک عہد کریں کہ وہ کسی فرد یا گروہ کو اپنے علاقوں کو دوسرے کی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور دونوں کسی تیسرے فریق ملک کی اس معاہدے کی نگرانی قبول کریں۔
تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ تیسرا فریق کون سا ملک ہوسکتا ہے، امریکہ، چین یا خلیجی ممالک میں سے کوئی۔ لیکن مبصرین کے خیال میں اس مشکل ذمہ داری کے لیے شاید کوئی ملک تیار نہ ہو۔ تاہم زلمے کا کہنا تھا کہ گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے یعنی اس نے اگلے قدم کا فیصلہ کرنا ہے۔
While the Doha Agreement did not cover Afghanistan–Pakistan relations, the idea it raises is worth serious consideration. A bilateral non-aggression and non-harboring agreement — with third-party monitoring — could be mutually beneficial and stabilizing. If Kabul is ready to…
— Ali Amer | Economy • Markets • Law (@AliAmerFsd) January 7, 2026
معاشی ماہر اور ایکس کے صارف علی عامر نے اس تجویز پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دوحہ معاہدہ افغانستان-پاکستان تعلقات کا احاطہ نہیں کرتا تھا، لیکن اس میں جو خیال پیش کیا گیا ہے وہ سنجیدہ غور کے قابل ہے۔ ’ایک دو طرفہ عدم جارحیت اور پناہ نہ دینے کا معاہدہ تیسرے فریق کی نگرانی کے ساتھ باہمی فائدہ مند اور استحکام بخش ہو سکتا ہے۔ اگر کابل تیار ہے تو اسلام آباد کو اس موقع کو آزمانا چاہیے۔‘
سینئر تجزیہ کار ضیغم خان نے لکھا کہ افغانستان اس طرز کے معاہدے کے بدلے کیا چاہے گا؟
زلمے خلیل زاد کے مطابق افغانستان دوہا معاہدے کے تحت پاکستان کے خلاف دہشت گردی روکنے کا پابند نہیں اور پاکستان اس معاہدے کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہے۔ تاہم افغانستان اور پاکستان دوہا جیسا معاہدہ باہمی طور پر کرسکتے ہیں جس پر افغانستان بات کرنے کو تیار ہے۔( سوال یہ ہے کہ… https://t.co/s9kRDbQmJI
— Zaigham Khan (@zaighamkhan) January 7, 2026
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے منگل کو پریس بریفنگ میں میں ایک مرتبہ پھر دہشت گردی میں اضافے کی بڑی وجہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند بتائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے 2025 میں پاکستان میں دس بڑے ’دہشت گرد‘ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے کرنے والے تمام افغان شہری تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’افغان طالبان اپنی معیشت چلانے کے لیے دہشت گردی کو سپورٹ کرتے ہیں۔ افغانستان میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’افغانستان میں ہم نے ٹی ٹی اے نہیں بلکہ ٹی ٹی پی کو نشانہ بنایا جو ہمارا جائز حق تھا۔‘
جواب میں افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر کہا کہ پاکستان فوج کے ’دھمکی آمیز‘ بیانات اور داخلی معاملات میں ’دخل اندازی‘ انہیں قبول نہیں اور یہ کہ یہ بیانات ’حقائق کے منافی‘ ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا کہ افغانستان ایک خودمختار اور مستحکم ملک ہے، جو ایک مضبوط سکیورٹی ڈھانچے اور مقتدر قیادت کا حامل ہے اور اپنی پوری سرزمین پر مکمل حاکمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اپیل کی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ طرز عمل اور سنجیدہ بیانات کی روش اختیار کی جائے۔
دونوں ممالک کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے اور سرحدیں تجارت کے للییے بند ہیں۔