میں نہ مانوں، تا دمِ زیست۔۔۔۔۔

یہ ملک کی بد قسمتی ہے کہ آنے والے وقت پر توجہ مرکوز کرنے اور عوام کو در پیش گونا گوں مسائل کے حل کی بجائے اہل اقتدار ماضی کے جنون میں مبتلا ہیں اور اپنے پیش روؤں کو مبینہ پرانی غلطیوں پر سزا دینے کی کاوشوں پر اپنا اور قوم کا قیمتی وقت ضائع  کر رہے ہیں۔

 دھرنا پارٹی وزیر اعظم سے استعفیٰ لینے پر بضد ہے اور کیے گئے وعدوں سے منحرف ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ (اے ایف پی)

چند روز قبل ننکانہ صاحب میں جامعہ بابا گرو نانک کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے ایک دفعہ پھر اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔ اس بار اس عزم بالجزم پر مزید زور دینے کے لیے انہوں نے ’تا دمِ زیست‘ کی ترکیب کا اضافہ بھی کر دیا۔

اب ’میں نہ مانوں‘ اور اپوزیشن پر بدعنوانی کے الزامات عمران خان کے  بیانات اور تقاریر میں مستقل موضوعات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دیکھا دیکھی اپوزیشن نے بھی یہ کہنے کی جسارت کی ہے کہ وہ بھی وزیر اعظم کو این آر او نہیں دیں گے۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان نے کہا کہ اصل میں تو این آر او کی ضرورت عمران خان کو ہے۔ اس سے پہلے جے یو آئی ف کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کے وفد نے ان سے اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان اور سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے لیے این آر او کی درخواست کی تھی، لیکن انہوں نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بدعنوانی کا ناسور کسی مضبوط سے مضبوط ملک کی جڑیں بھی کھوکھلی کر سکتا ہے اور اس کے خلاف مکمل جہاد لازم ہے لیکن سوال یہ ہے کیا یہ ملک کی تمام بیماریوں کا واحد علاج ہے۔ اس ایک نکاتی ایجنڈے پر وزیر اعظم اور ان کی عزیز از جان ٹیم کی غیر معمولی توجہ کی وجہ سے اب تو غیر جانبدار مبصرین کا شک بہت حد تک یقین میں بدل چکا ہے کہ یہ محض ایک بہانہ ہے جس کے پیچھے وہ اپنی نااہلی چھپا رہے ہیں۔

معاشی بدحالی اور گورننس کے عمیق مسائل پر نتیجہ خیز کام کرنے کے لیے حکومتی ارباب اختیار کی انتظامی اور دانشورانہ صلاحیتوں پر عوام کے شکوک و شبہات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بدعنوانی کے الزامات میں حقیقت کم اور مبالغہ آرائی بسیار دکھائی دیتی ہے۔ نواز شریف کو غیر ملکی اقامہ رکھنے پر سزا دینا اس دور کا ایک مضحکہ خیز واقعہ گردانا جائے گا۔

پانامہ پیپرز جیسے ہوشربا قصے سے شروع ہونے والا معاملہ صرف 4 6x سم اقامہ کی قانونی حیثیت کے سوال پر ختم ہوا۔ جج ارشد ملک کے نواز شریف کے خلاف العزیزیہ سٹیل مل کیس میں اپنے فیصلے کے پیچھے قابلِ اعتراض محرکات کے مبینہ اعتراف سے ان مقدمات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

طرفہ تماشا یہ کہ حکومت یکے بعد دیگرے حزبِ مخالف کے رہنماؤں کو گرفتار کر کے مثالیں قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن درونِ خانہ بدعنوانی سے مکمل طور پر چشم پوشی کیے ہوئے ہے۔ موجودہ کابینہ کے کچھ ارکان مشکوک کردار کے حامل اور وفاداریاں تبدیل کرنے میں یکتا ہیں۔

وزیر اعظم  کی شکایت کہ انہیں ناقص ٹیم دی گئی ہے قطعی اچنبھے کی بات نہیں۔ انتخابات سے پہلے عمران خان جن سیاستدانوں کو چور ڈاکو اور لٹیرے وغیرہ کے القابات سے نوازتے رہے انہیں اقتدار کی کرسیوں پر بٹھانے کی بجائے سلاخوں کے پیچھے ڈالنا چاہیے تھا۔ تب ہی لوگ یقین کریں گے کہ حکومت غیرجانبداری سے احتساب کر رہی ہے اور کسی مخصوص طبقے کے خلاف مہم جوئی میں مصروف نہیں۔

انسداد بدعنوانی کی اس متنازع مہم اور چوری شدہ مینڈیٹ کے الزامات نے ایک مشکوک ساکھ کے حامل مولانا اور اس طرح کے دیگر کرداروں کو دھرنے کا موقع فراہم کیا۔ 1977 کی پی این اے کی طرح آج کا دھرنا اتحاد بھی بھانت بھانت کی سیاسی جماعتوں کا ناقابل یقین اور ناپائیدار اکٹھ ہے جس میں ابتدا ہی سے دراڑیں نظر آنا شروع ہو گئیں ہیں۔

اس غیر فطری گٹھ جوڑ کی واحد وجہ عمران حکومت کی نادانی اور طرفداری کا رویہ ہے۔ دھرنا پارٹی وزیر اعظم سے استعفیٰ لینے پر بضد ہے اور کیے گئے وعدوں سے منحرف ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اب جبکہ وہ ڈنڈا بردار فورس، شکوہ سنج افراد اور بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں تو حکومت پریشان نظر آتی ہے۔ حکومت کی نادان ٹیم  یہ بھی نہ سمجھ سکی کہ مذاکرات میں شمولیت کا ڈھونگ دھرنا پارٹی نے وقت خریدنے کے لیے رچایا تھا۔

حکومت کی غلط ترجیحات کی وجہ سے چودہ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود صورت حال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت اور فوج کے ایک صفحے پر ہونے کی سہانی کہانی بھی کام کرتی نظر نہیں آ رہی۔ عوام کا سب سے اہم مسئلہ معاشی ابتری ہے۔ بلند و بانگ دعووں کے برعکس ایف بی آر کو محصولات کی وصولی میں ریکارڈ کمی کا سامنا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان پر حالیہ رپورٹ میں اگلے سال افراط زر میں بیشی اور شرح نمو میں کمی کی پیش گوئی کی ہے۔ ابھی تک پی ٹی آئی حکومت کا بہترین دفاع اپنے پیش روؤں کو ہی قصوروار ٹھہرانا ہے۔ لیکن اصل مسائل پرانے حکمرانوں کے مبینہ کرپشن سکینڈلز سے کہیں زیادہ بڑے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نت نئے قوانین، قواعد و ضوابط اور پابندیوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب نے عام تاجروں کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے۔ مظاہرین کی اسلام آباد آمد سے قبل تاجروں نے بھی ملک بھر میں ہڑتال کی۔ تاجروں اور حکومت کے مابین کامیاب مذاکرات کی وجہ سے ہڑتال ختم ہو گئی ہے لیکن اس کے اثرات کئی دنوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

گورننس کے معاملات پر نظر ڈالیں تو صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہے۔ عمران خان کا سرکاری ملازمین کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد کرانے کا عہد ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ حقیقت میں وہ اب پہلے سے بھی زیادہ دباؤ کے زیرِ اثر دکھائی دیتے ہیں۔ وقت کی ضروریات کے مطابق سرکاری اداروں کو مؤثر اور ذمہ دار بنانے کے لیے سنجیدہ اصلاحات کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔ اس طرح کی متعدد ناکام کوششوں کے قدیمی خالقوں کی سربراہی میں سول سروس ریفارمز ٹاسک فورس نے ابھی تک کوئی قابلِ ذکر کارنامہ سر انجام نہیں دیا۔ ادھر احتساب بیورو نے سرکاری افسران کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے۔ اب وہ مالی اہمیت کے کسی کاغذ پر دستخط کرنے سے ہچکچاتے ہیں جس سے حکومتی معاملات تعطل کا شکار ہیں۔ کابینہ کے کچھ ارکان نے بھی کہا ہے کہ بیورو کی غیر معقول تحقیقات کارِ سرکار میں رکاوٹوں کا باعث ہیں ۔ نیب کے قوانین کو تبدیل کرنے کی حال ہی میں کی جانے والی کوششوں کا ابھی تک خاطر خواہ نتیجہ نمودار نہیں ہوا۔  

تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو حکومت کی مسلسل بے توجہی کا شکار ہیں۔ ذرا ڈینگی کی وبا کے حالیہ مسئلے کو ہی لے لیجیے۔ لگتا ہے کہ حکومت نے تبدیلی موسم کو ہی تیر بہدف علاج جانا اور لوگوں کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ تعلیم، جو قومی ترقی کا بنیادی ستون ہے اور بڑھتی ہوئی آبادی جیسے سنگین مسائل یکسر نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔ عوام نے کبھی ایسی ناتجربہ کار، بے حس اور لا پرواہ انتظامیہ نہیں دیکھی ہو گی! جن لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا وہ یقیناً انگشت بدندان ہوں گے کہ کیا یہی وہ تبدیلی ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا!

کسی بھی پہلو سے دیکھیں تو حکومت کی کم عقلی وسعتِ بے کراں کو چھوتی نظر آتی ہے۔ میاں نواز شریف کے جیل میں جانے کے تقریباً فوراً بعد ہی ان کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ گذشتہ چند ہفتوں سے ان کی حالت ابتر ہوتی جارہی تھی لیکن حکومت نے کوئی پرواہ نہیں کی بلکہ اطلاعات کی منہ پھٹ مشیر تو بیماری کو بھی سیاسی طنز کا نشانہ بنانے سے نہ چوکیں۔ جب دھرنے کا دباؤ بڑھا تو حکومت کو نواز شریف کی بیماری کا خیال آیا۔ اس سے بھی بظاہر حکومت نے ہی فائدہ اٹھایا ہے۔ نواز شریف کی بیماری اور عدالتی ضمانتوں نے عارضی طور پر ہی سہی لیکن دھرنے کی تپش کچھ کم کر دی ہے۔

یہ ملک کی بد قسمتی ہے کہ آنے والے وقت پر توجہ مرکوز کرنے اور عوام کو در پیش گونا گوں مسائل کے حل کی بجائے اہل اقتدار ماضی کے جنون میں مبتلا ہیں اور اپنے پیش روؤں کو مبینہ پرانی غلطیوں پر سزا دینے کی کاوشوں پر اپنا اور قوم کا قیمتی وقت ضائع  کر رہے ہیں۔ ملک کی حقیقی ترقی تبھی ممکن ہو گی جب ملک میں ہم آہنگی اور یگانگت کی فضا پروان چڑھائی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ