’ہم یہاں بیٹھیں یا ڈی چوک چلے جائیں، ایک ہی اسلام آباد ہے‘

مولانا فضل الرحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں کہا ڈی چوک پر نہ پہلے جانے کا کہا تھا اور نہ اب کہا ہے، پُرجوش مجمع جذبات میں کچھ بھی کہتا ہے تو وہ میرا یا جماعت کا موقف نہیں۔

جمعیت علمائے اسلام ۔ ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اتوار کو وزیر اعظم عمران خان کو مستعفیٰ ہونے کے لیے اپنی دو دن کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے جمعے کو آزادی مارچ سے خطاب میں وزیر اعظم کو دو دن میں مستعفیٰ ہونے کی مہلت دی تھی۔ اس پر وزیر اعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ وہ ہرگز مستعفیٰ نہیں ہوں گے۔

جے یو آئی ۔ ف نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ شروع ہونے سے پہلےمقامی انتظامیہ سے تحریری معاہدہ کیا تھا کہ آزادی مارچ طے شدہ مقام پر ہی رہے گا لیکن مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد جلسے سے اپنے خطاب میں کہا تھا دھرنے کے شرکا ریڈ زون میں ڈی چوک کی جانب مارچ کر سکتے ہیں جس کے بعد اسلام آباد انتظامیہ نے سیکٹر ایچ نائن میں جلسہ گاہ کے اطراف سکیورٹی سخت کرتے ہوئے آنے جانے کے راستے بلاک کر دیے۔

حکومت نے اعلان کیا تھا کہ معاہدہ توڑنے کی صورت میں قانون حرکت میں آئے گا۔

اتوار کی اس ڈیڈلائن کا آخری دن تھا اور دارالحکومت میں مولانا فضل الرحمٰن کے اگلے قدم کے حوالے سے قیاس آرئیاں تھیں کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں موجود اپنے کارکنوں اور ہمدردوں کو ریڈ زون میں واقع ڈی چوک کی طرف مارچ کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔

تاہم، انہوں نے اتوار کی رات انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں اس تاثر کو زائل کرتے ہوئے کہا ’ڈی چوک پر نہ پہلے جانے کا کہا تھا اورنہ اب کہا ہے۔ پُرجوش مجمع جذبات میں کچھ بھی کہتا ہے تو وہ میرا یا جماعت کا موقف نہیں۔‘

 ’ہم جہاں بیٹھے ہیں وہاں بہت آرام سے ہیں اور یہ سارا اسلام آباد ایک ہی ہے کیا فرق پڑتا ہے ہم یہاں بیٹھیں یا ڈی چوک میں۔‘

انہوں نے کہا ابھی مزید قافلے آ رہے ہیں، اس کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت بھی جاری ہے، ہم جُوش میں آ کر کوئی غلط قدم نہیں اُٹھائیں گے۔

جن اُن سے پوچھا گیا کہ آیا استعفٰی ملنے تک ادھر ہی بیٹھیں گے؟ تو ان کاکہنا تھا ’ہم نے ایسا کب کہا کہ اِدھر ہی بیٹھیں گے؟ ڈی چوک کے اجتماع اور اُس اجتماع میں کیا فرق ہو گا؟ مقصد یہاں بھی حاصل ہو سکتا ہے۔‘

’ہم نے دھرنے کی بات آج تک نہیں کی اور یہ بھی نہیں کہا کہ ہم یہاں ہفتہ یا مہینہ رہیں گے۔ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں جائیں گے لیکن اس کا مطلب دھرنا یا ڈی چوک ہر گز نہیں۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تمام اپوزیشن جماعتوں کی اپنی ایک رائے ہے اور ہمیں ان کا احترام ہے۔ ’سب اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں اور وہ بھی استعفیٰ چاہتی ہیں۔‘

’رہبر کمیٹی ایک اور اجلاس کرے گی جس کی بنیاد پر اگلے مراحل طے کریں گے۔ حکومت اور اپوزیشن نے طے کیا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی ہو گی جو 2018 کے انتخابات کی تحقیقات کرے اور اُس پارلیمانی کمیٹی کا سربراہ بھی تحریک انصاف سے ہو تو مجھے شروع سے ہی اس بات ہر اعتراض تھا یہ ایسے ہی ہے جیسے دودھ کی رکھوالی بلے کو دے دی ہو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مولانا فضل الرحمٰن سے سوال پوچھا گیا کہ سوشل میڈیا پر ’ایک نہیں دو استعفے‘ کا ٹرینڈ چل رہا ہے تو آپ اس پر کیا کہیں گے تو انہوں نے کہا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا استعفیٰ نہ پہلے مانگا تھا اور نہ اب ہماری ڈیمانڈ میں شامل ہے۔

’جہاں تک بات ڈی جی آئی ایس پی آر کی ہے تو انہوں نے ایک پروگرام میں صحافی کو اپنی رائے پیش کی ہے، ہمارا کسی ادارے سے ٹکراؤ نہیں ۔‘

آج جے یو آئی ۔ ف کی قیادت کا کئی گھنٹوں پر مشتمل طویل مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے جلسہ گاہ میں کثیر تعداد میں موجود شرکا سے خطاب میں کہا مسئلہ ایک استعفے کا نہیں بلکہ اس قوم کی امانت کا ہے اور آج عوام یہاں خود جمع ہو کر اپنی امانت واپس لینے کی جنگ کر رہے ہیں۔

’آج اسلام آباد بند ہے، ہم پورا پاکستان بند کرکے دکھائیں گے اور یہ جنگ جاری رکھیں گے، ہم یہاں سے جائیں گے تو پیش رفت کے ساتھ جائیں گے۔‘

انہوں نے کہا:’میڈیا کہہ رہا ہے آزادی مارچ سے ہماری واپسی پسپائی ہو گئی لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ ایک پیش رفت ہو گی اور ہم اس مارچ کو ملک بھر میں تحریک کے طور پر پھیلا دیں گے۔‘

انہوں نے کہا ڈی چوک کی جگہ تنگ ہے، اس جلسہ گاہ سے بھی کم جگہ ہے، کل کارکنوں نے جوش میں آ کر ڈی چوک تک جانے کی بات کی تھی۔

انہوں نے کہا جے یو آئی تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہے۔ ’ہم کل اہم اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کریں گے، ہم نے مارچ کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا۔‘

مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا: ’کہا جا رہا ہے کہ میرے خلاف بغاوت کا مقدمہ دائر کیا جائے کیوں کہ میں نے کہا تھا میرے کارکن وزیراعظم ہاؤس پر دھاوا بول کر وزیراعظم کو گرفتار کر لیں، تو میرا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ سیلاب وزیراعظم ہاؤس پہنچنا چاہیے تو اسے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔‘

’بات بغاوت سے بہت آگے بڑھ چکی۔ ہم اپنی جانیں اپنی ہتھیلی پر رکھ چکے ہیں۔‘

’ہم یہاں سے پیچھے نہیں آگے جائیں گے، آگے کی حکمت عملی میں پلان بی اور پلان سی بھی شامل ہیں۔ تمھاری جیلیں کم پڑ جائیں گی لیکن ہمارے کارکنوں کا جذبہ کم نہیں ہو گا۔‘

’وہ صرف مجھ سے تین الفاظ ’این آر او‘ سننا چاہتے ہیں‘

ادھر،وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کی صبح کو ایک بار پھر ’بدعنوان افراد کو این آر او دینے سے انکار کیا۔‘

فیس بک پر جاری ایک بیان میں عمران خان نے لکھا: ’جب تک بدعنوان افراد احتساب نہیں ہوتا اس وقت تک ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔‘

عمران خان نے کسی بھی سیاسی رہنما یا انفرادی شخصیت کا نام لیے بغیر کہا: ’وہ صرف مجھ سے تین الفاظ ’این آر او‘ سننا چاہتے ہیں، جو میں بول نہیں سکتا کیوں کہ یہ ملک کے ساتھ غداری کے مترادف ہوگا۔‘

پچھلے دو دنوں میں اپوزیشن اور حکومت کے موقف میں مزید سختی آئی ہے، کیونکہ ایک طرف حکومت کی مذاکراتی ٹیم دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکی ہے کہ وزیر اعظم کسی صورت مستعفٰی نہیں ہوں گے تو دوسری جانب متحدہ اپوزیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ ڈیڈ لائن ختم ہونے پر سخت اقدامات پر مبنی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے اعلان کیا ہے کہ جے یو آئی ۔ ف کے فیصلوں پر غور کے لیے پیر کو شہباز شریف کی سربراہی میں اجلاس ہو گا۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری نے عندیہ دیا ہے کہ پارٹی کی کور کمیٹی جے یو آئی ۔ ف کے دھرنے میں شرکت کے حوالے سے غور کر سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست