مولانا اور بوڑھے برگد کی کہانی

بقول ایک سابق اعلیٰ عسکری افسر، مولانا سمجھ دار بھی ہیں اور تعاون کرنے والے بھی۔ سنبھل جائیں گے راستے سے بھٹک کر کہاں جائیں گے۔

(اے ایف پی)

میرے گاؤں کا بوڑھا برگد۔ صدیوں پرانا برگد۔ گاؤں میں بسنے والوں کے لیے مقدس بوڑھا برگد۔

ساتھ میں بہتا دریائے سندھ اور ہزاروں برس قدیم موہنجوڈارو تہذیب کے کھنڈرات کے سائے۔

گاؤں کے دہانے پر کئی کئی گز لمبی ٹہنیوں کے ساتھ اپنی آغوش میں لیے یہ درخت جسے ہم بچپن میں بابا برگد پکارتےتھے۔

کہانیاں روایتیں منسوب۔ گاؤں کے ہندو پوجا پاٹ کرتے۔ ماتا پتا کا سماں دیتے۔ منت کے دھاگے لپیٹتے، چڑھاوے چڑھاتے۔

سب کا ماننا تھا کہ بابا گاؤں والوں کے لیے کرشماتی حفاظتی حصار کھینچے ہوئے ہے۔

الصبح پوجا پاٹ، سورج چڑھتے چھابڑیاں، حجام وغیرہ کاروبار کرتے۔ دوپہر کو چل چلاتی دھوپ میں چھاؤں کے لیے پناہ گاہ اور بابا برگد کے ساتھ جڑی روایت کہ وہ سب کے راز اپنے اندر سمو لیتا ہے، نفسیاتی سہارا دیتا ہے۔

لوگ خاموشی کے سمے یعنی شام ڈھلتے اپنے درد و غم کی بپتا بوڑھے برگد کے ساتھ لپٹ کر بیان کرتے۔

گویا یوں سمجھ لیں کہ بابا برگد ہمارے گاؤں کا مرکز تھا۔ جب بھی خلیجی ممالک سے کوئی گاؤں واپس آتا، جسے ہم دبئی پلٹ کہتے تھے۔ ہاتھ میں سنہری چین والی گھڑی، چاکلیٹوں اور ٹافیوں کے ڈبے، ٹینگ جوس، مرتبان نما بوتلیں، پلاسٹک کے کور میں رنگ برنگے مخمل کا کمبل۔ بزرگوں، نوجوانوں کے ساتھ دیار وطن کی رنگ برنگ خوش گپیاں، سنہرے دن، خوبصورت راتیں، ریال، دینار کی باتیں یعنی خوابوں کی دنیا۔ لیکن کبھی بھی مشکلات کا ذکر نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خاموش شام کے بڑھتے سائے اور پھر بابا برگد کے ساتھ لپٹ کر دکھ بھری داستان بیان کرتے۔ ایک کمرے میں دس، دس افراد کا رہنا۔ قیدیوں کی طرح زندگی بسر کرنا وغیرہ، وغیرہ۔

مجھے یاد ہے میرے خاندان کے لیے کام کرنے والا مشتاق جو مجھے سائیکل پر بٹھا کر دریا کے کنارے لے کر گیا اور مجھے وہ لمحہ بھی یاد ہے کہ جب وہ بابا برگد کے گرد اپنے بازو لپیٹے ہوئے بچوں کی طرح رو رہا تھا۔ بعد میں پتہ چلا وہ اپنی ماں کے کارو کاری کی فرسودہ رسم کی بھینٹ چڑھ جانے پر رو رہا تھا۔

 مجھے ان دنوں ایسا لگتا ہے کہ مولانا جب احتجاج یا دھرنے کے بعد لوٹیں گے تو ان کی واپسی میرے گاؤں کے دبئی پلٹ لوگوں کی طرح ہوگی۔

مولانا کے لیے اب میلہ سمیٹنے کا وقت آگیا ہے۔ دسیوں ہزاروں چیلوں کے ساتھ میلہ اختتام پذیر لگتا ہے۔

مولانا جب اپنے گاؤں کے باسیوں یعنی مدارس کے طلبہ اور مذہبی رجحان رکھنے والے سپورٹرز کے سامنے اپنی کامیابیاں بیان کریں گے، میرے گاؤں کے دبئی سے واپس آنے والے لوگوں کی طرح۔’مائنس ون،مائنس ٹو‘ کے سیاسی عزائم پس پشت چلے جائیں گے۔ مولانا کا بیان کچھ یوں نظر آئے گا۔

 ’پاکستان کے خلاف یہودیوں اور احمدیوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ مدارس کے نظام کو لاحق اسلامی لوہے کی دیوار چن دی گئی ہے۔ حکمران لرز اٹھے ہیں۔عمران خان حکومت کا خاتمہ جلد ہوگا۔ اَن دیکھی قوتوں یعنی اسٹیبلشمنٹ سے ازالہ ہوگا‘ وغیرہ، وغیرہ۔

خوب نعرے لگیں گے۔ مولانا یعنی امیر کی دنیا میں ان کے چیلوں کے نزدیک درجات بلند ہو جائیں گے۔

داڑھیوں اور پگڑیوں والے چیلوں کے جذبات ابھارے جائیں گے۔ مولانا گاؤں میں اپنے باسیوں کے سامنے مذہبی بیانیوں کے خطبات پیش کریں گے۔ نہ کہ اس احتجاج یا دھرنے کے نتیجے میں سیاسی عزائم سے حاصل ہونے والی کامیابیوں، ناکامیوں کا۔

حقیقت کچھ یوں ہے کہ مولانا نے اپنی ذاتی سیاسی تنہائیوں سے نکل کر قومی سیاست کی وادی میں سانس لینا شروع کر دیا ہے۔ اپنی جماعت اور چیلوں کو متحرک کردیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے ناراضگی کا برملا اظہار کیا اور اپنی مذہبی قوت کی نمائش بھی خوب جمائی۔

عمران خان جن سے ذاتی لڑائی ہے ان کو وقتی طور کے لیے خاموش کیا۔ اسٹیبلشمنٹ کی ہم آہنگی کے ساتھ مولانا نے کئی دہائیوں سیاست کی ہے، ان کے میکانزم کو جانتے ہیں، کسی حد تک پریشان بھی کیا۔ مولانا جو آج اسٹیبلشمنٹ کے خلاف چیخ دھاڑ رہے ہیں، انہوں نے ہی جنرل مشرف کے لیگل فریم ورک آرڈر کو تسلیم کرکے ان کی حکمرانی کا حلالہ کیا تھا۔

افغانستان کے طالبان کے دور کے حمایتی۔ مدارس نظام کے ساتھ گٹھ جوڑ۔ رہنے دیں فہرست لمبی ہے اور مذہبی انتہا پسندی کی بھول بھلیوں کی طرف پر اسرار بھی۔

بقول ایک سابق اعلیٰ عسکری افسر، مولانا سمجھ دار بھی ہیں اور تعاون کرنے والے بھی۔ سنبھل جائیں گے راستے سے بھٹک کر کہاں جائیں گے۔

لیکن مولانا کے دھرنے، احتجاجی سفر میں رکاوٹیں اور ناکامیاں بھی بے شمار ہیں۔اسی وجہ سے جب مولانا کی واپسی پر چاہنے والوں کے لیے کامیابیوں سے بھرے خطبات ختم ہوں گے۔ ہجوم چھٹے گا۔ ڈھلتا سورج، شام کے بڑھتے سائے ہر طرف خاموشی کا ساماں ہو گا تو مولانا میرے گاؤں کے باسیوں کی طرح بوڑھے بابا برگد سے لپٹ لپٹ کر اپنی دکھ بھری سیاسی ناکامیوں کی داستان سنائیں گے۔

اَن دیکھی قوتوں سے ناراضگی بدستور موجود۔ وقتی طور پر خاموشی لیکن مولانا کے بغاوتی تیکھے تیور پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار۔ مولانا کو مستقبل میں سیاسی سہاروں کی بےساکھیوں کی ضرورت لیکن مولانا کے اتحادی، حمایتی خود مجبوریوں، مصیبتوں کا شکار۔

مولانا بوڑھے برگد سے لپٹے با خوبی دیکھ سکتے ہیں۔ دریا میں ان کے حامی نواز شریف ایک کشتی پر سوار۔ منزل بیرون ملک جزیرہ جہاں ان کو طبی اور سیاسی جڑی بوٹیاں مل سکیں۔ صحت یاب ہو سکیں۔کنارے پر مریم بھی تیار۔

مولانا کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہوئی نواز شریف کی کشتی۔ دوسری کشتی پر سامان تیار۔ ان کے بڑے سیاسی ساتھی اور سیاسی شطرنج کے کھلاڑی زرداری کے لیے تیار۔

شہباز شریف ان کے حواری ن لیگ کی لڑکھڑاتی نیا کو مفاہمتی چپووں سے ڈوبنے سے بچانے میں مصروف۔

اگر نواز شریف، مریم نواز دور ، ن لیگ کی کشتی بھی کمزور۔

ادھر ان دیکھی قوتوں سے ناراضگی قومی سیاسی چھتری بڑے ساتھیوں نواز شریف، زرداری کی دوریاں۔ مولانا کے بڑھتے سیاسی غم۔ مولانا کو بوڑھے برگد کے سہارے کی ضرورت، جیسے میرے گاؤں کے باسیوں کو اپنے درد و غم بانٹنے کے لیے بابا برگد کی ضرورت۔

بظاہر بوڑھے برگد کے پاس مولانا کے گہرے سیاسی زخم کے مداوے کےلیے مرہم کم نظر آتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ