امریکہ نے اسرائیلی مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کو قانونی تسلیم کر لیا

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا: ’امریکہ فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی بستیوں کو اب غیر قانونی تصور نہیں کرتا۔‘

اسرائیل کی جانب سے 60 کی دہائی میں مغربی کنارے میں   فلسطینی علاقوں پر قبضے کے بعد وہاں  بسائی گئی یہودی بستی ( فائل تصویر: اے ایف پی)

ٹرمپ انتظامیہ کی اسرائیل نواز پالیسی کے تحت امریکہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کو قانونی تسلیم کر لیا ہے۔

خبر رساں ادارے  اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکہ فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی بستیوں کو اب غیر قانونی تصور نہیں کرتا۔‘

امریکہ کا یہ نیا بیانیہ دنیا کے تقریباً تمام ممالک کی مشرقِ وسطیٰ کے لیے پالیسی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سے متصادم ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے امریکہ کی پالیسی میں اس تبدیلی کا خیرمقدم کیا ہے۔

مائیک پومپیو کا کہنا تھا: ’تمام قانونی پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد امریکہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ مغربی کنارے میں شہری اسرائیلی آباد کاری بین الاقوامی قوانین سے متصادم نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’شہری آباد کاری کو بین الاقوامی قوانین سے متصادم قرار دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس سے امن عمل بھی آگے نہیں بڑھ سکا۔‘

پومپیو نے کہا کہ امریکہ ان بستیوں کو قانونی سمجھنے پر غور نہیں کر رہا تھا بلکہ اس کی بجائے وہ اسرائیلی عدالتوں کے فیصلے کو تسلیم کرے گا۔

فلسطینی اتھارٹی، جنہوں نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا، نے واشنگٹن کے اس تازہ ترین اقدام کی مذمت کی ہے۔

فلسطینی صدر کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے ایک بیان میں کہا: ’واشنگٹن بین الاقوامی قانون کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا اور اسے اسرائیلی بستیوں کو جائز قرار دینے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔‘

دوسری جانب نتن یاہو نے ٹرمپ انتظامیہ کے تازہ اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں چھ لاکھ اسرائیلی آباد کاروں کے حوالے سے ایک تاریخی غلطی کو درست کرلیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’امریکہ کی یہ پالیسی ایک تاریخی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ یہودی لوگ جوڈیا اور سماریہ (مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم کے یہودی نام) کے لیے اجنبی یا غیر ملکی نو آباد کار نہیں ہیں۔ دراصل ہمیں یہودی بھی اسی لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ ہم جوڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔‘

امریکہ کے اس اقدام سے نتن یاہو کو سیاسی فائدہ ہوگا کیونکہ ان کے مدمقابل بینی گانٹز کے پاس غیر یقینی انتخابات کے بعد حکومت بنانے کے لیے صرف دو دن باقی ہیں۔

پومپیو نے نتن یاہو کی دانستہ سیاسی حمایت کی تردید کرتے ہوئے کہا: ’اس اقدام کے وقت کے انتخاب کا اسرائیل کی اندورنی سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘

اب تک امریکی پالیسی، 1978 میں محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک قانونی رائے پر مبنی تھی جس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے 60 کی دہائی میں فلسطینی علاقوں پر قبضے کے بعد وہاں یہودی آباد کاری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

جنگ کے قوانین سے متعلق چوتھے جینیوا کنونشن میں شہریوں کو مقبوضہ علاقوں میں منتقل کرنے کی واضح طور پر پابندی ہے۔

اگرچہ امریکہ نے ہمیشہ سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف اقدامات کو ویٹو کیا ہے تاہم سابق صدر براک اوباما نے اپنے دورِ اقتدار کے آخری ہفتوں میں قرارداد 2334 کی منظوری دی، جس میں اسرائیل کی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کی ’صریحاً خلاف ورزی‘ کہا گیا تھا۔

اوباما سے پہلے بھی امریکی انتظامیہ کچھ حد تک ان یہودی بستیوں پر تنقید کرتی رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا