ڈیڑھ سال میں چار آئی جی تبدیل: پولیس اصلاحات کہاں پہنچیں؟

سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب چودھری یعقوب نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب میں بار بار آئی جی تبدیل کر کے پولیس آرڈر 2002 کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

’پولیس اصلاحات میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی مداخلت ہے۔‘ (اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف کو اقتدارسنبھالتے ہی سب سے بڑا چیلنج وفاق اور پنجاب میں بیورو کریسی کو قابو کرنے کا پیش آیا جو وقت کے ساتھ  بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

وفاق کے ساتھ پنجاب میں اعلی عہدے ہوں یا چھوٹے، حکومت تبادلوں پر تبادلے کرنے میں مصروف ہے۔ پہلے مرحلے میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب تبدیل کر کے پورے پنجاب کے تمام ڈویژنوں کے کمشنراضلاع کے ڈی سی بھی تبدیل کر دیئے گئےتھے۔

یہ سلسلہ تھم نہ پایا، مختلف محکموں کے سیکرٹری بھی وزرا کی شکایات پر ہٹائے اور لگائے گئے۔ تبدیلیوں کا سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا۔ صوبہ میں اب تک دو چیف سیکرٹری اور چار آئی جی صاحبان تبدیل ہوچکے ہیں۔ بار بار آئی جی کے تقرروتبادلوں سے پولیس ریفارمز کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑچکا ہے۔

پولیس کے سابق اعلی حکام کا کہنا ہے تھوڑے عرصہ بعد ہی پولیس سربراہ کی تبدیلی پولیس آرڈر 2002 کی خلاف ورزی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس بار اعلی عہدوں پر تبدیلی سے کوئی فرق پڑے گا یا انہیں بھی تبدیل کیا جائے گا۔

اعلی عہدوں پر تبدیلی کے اثرات:

سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب چودھری یعقوب نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب میں بار بار آئی جی تبدیل کر کے پولیس آرڈر 2002 کی خلاف ورزی کر رہی ہے کیوں کہ پولیس آرڈر کے مطابق آئی جی اور ضلعی پولیس افسران کی تعیناتی کے لیے تین سال اور کم از کم مدت دو سال رکھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بار بار افسران کے تبادلوں سے کارکردگی شدید متاثر ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں پولیس کلچر تبدیل نہیں ہو پا رہا۔

ان کے خیال میں ڈیڑھ سال کی محدود مدت میں چار آئی جی تبدیل کرنے اور ضلعی پولیس افسران کے تبادلوں سے فورس کا مورال متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا پولیس اصلاحات میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی مداخلت ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے کے پی میں پولیس کو غیر سیاسی کیا اور عہدوں پر مستقل تعیناتیاں کیں۔ آئی جی کو بااختیار کیا تو پولیس نےبہترین کارکردگی دکھائی۔ لا اینڈ آرڈر کی صورت حال کو بہتر کر کے عوامی شکایات کا ازالہ ہوا۔

ان سے سوال کیا گیا کہ پنجاب میں پولیس نظام کی بہتری کیسے ہوسکتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب تک پولیس افسران کو مستقل تعیناتی نہیں ملے گی وہ ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ دوسری بات یہ کہ پولیس افسران اور اپلکاروں کی تنخواہوں میں اضافہ کر کے ان کی سزاوں کا سخت طریقہ کار طے کیا جائے تاکہ رشوت ستانی ختم ہواور لوگوں کی خدمت کے لیے پولیس اپنا قانونی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا جب تک پولیس افسران کو بااختیار کر کے غیر سیاسی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک تبدیلی ممکن نہیں۔

پنجاب میں تبدیلیاں کیوں ہورہی ہیں؟

حکومتی نوٹیفکیشن پنجاب میں بیوروکریسی کے بڑے اور اہم عہدے چیف سیکرٹری اکبر درانی نگران حکومت میں اکتوبر 2018کو تعینات تھے۔

پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھال کر یوسف نسیم کھوکھر اور اب اعظم سلمان کو تعینات کر دیا۔ اعظم سلمان سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وقت پنجاب کے سیکرٹری داخلہ تھے۔ عوامی تحریک نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں میں ان کا نام بھی شامل کیے رکھا۔ اس کے بعد وہ سندھ میں چیف سیکرٹری رہے۔ اس کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے انہیں وفاقی سیکرٹری داخلہ تعینات کردیا۔ ان کی پنجاب میں بطور چیف سیکرٹری تقرری کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ پنجاب میں حکومت نےمحدود مدت میں چار آئی جی تبدیل کیے۔ کلیم امام نگران حکومت میں آئی جی تعینات ہوئے۔ ان کے ایک ماہ بعد محمد طاہر، پھر انہیں ہٹا کرامجد جاوید سلیمی اور ان کے کچھ ہی عرصہ  بعد عارف نواز کو آئی جی تعینات کیا گیا۔ انہیں بھی چند ماہ بعد ہی ہٹا کراب شعیب دستگیر کو تعینات کردیا گیا۔

واضح رہے پنجاب میں بیورو کریسی سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد اور سابق سیکرٹری احد خان چیمہ کی نیب کی جانب سے گرفتاری اور دیگر افسران کے خلاف مبینہ کرپشن انکوائریوں پر تحفظات کا شکار رہی ہے۔  

کئی بار اعلی سطحی اجلاسوں میں وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب کے سامنے بھی بیشتر اعلی افسران نے نیب کارروائیوں کو بلاجواز قراردے کر تحفظات کا اظہار کیا جس پر چیئرمین نیب کی جانب سے اعلی افسران کے خلاف بلا جواز درخواستوں پر کارروائی سے گریز کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ لیکن ابھی تک وہ معاملات بھی سلجھ نہیں سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان