’نکے اور اس کے ابے‘

نکا دراصل اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک خاص نعمت ہے جو پاکستان کی دنیا میں خصوصی حیثیت یعنی عالم اسلام کا قائد ہونے کے باعث ہمیں عطا کی گئی ہے یا ہم پر نازل کی گئی ہے، خصوصی دعاؤں اور بےپناہ محنت اور کوشش سے۔

وزیر اعظم عمران خان ایک ملاقات کے دوران (پی آئی ڈی)

ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے مولانا فضل الرحمٰن کا جنھوں نے ’نکے اور اس کے ابے‘ کی اصطلاحات متعارف کروائیں ورنہ ہم جیسے بچے برسرعام ’بادشاہ ننگا ہے‘ کہہ کہہ کر اپنے سر پھوڑواتے رہتے یا جیلوں میں دوبارہ سڑتے۔

نکا دراصل اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک خاص نعمت ہے جو پاکستان کی دنیا میں خصوصی حیثیت یعنی عالم اسلام کا قائد ہونے کے باعث ہمیں عطا کی گئی ہے یا ہم پر نازل کی گئی ہے، خصوصی دعاؤں اور بےپناہ محنت اور کوشش سے۔

یہ الگ بات ہے کہ بعض ناشکرے، ناہنجار نکے کو اللہ کا عذاب اور ہمارے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی سزا سمجھتے ہیں۔ انہی کم عقلوں کے باعث پاکستان میں خوشحالی، استحکام اور سکون نہیں آ پاتا۔ ایسے ہی حرکتوں کے باعث ایک پردادے کو اقتدار اپنے ایک شرارتی بیٹے کے حوالے کرنا پڑ گیا تھا۔ اس پردادے کے جانے کے بعد ہم اس کی بڑی بڑی تصاویر ٹرکوں کے پیچھے پینٹ کر کے نیچے لکھ دیتے تھے: ’تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد۔‘ ہمارا نکا ابھی تک اس سنہرے دور کو نہ صرف یاد کرتا ہے بلکہ واپس لانے کے بھی درپے ہے۔

عالم مدہوشی میں رہنے والے شرارتی بیٹے نے ہمیں نہ صرف جنرل رانی سے متعارف کروایا بلکہ اس نے ان بنگالی بھائیوں سے بھی نجات دلا دی جنھیں ہم تیسرے درجے کا انسان سمجھتے تھے۔

مشرقی پاکستان کو ٹھکانے لگانے کے بعد نکے کے دادوں اور چچاؤں نے کچھ عرصے کے لیے ہماری جان چھوڑی مگر صرف چند سالوں کے بعد بظاہر مسکین نظر آنے والا بڑی مونچھوں اور سیدھی مانگ والے چھوٹے قد کے اس دادے نے مگر کچھ بڑے کام بھی کیے۔ مثلاً اس نے پہلے تو اس فسادی سیاستدان کو اس دنیا سے جبری رخصت کر دیا جو ہزاروں قیدی پیاروں کو ہندوستان سے رہا کروا لایا تھا اور اس فطین سیاستدان نے ایٹم بم بنانے کا پروگرام بھی تو شروع کیا تھا۔ لہٰذا اس بڑبولے سیاستدان کو پھانسی گھاٹ پر جھلانا لازمی ہو گیا تھا۔

چھوٹے قد کے طاقتور دادے کا ایک بڑا کارنامہ پاکستان کو انواع اقسام کے مولوی حضرات کے حوالے کرنا بھی تھا۔ جنھوں نے پاکستان کو کفار کی سرزمین سمجھ کر یہاں کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ مجاہد دادا نے کرکٹ کو بھی خوب پروان چڑھایا اور یوں اللہ نے ہمیں نکا دیا جو آج ہماری آنکھوں کا تارا اور سر کا تاج بن چکا ہے۔ ایک مرتبہ نکا ناراض ہو گیا تو سیدھی مانگ والا دادا اسے زبردستی منا کر واپس لایا تھا۔ آج ہم نکے کے پاکستان میں رہ رہے ہیں اور اسے اپنی آنکھوں کے سامنے ترقی کرتا دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہاں ایک ملک صاحب بھی تو ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں اگلی دنیا میں گھر بنانے سے روکنے کے لیے یہاں عالی شان مکان دینے کے خواب دکھاتے ہیں اور ہمیں ایسے پلاٹ بھی بیچ دیتے ہیں جن کا کوئی وجود بھی نہیں ہوتا۔

ملک صاحب کو غریب اور ان کے کچے پکے جھونپڑے سخت ناپسند ہیں، لہلہاتے کھیت اور سرسبز پہاڑیاں ان کی آنکھوں میں کھٹکتی ہیں، اسی لیے وہ مٹی کے مکان گراتے، کھیت پاٹتے اور پہاڑیاں کاٹتے ہیں اور سیمنٹ اور سریے کے جنگل اگاتے ہیں۔ یہ ملک صاحب ہی کا کمال ہے کہ وہ جن کے گھر اجاڑ کر انہیں بھوک و ننگ کی زندگی کی طرف لے جاتے ہیں انہی بھوکوں کے لیے شہر شہر مفت دستر خوان بھی سجاتے ہیں۔

 اللہ کا کتنا کرم ہے ہم پر کہ ہمیں ملک صاحب اور طارق جمیل صاحب کی شکل میں مشکل کشا ملے ہیں جو ہماری دین اور دنیا دونوں سنوارتے ہیں۔ مگر ہمارے اصل محسن تو نکا جی ہیں جو ہمیں ایک ایسا نیا پاکستان بنا کر دے رہے ہیں جس کی دنیا میں کہی نظیر نہیں ملے گی۔

یہ نکے سے ہمارے محبت اور اس پر اعتماد کی انتہا ہی تو ہے کہ اب ہم بار بار کی شادی اور طلاق جیسی مکروہ باتوں کو بھی برا نہیں سمجھتے۔ کتے بستر میں سوئیں یا اپنے کسی ڈربے میں رہیں، یہ بھی اہم نہیں۔ ہم بےگھر ہوں مگر نکا رہے سینکڑوں کنال کے محل میں۔ یہ بھی قبول۔ ہم پید ل اور نکا گھر سے دفتر بھی جائے ہیلی کاپٹر میں۔ یہ ادا بھی سر آنکھوں پر۔ نکے کے جھوٹ اور غلط بیانیاں ہمارے وہ سنہرے خواب ہیں جو ٹوٹ نہیں رہے۔ نکے کا غصہ ہمارے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیتا ہے۔ نکے کے چیختے چنگھاڑتے نکمے رتن بھی ہمارے امام ہیں۔ کیونکہ نکا تو بس نکا ہے۔

مگر اللہ ہدایت دے اس ملک صاحب کو۔ یہ انہوں نے کیا کر ڈالا۔ پیسہ تو انگلستان سے واپس آ رہا ہے مگر ہم ہیں کہ نکے کو مبارک باد بھی نہیں دے سکتے۔ کسی کے خوف سے۔

---------------------------------------------------------------------

یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ