گورنر سندھ کو بے اختیار بنانے کے تنازعے میں شدت

کچھ عرصہ قبل گورنر سندھ کو مزید بے اختیار بنانے کے لیے سندھ حکومت نے صوبائی محتسب کے ایکٹ 1991میں ترمیم کرکے گورنرسے صوبائی محتسب کی تقرری کا اختیاربھی واپس لے لیا تھا۔

پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کی جانب سے اگست 2018 میں مقرر کیے گئے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے پی پی پی کی سندھ حکومت کا تنازعہ نیا نہیں ہے۔ (ویب سائٹ گورنر سندھ)

پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے درمیاں اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات پر جاری تنازعے میں شدت آرہی ہے۔

سندھ حکومت نے کچھ عرصہ قبل پی ٹی آئی کے گورنر سندھ کے بطور صوبے کی جامعات کے چانسلرشپ کے اختیارات ختم کرنے کا اور اب ان سے وزیراعلی سندھ کے مشیروں اور خصوصی معاونین کی تقرری کا اختیار واپس لینے کا بل سندھ اسمبلی کے ایوان میں جمع کرادیا ہے۔

صوبائی وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ نے ’سندھ ایڈوائزرز اپائنمنٹ پاور ترمیمی بل‘ جمع کرایا جس کے پاس ہونے کے بعد سندھ میں وزیر اعلیٰ کے مشیروں کی تقرری کے لئے گورنر سے منظوری کی شرط ختم کر دی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ ترمیمی بل سندھ اسمبلی نے قائمہ کمیٹی برائے قانون کو بھیجا ہے تاکہ کمیٹی دو ہفتوں میں اپنی سفارشات اسمبلی میں پیش کرے۔ اس ترمیمی بل کے پاس ہونے کے بعد سندھ میں وزیر اعلی کے مشیروں کی تقرری کے لئے گورنر کی منظوری کی شرط ختم کردی جائے گی اور وزیر اعلی اپنے مشیروں اور معاونین کی تقرری گورنر کی اجازت کے بغیر خود کرسکیں گے۔

یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب کچھ عرصہ قبل گورنر سندھ نے پی ٹی آئی رہنما امید علی جونیجو کو اپنا مشیر بنانے کیلئے وزیراعلیٰ کو سمری بھیجی تھی، جسے مراد علی شاہ نے یہ کہہ کر رد کردیا تھا تھا کہ گورنر مشیر نہیں رکھ سکتے۔ بعد میں جب وزیراعلی سندھ نے اپنی کابینہ میں چار نئے مشیروں کو شامل کرنے کے لیے گورنر سندھ کو لکھا تو گورنر سندھ نے صوبائی مشیر براۓ بین الصوبائی رابطہ کے تجویز کردہ نام میر اعجاز جکھرانی پر اعتراض کیا کہ ان پر نیب کے کیس ہیں اور انھیں کابینہ میں شامل نہ کیا جائے۔ انھوں نے مشیر کی تقرری والی سمری کو روک دیا تھا۔ جس کے بعد سندھ حکومت نے یہ بل جمع کراکے گورنر سے یہ اختیارات لینے کا فیصلہ کیا ۔

پی ٹی آئی سندھ کے ترجمان اور سندھ اسمبلی کے رکن جمال صدیقی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پی پی پی کی سندھ حکومت گورنر سندھ کو اس لیے بے اختیار بنانا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنی نااہلی چھپانے کے ساتھ کھل کر کرپشن کرسکے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گورنر سندھ  نے ایک ایسے شخص کو مشیر بنانے پر اعتراض کیا جس پر نیب کے کیسوں کے ساتھ عدالت میں بھی کیس چل رہے ہیں۔ سندھ حکومت گورنر کو اسی لیے مزید بے اختیار بنانا چاہتی ہے۔ تاکہ وہ بغیر کسی مداخلت کے اپنی کرپشن جاری رکھ سکیں۔'

پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کی جانب سے اگست 2018 میں مقرر کیے گئے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے پی پی پی کی سندھ حکومت کا تنازعہ نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے سندھ حکومت نے گورنر سندھ سے صوبے کے جامعات کی چانسلرشپ کے اختیارات بھی واپس لیے تھے۔ 

اس کے علاوہ نومبر میں کراچی کے ریڈ زون میں سندھ گورنر ہاؤس کی ایک جعلی نمبر پلیٹ لگی گاڑی کی خبریں چلنے کے بعد سندھ حکومت نے سول لائن تھانے میں سرکار کی مدعیت میں فراڈ اور جعلسازی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا اور ہدایت کی کہ گورنر ہاؤس کی سب گاڑیوں کی رجسٹریشن کرائی جائے۔ 

 کچھ عرصہ قبل گورنر سندھ کو مزید بے اختیار بنانے کے سندھ حکومت نے صوبائی محتسب کے ایکٹ 1991میں ترمیم کرکے گورنرسے صوبائی محتسب کی تقرری کا اختیاربھی واپس لے لیا تھا۔ 

گورنر سندھ سے جاری سندھ حکومت کے تنازعے کے علاوہ سندھ میں پی ٹی آئی کے اتحادی جماعتوں ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور ایم کیو ایم پاکستان کو بھی سندھ حکومت سے شکایات رہی ہیں جس کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سندھ میں پی ٹی آئی اتحادی جماعتوں کا ایک اجلاس بلالیا ہے۔ جس میں سندھ میں وفاق کے نمائندوں آئی جی سندھ اور چیف سیکریٹری کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان