ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی: وقت جشن منانے کا ہے

‏ رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے ایک بار پھر پیڈ پہن کر میدان میں اترنے والا ہوں جبکہ بازید خان کے مطابق یہ جشن منانے کا وقت ہے۔

راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کے باہر بڑی تعداد میں پولیس نفری تعینات کی گئی ہے(اے ایف پی)

پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کی تاریخ دوبارہ رقم کرنے کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ 11 دسمبر یعنی بدھ کو پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں پہلے ٹیسٹ میچ میں راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملک میں 10 سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میچ کے کامیاب انعقاد کے لیے کمنٹری پینل اور براڈ کاسٹ پلان کا اعلان کر دیا ہے۔ 11 دسمبر سے شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز کی براڈ کاسٹ کوریج ٹین سپورٹس کے اشتراک سے ممکن ہوگی۔

23 مختلف ایچ ڈی کیمروں کی مدد سے تیار پروڈکشن کھیل کے مداحوں کو ٹی وی سکرین سے جوڑے رکھے گی۔ جن میں دو سپر سلو سپن ویژن کیمروں سمیت ایک الٹرا ہائی سپیڈ کیمرہ بھی شامل ہے۔ سیریز کے دوران سٹمپ کیمروں اور ہاک آئی بال ٹریکنگ سمیت جدید پروڈکشن کا یہ نظام امپائرز کو ڈی آر ایس کے فیصلوں میں بھی معاونت فراہم کرے گا۔

دن کے آغاز سے قبل اور اختتام پر سٹریٹ ڈرائیو شو کے ذریعے دن بھر کے کھیل پر تجزیہ کیا جائے گا۔

سابق قومی کرکٹر رمیز راجہ، رسل آرنلڈ، روشان ابے سنگھے، ڈینی موریسن اور بازید خان بطور کمنٹیٹر سیریز کے دوران میدان میں ہر لمحہ بدلتی صورت حال پر تبصرہ کریں گے۔

آئی سی سی ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں شامل دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کو دنیا بھر کے مداحوں تک پہنچانے کے لیے انتہائی پیشہ ور عملہ بھی براڈکاسٹ کریو میں شامل ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 11 سے 15 دسمبر تک راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم جبکہ دوسرا 19 سے 23 دسمبر تک نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔

اس موقع پر قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ وہ دس سال بعد ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی پر بہت خوش ہیں۔ ’خوشی ہے کہ قومی کھلاڑیوں کو ایک دہائی کے بعد اپنے ملک میں ٹیسٹ کرکٹ میچ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ ہی کھیل کی پہچان ہے مگر بدقسمتی سے طویل فارمیٹ کی کرکٹ کی پاکستان واپسی میں بھی ایک طویل عرصہ لگا۔

رمیز راجہ نے  کہا کہ ’جو گزر گیا وہ ماضی ہوگیا اور اب ہم ایک نئی شروعات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی نہیں سوچا تھا دس سال قبل پیش آنے والے واقعے کی پاکستان کو اس قدر بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’یہ لمحات ان کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے وہ ایک بار پھر پیڈ پہن کر میدان میں اترنے والے ہیں۔‘

ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی پر مسرور سابق کرکٹر بازید خان کا کہنا ہے کہ یقین نہیں آ رہا کہ 20 منٹ کی ڈرائیو پر ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوشی اس بات کی ہے کہ میچ کھیلنے والی ٹیم سری لنکا ہے۔

بازید خان نے کہا کہ ’امپائرز کی جانب سے ایک بار پھر پلے کی پکار کا انتظار ہے۔ یہ ہم سب کے لیے جشن منانے کا وقت ہے۔‘

سابق سری لنکن کرکٹ رسل آرنلڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا شمار ان کے پسندیدہ ممالک میں ہوتا ہے۔ ’پاکستان میں کرکٹ سے محبت کرنے والی عوام بستی ہے اور یہاں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی پر خوش ہیں۔‘

پلان کے مطابق دنیا بھر کے شائقین کرکٹ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھ سکیں گے۔ راولپنڈی اور کراچی میں شیڈول دو ٹیسٹ میچز کو ایشیا، مشرق وسطیٰ اور برطانیہ میں سونی اور ٹین چینلز جبکہ آسٹریلیا میں فوکس سپورٹس نشر کرے گا۔ کینیڈا میں ڈی اے زی این، کیریبین میں ٹین کرکٹ اور سب سہارن افریقہ میں سپر سپورٹس پر براہ راست میچز دیکھے جا سکیں گے۔ شائقینِ کرکٹ ملائیشیا میں آسٹرو، شمالی امریکہ میں وِلو جبکہ پاکستان میں ٹین سپورٹس اور پی ٹی وی پر یہ مقابلے دیکھ سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ