20 سال سے تنہا کرسمس منانے والے بزرگ کے لیے سرپرائز

78 سالہ ٹیرنس کے اکیلے کرسمس منانے کے تجربات سن کر ایک ٹی وی پریزینٹر نے ان کے لیے کرسمس پر خوبصورت سرپرائز دیا ہے۔

78 سالہ ٹیرنس 20 سال سے کرسمس تنہا گزار رہے ہیں (سکرین گریب: بی بی سی بریک فاسٹ)

برطانیہ کے ٹی وی پروگرام ’بی بی سی بریک فاسٹ‘ کے ناظرین جمعرات کو پیش کیے جانے والے مارننگ شو کے دوران ’پر اثر‘ اور ’دل کو گرما دینے والے‘ ایک سیگمنٹ کی تعریف کر رہے ہیں جس میں ایک ایسے ضعیف شخص کو دکھایا گیا جو گذشتہ 20 سال سے تنہا کرسمس منا رہے تھے لیکن اس بار انہیں کرسمس ٹری اور کرسمس کے گیتوں کی پرفارمنس سے حیران کر دیا گیا۔

بدھ کو 78 سالہ ٹیرنس نے پریزینٹر ڈین واکر کو انٹرویو دیتے ہوئے گذشتہ سالوں میں اپنی تنہائی کا تجربہ بیان کیا۔

اس سے اگلے دن واکر نے فیصلہ کیا کہ وہ اولڈ ہیم، گریٹر مانچسٹر میں واقع ٹیرنس کے گھر جائیں گے تاکہ وہ ان کی کہانی کو مزید جان سکیں اور موقعے کی مناسبت سے کچھ سرپرائز دے سکیں۔

ٹیرنس نے بتایا کہ یہ دو دہائیوں میں پہلا موقع ہوگا جب کرسمس پر ان کے ساتھ کوئی موجود ہو گا کیونکہ وہ اس سال اپنی 90 سالہ دوست نینسی کے ساتھ کرسمس منائیں گے۔ نینسی ڈیمنشیا سے متاثر ہیں اور ٹیرنس کے ساتھ ان کی ملاقات چیریٹی ادارے ایج یو کے کے توسط سے ہوئی۔

ٹیرنس نے واکر کو بتایا کہ وہ پہلے کرسمس پر اپنی والدہ کو ملنے چلے جایا کرتے تھے، وہ اپنے ساتھ کھانا اور تحائف لے جاتے تھے۔ 

ٹیرنس نے کہا: ’ایک دن انہوں نے مجھ سے کچھ کہا جو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ میری ماں نے مجھے کہا اگر تم میرے لیے کرسمس پر تحائف نہیں لاتے تو میرے پاس کوئی تحفہ نہیں ہوتا۔ اب میں یہی سوچتا ہوں کہ لوگوں کو اب کسی سے تحفے نہیں ملتے۔‘

ٹیرنس سے واکر کو بتایا کہ وہ اس بار کرسمس اپنی دوست نینسی کے ساتھ گزاریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایج یوکے کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہیں ڈیمنشیا سے متاثرہ افراد کے ساتھ رہنے کا تجربہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ جب تک آپ خود کچھ نہیں کرتے تو آپ کو نہیں پتہ ہوتا کہ کیسا محسوس ہوتا ہے، جب تک مجھے خود ڈپریشن نہیں ہوا تب تک مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ کیسا ہوتا ہے۔‘

انہوں نے واکر کو بتایا تھا کہ ان کے پاس کرسمس ٹری نہیں، جس کے بعد واکر نے فیصلہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو قریبی واقع اولڈ ہیم کالج کے طلبہ کی مدد سے حل کریں گے۔

انہوں نے ٹیرنس کے گھر کا درواز کھول دیا جس کے بعد طلبہ اندر داخل ہوئے تو انہوں نے شوخ انداز میں سجا کرسمس ٹری اٹھا رکھا تھا۔

ٹیرنس اس صورت حال کو دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ اپنی نشست سے اٹھے تاکہ وہ طلبہ کا شکریہ ادا کریں اور مصافحہ کر سکیں۔

ضعیف العمر ٹرینس پرنم آنکھوں کو ٹشو سے خشک کرتے بار بار شکریہ ادا کرتے رہے جبکہ واکر انہیں تسلی دیتے رہے، لیکن یہ ان کے لیے واکر کی جانب سے ملنے والا آخری سرپرائز نہیں تھا۔

ٹیرنس سے جب پوچھا گیا کہ ان کا پسندیدہ کرسمس گیت کون سا ہے تو انہوں نے جواب دیا ’سائلنٹ نائٹ‘ جس کے بعد واکر نے دروازہ کھول دیا تاکہ سامنے موجود اولڈ ہیم کالج کی موسیقی کا گروپ ان کے لیے پرفارم کرے۔ 

ٹیرنس ایک خوشی کی کیفیت میں ہی دروازے کے پاس کھڑے تھے، وہ بار بار اپنے آنسو صاف کر رہے تھے اور واکر ان کے عقب میں موجود تھے۔

کئی ٹوئٹر صارفین نے ٹیرنس کو ملنے والے اس خوشیوں بھرے سرپرائز پر مسرت کا اظہار کیا۔ اولمپکس میں فتح یاب ٹیم کے کھلاڑی سیم کوئیک نے ٹویٹ میں کہا: ’یہ بہت عمدہ ہے۔ میں ٹرین میں سفر کرتے ہوئے اپنے آنسو نہیں روک پا رہا۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’میری آنکھیں نم ہیں۔ کیا بہترین انسان ہیں اور کیا خوبصورت چیز ہو رہی ہے۔‘

ایک صارف نے واکر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا: ’وہ تنہائی کے شکار افراد کے درد کو سب کے سامنے لائے ہیں۔‘

ایج یو کے کے مطابق اس سال دو لاکھ ضعیف العمر افراد تنہا کرسمس منائیں گے۔

چیریٹی ادارے کی ریسرچ میں سامنے آیا کہ 65 سال کی عمر سے زیادہ افراد میں سے تین چوتھائی کے مطابق کسی اپنے کو کھونے کے بعد کرسمس منانا بہت مشکل ہے۔ ایک لاکھ ستر ہزار ضعیف افراد اپنے شریک حیات کے بغیر کرسمس منائیں گے۔

ایج یو کے کی سفیر ڈیم ہیلین میرین کہتی ہیں: ’بوڑھا ہونے سے لوگوں کو نئے چیلینجز کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ جان لیوا بیماریاں جیسے کہ ڈیمنشیا، ایسے کسی فرد کو کھونا جو پوری زندگی آپ کا سہارا رہا ہو یا اپنے گھر میں سیڑھیوں سے اترتے ہوئے مشکل پیش آنا۔ اس سے بھی زیادہ بدترین بات ہے کہ ان لوگوں کی مدد کرنے کے لیے کوئی موجود نہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا