من موہن سنگھ کا بچپن اور خیال کی دنیا کا ایک کونہ

شاعر نے تو کہا تھا کہ یادِ ماضی عذاب ہے، لیکن حقیقت میں اس کے برعکس ہوتا ہے، اور ماضی ہمیشہ سہانا لگتا ہے۔

من موہن سنگھ کے دل میں آج بھی اپنے آبائی گاؤں کو دیکھنے کی حسرت موجود ہے (اے ایف پی)

سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا آبائی گاؤں ’گاہ‘ ضلع چکوال میں ہمارے گاؤں کے پاس واقع ہے۔ انہوں نے پون صدی قبل جس پرائمری سکول میں زمین پر بیٹھ کر ابتدائی کلاسیں پڑھیں اور جن کچی گلیوں میں ہم جولیوں کے ساتھ کھیلتے اپنا بچپن گزارا، وہ علاقہ آج بھی اتنا پسماندہ ہے کہ شام کے بعد ٹرانسپورٹ کا ملنا محال ہے۔

تقسیم ہند سے پہلے من موہن سنگھ کے بچپن میں جب یہاں سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور بجلی جیسی سہولتوں کا تصور بھی نہیں تھا، اس دور میں اس علاقے کی پسماندگی کا اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں۔

ماضی جیسا بھی ہو، انسان کو وہ ہمیشہ سہانا لگتا ہے۔ ایسا ہی من موہن سنگھ کے ساتھ بھی ہوا۔ جب وہ بھارت کے وزیرِ اعظم بن گئے تو گاہ سے ان کے ایک پرانے کلاس فیلو راجہ محمد علی ہندوستان جا کر ان سے ملے تو سکول کا پرانا رجسٹرحاضری بھی ساتھ لے گئے۔

جب انہوں نے اس رجسٹر میں وزیراعظم کو ان کا نام اور حاضریاں دکھائیں تو ماضی کی یادوں کے چراغ جل اٹھے۔ کسی حساس آدمی کے لیے من موہن سنگھ کی ان اندرونی کیفیات کو سمجھنا مشکل نہیں کہ اس وقت ان کے ذہن کے پردے پر گاہ کی پرانی گلیوں، سکول اور کھیتوں کے مناظر چل رہے تھے۔ تب انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کا ملمع اتارے بغیر مسمات اللہ رکھی تک اپنے تمام 17 کلاس فیلوز کے بارے میں پوچھا، جن کی اکثریت دارِ فانی سے کوچ کر چکی تھی۔

اگر من موہن سنگھ کے لیے اپنے منصب کا خول اتارنا ممکن ہوتا تو کچھ عجب نہیں کہ رفتگان کے اعزاز میں دل کے ساتھ ساتھ ان کی آنکھیں بھی بھر آتیں۔ انہوں نے بھارت سرکار کے خرچے پر گاہ میں سولر سسٹم اور پورے گاؤں کے لیے روٹی پکانے کی مشین نصب کرائی، انسانوں اور جانوروں کے لیے ڈسپنسریاں، ہائی سکول اور سڑک تعمیر کرائی تو یہ بھی انہی دلی کیفیات کا شاخسانہ ہیں۔ سابق بھارتی وزیراعظم نے اپنے آبائی گاؤں آنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا، حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں ابتدائی انتظامات بھی کیے لیکن بوجہ ایساممکن نہ ہو سکا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

من موہن سنگھ نے کرتارپورکے اپنے حالیہ دورے میں بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک دفعہ اپنا گاؤں دیکھنے کی خواہش کااظہارکیا۔ سابق بھارتی وزیراعظم نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے31مارچ1941 کو یہاں سے چوتھی جماعت پاس کی تھی، جہاں ہم جماعت انہیں ’موہنا‘ کہہ کر بلاتے تھے اور آج بھی ان میں سے کوئی مِل جائے تو مجھے موہناہی کہتاہے۔

ہماراناقص سا دعویٰ ہے کہ ہم سب کے دماغ کے اس مخصوص کونے میں ایک’ موہنا‘ بُکل مارے بیٹھا ہے مگر ہم اپنے بچپن کی پسماندگی عیاں ہونے کے ڈرسے اسے دبائے رکھتے ہیں۔ آپ سے کیا چھپانا، خود ہم بھی اپنے خیال کے اس کونے کی ’نقاب کشائی ‘ سے پرہیز ہی کرتے ہیں۔ مگر برا ہو اس سادگی کا کہ اکثر ہمارا عزم ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ اس حرکت کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ تاریک ماضی آشکار کرنے سے ایک تو اپنا شرمناک ماضی عیاں ہوتا ہے اور دوسرے عمرِ عزیز کے بارے میں خواہ مخواہ شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔

گذشتہ برس بیٹھک کے صحن میں بیٹھے بیٹھے ہم شیطان کے بہکاوے میں آ گئے اور موضوع سخن کے اعتبار سے ڈینگ مار دی کہ جب ضیاء الحق نے بھٹو حکومت پر شب خون مارا تو ہم ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ اس وقت فوراً ہی ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا جب ہمارے ایک بھتیجے نے چونک کر کہا، ’ہیں! آپ اتنے پرانے ہیں؟‘

اس کے بعد ہم محتاط ہو گئے۔ ایک دن خاندان کے بچوں کی محفل میں ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ میں سے کسی نے چرخہ دیکھا ہے؟ سب خاموش ہو گئے۔ ایک بچی نے دعویٰ کیا کہ اس نے یہ آلہ دیکھ رکھا ہے۔ ہم نے پوچھا ’کہاں؟‘ اس نے ترنت جواب دیا، ’ٹی وی پر!‘

ہم نے سوچا کہ وقت بھی کتنی ظالم شے ہے۔ کتنا پانی چپکے چپکے پلوں کے نیچے سے بہہ گیا اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔ جو اشیا دیہی وسیب کی جزو لاینفک تھیں، وہ یوں قصہ پارینہ ہوئیں کہ اگر ہمارے بچے انٹر نیٹ پر سرچ کریں تب بھی شاید ان میں سے زیادہ اشیا کی زیارت سے محروم رہیں۔ ہماری محتاط طبیعت آڑے آئی ورنہ دل چاہا، انہیں بتائیں کہ بچپن میں اسی حویلی میں ہر شب ہماری آنکھ دادی جان کے چرخے کی آواز سنتے لگی ہے اور ہر صبح گھر کی چکی کی آواز پر کھلی ہے۔ ہم انہیں یہ بھی بتانا چاہتے تھے کہ ہمارے بچپن میں بھی چرخہ ٹی وی پر آتا تھا مگر ہم اسے سدا رو برو ہی دیکھ سکے کیونکہ گاؤں میں بجلی نہیں تھی مگر ہم نے اپنے جذبات پر قابو پایا اور پرانا قرار پانے کے ڈر سے زیادہ سچ بولنے سے گریز کیا۔

تاہم جیسا کہ عرض کیا گیا، ہماری مایہ ناز سادگی کے طفیل اکثر یہ ملمع برقرار نہیں رہتا۔ ایک دن ہمارے بچوں نے اپنے تعلیمی معاملات پر بات کرتے ہم سے ہماری ابتدائی تعلیم کی تاریخ کریدنا شروع کر دی۔ ہم نے دلِ ناداں کے جھانسے میں آتے ہوئے بچوں کو بتایا کہ ہمارا سکول تین چار بوسیدہ کمروں پر مشتمل تھا اورہماری کلاس کسب فیض کے لیے لہلہاتی فصلوں کے درمیان واقع سکول کے صحن میں بیری کے درخت کے نیچے بیٹھتی تھی۔ چونکہ سکول چار دیواری جیسے تکلفات سے پاک تھا، لہٰذا اکثر گاؤں کے کسان یا مسافر شارٹ کٹ استعمال کرتے ہوئے سکول کے مشرق سے طلوع ہوتے اور صحن پار کرتے مغرب میں غروب ہو جاتے۔ کبھی کبھار تو یوں بھی ہوتا کہ دو چار بکریاں یاکوئی گدھا چرتے چراتے سکول میں داخل ہوتے اور کلاسوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے ’سرِعام‘ تعلیم حاصل کرتے بچوں پر ایک طائرانہ سی نگاہ ڈال کر دوسری طرف نکل جاتے۔ ایک اور انکشاف نے بھی ہمارا امیج خاصا خراب کیا کہ متوسط زمیندار برادری سے تعلق رکھنے کے باوجود ہمارے گھروں میں کسی کے پاس گھڑی تھی، نہ ریڈیو۔

 ایسے ناقابل یقین انکشافات سے بچوں کی نظروں میں ہمارا امیج خاصا کمزور ہوا۔ ہم نے سوچا کہ اپنے ماضی سے جذباتی وابستگی بجا مگر اسے آشکار کرنے سے گریز ہی بہتر ہے۔ ویسے ذاتی ماضی پرتو جھوٹ بول کر مٹی ڈالی جا سکتی ہے، لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہم ایسے طالب علموں کی طرح کئی قوموں کا ماضی بھی خاصا شرمناک ہوتا ہے۔ ہم جتنا مرضی اپنے بچوں کو تاریخ مسخ کر کے پڑھائیں مگرانٹرنیٹ کے عہد میں کوئی چیز ان سے چھپی رہنا ممکن نہیں رہا۔ وہ کئی قوموں کے ماضی کے حوالے سے ایسے ایسے سوال کرتے ہیں ہمارے جیسے نام نہاد دانشور آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ