بریگزٹ: پارلیمان کی ابتدائی توثیق سے راہ ہموار

ووٹنگ کے بعد بورس جانسن نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ اب ہم بریگزٹ کی تکمیل کے لیے ایک قدم قریب آ گئے ہیں۔

لندن میں 20 دسمبر کو دارالعوام کے ایک اجلاس میں  شریک وزیر اعظم بورس جانسن (اے ایف پی)

برطانیہ کی نئی پارلیمان نے یورپی یونین سے انخلا کے لیے یورپی یونین کے ساتھ نئی بریگزٹ ڈیل کی ابتدائی توثیق کر دی ہے جس سے 31 جنوری کو بریگزٹ کی تکمیل آسان ہو گئی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا انتخابی نعرہ ’بریگزٹ کی تکمیل‘ تھا اور اس توثیق سے انہیں اس وعدے کی تکمیل کرنے میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ یاد رہے کہ برطانوی پارلیمان نے 234 کے مقابلے میں 358 ووٹ سے یہ توثیق کی ہے۔

ووٹنگ کے بعد بورس جانسن نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ اب ہم بریگزٹ کی تکمیل کے لیے ایک قدم قریب آ گئے ہیں۔

برطانوی دارالعوام میں اس معاملے پر فیصلہ کن ووٹنگ 9 جنوری کو متوقع ہے۔

قبل ازیں برطانیہ کے عام انتخابات میں بورس جانسن کی ٹوری پارٹی کی فیصلہ کن کامیابی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ برطانیہ وعدے کے مطابق 31 جنوری کو یورپی یونین سے نکل جائے گا۔

بورس جانسن جب انتخابات میں کامیاب ہوئے تو اس کے چند گھنٹے بعد ہی برسلز میں یورپی یونین رہنماؤں کے اجلاس میں بریگزٹ کے بعد برطانیہ کے ساتھ تجارت کے لیے یورپی ترجیحات پر غور کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بورس جانسن نے عندیہ دیا تھا کہ وہ 2020 کے آخر تک عبوری مدت ختم ہونے سے پہلے یورپی یونین کے ساتھ نیا تجارتی معاہدہ کریں گے اور یونین سے عبوری مدت میں توسیع کے لیے نہیں کہیں گے۔

دوسری جانب خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زیادہ تر ماہرین متفق ہیں کہ برطانیہ کے شایان شان ایسا معاہدہ جو اسے یورپ کے قریب ترین شراکت داروں میں شامل کروا دے اس کے لیے اضافی وقت کی ضرورت ہوگی۔

مبصرین کے مطابق بورس جانسن کی تمام کوششوں کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ تجارتی معاہدے اتنی آسانی سے طے نہیں پا سکتے خاص طور پر اگر برطانیہ یورپی ملکوں کے ساتھ بہت مختلف قسم کے تعلقات رکھنا چاہتا ہو۔

رواں ماہ یورپی پالیسی سینٹر کے چیف اکنامسٹ فیبیان زولیگ کا کہنا تھا کہ تیزی سے کیا جانے والا معاہدہ ’ایک بڑا مطالبہ‘ ہوگا جو اس معاہدے کے مقاصد کو بڑی حد تک محدود کر دے گا۔

چیف اکانومسٹ زولیگ کا مزید کہنا تھا کہ ڈیڈلائن میں توسیع کے بغیر’شاید وہ بے حد بنیادی نوعیت کے معاملات بھی نہ سنبھال سکیں جس سے برطانیہ کو خدمات، ماہی پروری یا سپین کے لیے جبل الطارق جیسے نازک معاملات بھی شامل ہیں۔‘

حوالے کے طور پر دوسرے یورپی تجارتی مذاکرات کا ذکر کیا گیا جن کے آغاز اور ان پر عمل درآمد میں بہت زیادہ وقت لگا۔

کینیڈا معاہدہ: 8.5 سال، جاپان: 6.5 سال، سنگاپور: نو سال، ویت نام: اب تک سات سال، جنوبی امریکہ کا تجارتی بلاک (مرکسور): اب تک 20 سال۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ