’نوجوان ٹیلنٹ خصوصاً خواتین فنکاروں کی مدد کرنا چاہتا ہوں‘

علی ظفر کہتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ نئے لوگوں کو موقع دینا چاہتے ہیں خصوصاً لڑکیوں کو کیونکہ پاکستان میں یہ بلاوجہ ایک عام رائے ہے کہ لڑکیاں موسیقی میں نہیں آسکتیں۔

علی ظفر پاکستان کا جانا پہچانا نام ہیں اور صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا خصوصاً بالی وڈ میں ان کی کافی شہرت ہے جہاں وہ کترینہ کیف، ادیتی راؤ حیدری، تاپسی پنّو اور یامی گوتم کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔

گذشتہ برس پاکستان میں ان کی فلم ’طیفا ان ٹربل‘ نے ریکارڈ بزنس کیا تھا اور وہ پاکستان کی سب سے بڑی فلم بن گئی تھی جو عید پر ریلیز ہوئے بغیر 50 کروڑ کا ہندسہ پار کرسکی تھی۔ تاہم اس فلم کے بعد سے علی ظفر کی جانب سے مزید کسی فلم کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

انڈیپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے نامور گلوکار اور اداکار علی ظفر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فلم ’طیفا ان ٹربل‘ کے سیکیوئل پر کام کر رہے ہیں اس لیے وہ بڑی سکرین سے غائب ہیں۔ علی ظفر نے کہا کہ وہ صرف اس لیے کام نہیں کرتے کہ ان کی مارکیٹ بنی رہے بلکہ وہ وقت لگا کر اچھی چیز تیار کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ چاہے گانا ہو، فلم ہو یا پھر کوئی ویڈیو اس کا معیار بہترین ہو اور معیاری کام میں وقت لگتا ہے اور لوگ بھی ان سے ایک خاص معیار قائم رکھنے کی توقع رکھتے ہیں۔

تاہم علی ظفر نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کے ’طیفا ان ٹربل 2‘ کی ہیروئین‘ کون ہوں گی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ فی الحال ایک راز ہے۔

علی ظفر کی شوبز میں آمد بطور گلوکار ہوئی تھی پھر انہوں نے اداکاری بھی شروع کر دی، تو انہیں ذاتی طور پر کیا پسند ہے۔ اس بارے میں علی ظفر نے کہا کہ انہیں گلوکاری اور اداکاری دونوں میں بہت مزہ آتا ہے تاہم دونوں میں وقت لگتا ہے اسی لیے وہ سال میں صرف ایک ہی فلم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ بالی وڈ میں بھی کام کرتے تھے تو سال کی صرف ایک ہی فلم کرتے تھے کیونکہ وہ موسیقی جو ان کا شوق بلکہ جنون ہے اس کو زیادہ وقت دے سکیں۔

علی ظفر نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے اس لیے وہ نئے لوگوں کو موقع دینا چاہتے ہیں جیسے حال ہی میں انہوں نے یشل شاہد کو موقع دیا جن کا گانا ’سجنا‘ وجہ شہرت بنا اور پھر عروج فاطمہ کو موقع دیا جن کا گانا ’لیلیٰ اور لیلیٰ ‘ بہت مشہور ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ نئے لوگوں کو موقع دینا چاہتے ہیں خصوصاً لڑکیوں کو کیونکہ پاکستان میں یہ بلاوجہ ایک عام رائے ہے کہ لڑکیاں موسیقی میں نہیں آسکتیں، لہٰذا ’میں ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنے خواب پورے کرسکیں۔‘

علی ظفر نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ معاشرے کی جانب سے انہیں جو عزت اور پیار ملا ہے وہ اسے لوٹائیں اور نئے لوگوں کی مدد کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے پاکستان سے زیادہ بالی وڈ کی فلموں میں کام کیا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کام کریں اور یہ معیشت کے لیے ضروری ہے کیونکہ پھر اس کا اثر نیچے تک جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں بہت غربت ہے اس لیے بہت اہم ہے کہ تمام مسائل حل کیے جائیں۔ ’اصل مسئلہ کشمیر کا ہے اور کشمیر کے لوگوں کی آواز بہت اہم ہے اور ان کی آواز سنی جانی چاہیے۔ یہ مسئلہ حل ہو گیا تو ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، لوگ ترقی کریں گے اور فلمی صنعت بھی آگے بڑھے گی اس لیے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا چاہیے اور یہ دونوں ممالک کے لیے ہر اعتبار سے اچھا ہوگا۔‘

اپنے بھائی دانیال ظفر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی سے کہہ چکے ہیں کہ اس کا سفر اس کا اپنا ہوگا اور وہ اسے صرف رہنمائی ہی فراہم کریں گے۔ ’جو جدوجہد میں نے کی ہے وہ ضروری تھی اور وہ ہر ایک کے لیے ضروری ہوتی ہے‘۔

دانیال ظفر کے نئے گانے ’بلیو بٹر فلائی‘ کی ویڈیو پر پاکستان میں بہت کڑی نکتہ چینی ہوئی اور اس کا بہت مذاق بنا، اس بارے میں علی ظفر کا کہنا تھا کہ وہ انگریزی کا گانا ہے جو بینالاقوامی سامعین و ناظرین کے لیے بنا تھا نہ کہ مقامی لوگوں کے لیے اور عالمی طور پر اس کے گانے کو سراہا گیا ہے اور وہاں کئی جریدوں میں اس پر فیچر لکھے گئے ہیں۔ پاکستان میں لوگوں کو کچھ نہ کچھ چاہیے ہوتا ہے جسے میں سمجھتا ہوں اور دانیال بھی یہ سمجھتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن