گوادر کی پہلی گلوکارہ مہر بلوچ مستقبل سے مایوس نہیں

میں یہ نہیں سوچتی کہ لوگ میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ میں لوگوں کی تنقید کی بجائے صرف اپنے کام پر توجہ دیتی ہوں کیونکہ میری فیملی میرے ساتھ ہے: مہر بلوچ

مہر بلوچ کے    اب تک دو البم ریلیز ہو چکے ہیں۔ (تصویر: مہر بلوچ فیس بک پیج)

مہر بلوچ گوادر کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا اور تھوڑے ہی عرصے میں اپنا ایک مقام بنا لیا۔ 

ان کے اب تک دو البم ریلیز ہو چکے ہیں، جنہیں عوام کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔

مہر بلوچ کہتی ہیں کہ وہ بلوچی کے لیجنڈ سنگر استاد جاڑوک، دینارزئی اور برصغیر کی معروف گلوکارہ لتا منگیشکر سے متاثر ہیں اور ان کے گائے ہوئے گیت سن کر کافی کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔

موسیقی کی طرف آنے کے بارے میں انہوں نے بتایا: ’مجھے بچپن سے موسیقی کا شوق تھا۔ سکول کے زمانے میں، میں نعتیں پڑھتی تھی، میری بچپن سے یہی خواہش تھی کہ گلوکارہ بن جاؤں۔ یہ خواہش اس وقت پوری ہوئی جب 2016 میں میری پہلی البم ریلیز ہوئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتی ہیں کہ بلوچ خواتین موسیقی کی طرف بہت کم آتی ہیں، مگر جذبے اور خاندان کا سہارا ہو تو انسان ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ ’والدین کی حمایت اور پشت پناہی کی وجہ سے آج میں مزید موسیقی سیکھ رہی ہوں۔‘

 گوادر میں عورتوں کے لیے میوزک اکیڈمی نہ ہونے کی وجہ سے وہ گھر میں موسیقی سیکھ رہی ہیں۔ مہر نے بتایا: ’گوادر میں ایک میوزک اکیڈمی ضرور ہے، مگر وہاں صرف مرد حضرات موسیقی سیکھ رہے ہیں اور کسی عورت کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ وہاں جا کر موسیقی کی دھنیں اور راگ سیکھ سکے۔‘ 

روایتی معاشرے سے تعلق ہونے کی وجہ سے مہر بلوچ کے گلوکاری کے شوق پر تنقید بھی ہوئی ہے۔ اس بارے میں وہ کہتی ہیں: ’میں یہ نہیں سوچتی کہ لوگ میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ میں لوگوں کی تنقید کی بجائے صرف اپنے کام پر توجہ دیتی ہوں کیونکہ میری فیملی میرے ساتھ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں کئی ایسی عورتوں کو جانتی ہوں جو موسیقی، ادب اور آرٹس کا نہ صرف شوق رکھتی ہیں بلکہ ان کے اندر صلاحیتیں بھی موجود ہیں مگر سماجی اور معاشرتی رویوں کی وجہ سے وہ آگے نہیں آ رہیں اور ان کی ادھوری خواہشات صرف خواب بن کر رہ گئی ہیں۔‘

مہر بلوچ کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے کی خواتین میں بہت صلاحیت موجود ہے اور وہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں مردوں سے کم نہیں ہیں مگر یہاں معاشرتی زنجیروں میں جکڑی ہوئی عورتوں کو آگے آنے میں مشکلات ضرور درپیش آتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں اپنے کام پر توجہ مرکوز کرکے معاشرے کے لوگوں کو بتانا ہوگا کہ اس معاشرے میں عورت پر اعتماد کرکے اس کے اندر موجود صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، کیونکہ ہم بھی معاشرے کے سفیر ہوتے ہیں۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی