’نیب آرڈیننس میں ترمیم شہریوں سے امتیازی سلوک کا باعث بنے گی‘

حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس میں ترمیم کے ذریعے محکمانہ فیصلے یا غفلت کے نتیجے میں مالی فائدہ نہ حاصل کرنے والے سرکاری ملازمین اور 50 کروڑ روپے سے کم کی کرپشن یا مالی سکینڈل سے متعلق کارروائی نیب کے اختیار کے باہر کردی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی احتساب (ترمیمی) آرڈیننس 2019 پر جمعے کی رات دستخط کر دیے جس کے بعد یہ قانون بن گیا ہے (ریڈیو پاکستان)

تحریک انصاف حکومت نے احتساب سے متعلق قانون میں ترمیم کرتے ہوئے محکمانہ غفلت یا غلطیوں کامرتکب پائے جانے والے سرکاری ملازمین اور ٹیکس، سٹاک ایکسچینج اور آئی پی اوز کے معاملات کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے دائرہ اختیار سے باہر کر دیا ہے۔

قومی احتساب آرڈیننس 1999میں ترمیم کے ذریعے حکومت نے نیب پر 50 کروڑ روپے سے کم کی کرپشن یا مالی سکینڈل سے متعلق کارروائی کرنے کی پابند ی بھی لگا دی ہے۔  

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی احتساب (ترمیمی) آرڈیننس 2019 پر جمعے کی رات دستخط کر دیے جس کے بعد یہ قانون بن گیا ہے۔

تاہم چونکہ نیا قانون صدارتی آرڈیننس کے ذریعے لاگو کیا گیا ہے اس کی زندگی صرف 90 دن ہو گی جس کے بعد پارلیمان سے منظور نہ ہونے کی صورت میں یہ صدارتی آرڈیننس خود بخود ختم ہو جائے گا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزارت قانون و انصاف کی اس آرڈیننس سے متعلق تیار کی گئی سمری جمعرات کے روزہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش نہ کی جا سکی۔

اس لیے احتساب سے متعلق قانون میں ترمیم کے مسودے کی منظوری گردشی عمل یعنی سرکولیشن کے ذریعے لی گئی۔

کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے وفاقی کابینہ کے اراکین کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ اس سمری کی منظوری گردشی عمل کے ذریعے لی جائے۔

مراسلے میں بیان کیا گیا ہے: ’گردشی عمل کے تحت منظوری کے لیے اگر کوئی چیز وزرا کو بھیجی جائے اور اگر کوئی وزیر اس کا جواب نہ دے تو رولز آف بزنس 1973کے تحت اس کو مذکورہ وزیر کی طرف سے ہاں تصور کیا جائے گا۔‘

وزیر اعظم عمران خان نے جمعے کو کراچی میں بزنس مینوں کی تقریب سے خطاب میں سب سے پہلے اس ترمیم کا ذکر کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ کاروباری حضرات نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے پریشان ہیں اور اپنے کاروبار کی طرف توجہ نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا اور اسی لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ نیب کو کاروبار کرنے والے لوگوں سے دور رکھا جائے۔

ترمیم میں کیا ہے؟

جمعے کی رات منظور ہونے والے قومی احتساب (ترمیمی) آرڈیننس 2019کے ذریعے ملک میں رائج  احتساب کے قانون قومی احتساب آرڈیننس 1999کی دفعہ نمبر 9(6)میں تبدیلی کی گئی ہے جس کی نمایا خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ نیب صرف ان عوامی عہدہ رکھنے والے یا سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کر سکے گا جن کا کسی غلط محکمانہ فیصلے یا کارروائی یا غفلت کے نتیجے میں مالی فائدہ حاصل کرنا ثابت ہو۔

2۔اگر کسی سرکاری ملازم کی محکمانہ غفلت یا نقص کسی سرکاری کام یا پراجیکٹ میں نقصان کا باعث بنے ہو لیکن اس غلطی یا نقص سے اس ملازم نے کوئی مالی فائدہ حاصل نہ کیا ہو تو اس کے خلاف نیب کوئی کارروائی نہیں کر سکے گا۔

3۔ نیب سرکاری ملازمین کی جائیداد عدالتی حکم کے تحت ہی منجمد کر سکے گا۔

4۔ تین ماہ میں نیب کی تحقیقات مکمل نہ ہونے کی صورت میں گرفتار سرکاری ملازم ضمانت کا حق دار ہو گا۔

 5۔ کسی سرکاری ملازم کے اثاثوں میں اس کی آمدن کی نسبت بے دریغ اضافے کی صورت میں اس کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام کے تحت نیب کارروائی کر سکے گا۔

6۔نیب صرف 50 کروڑ روپے سے زیادہ کی کرپشن یا مالی سکینڈل میں کارروائی کرنے کا حق رکھے گا۔

7۔ٹیکس، سٹاک ایکسچینج اور آئی پی اوز سے متعلق معاملات نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں رہے گے۔

8۔ان معاملات پر ایف بی آر، اس ای سی پی اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کارروائی کر سکیں گے۔

9۔زمین کی قیمت کے تعین کے لیے نیب ایف بی آر یا ڈسٹرکٹ کلکٹر کی طے کردہ قیمتوں سے کسی کارروائی کے سلسلے میں رہنمائی لے گا۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ترمیمی آرڈیننس کی منظوری کی خبر آتے ہی مختلف حلقوں میں اس پر تبصرے شروع ہو گئے ہیں۔ اکثر لوگ اسے تحریک انصاف کی بدنیتی پر منتج کرتے ہیں۔تاہم قانونی ماہرین نے نئے آرڈیننس سے متعلق منقسم آرا کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد میں پریکٹس کرنے والے سپریم کورٹ کے وکیل کامران مرتضیٰ نے اس ترمیم کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کی شق نمبر 35کے صریحا خلاف ہے۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئین تمام شہریوں کے ساتھ برابری کا سلوک یقینی بنانے کی بات کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا:’آپ یوں ایک شہری کو ایک قانون اور دوسرے کو مختلف قانون کے ذریعے ڈیل نہیں کر سکتے۔ کاروباری حضرات کیوں اس مخصوص ترمیم کے تحت احتساب سے مستثنیٰ قرار دیے جا سکتے ہیں جبکہ باقی کے سارے پاکستانیوں کے ساتھ نیب الگ سے سلوک کرے گا۔‘

ان کا خیال تھا کہ یہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 35کے تحت عدالت عالیہ میں چیلنج ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمین کو احتساب سے اس لیے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے کیونکہ موجودہ حکومت کی پالیسی کے باعث نیب سرکاری ملازمین کو بے دریغ گرفتار کر رہا ہے، جس کے باعث سرکاری محکموں میں کام متاثر ہو رہا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ترمیمی قانون کے ذریعے اختیارات کے غلط استعمال کی تعریف یکسر بدل دی گئی ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ قانون ماضی میں سرکاری ملازمین کے خلاف قائم کیے گئے کرپشن کے مقدموں پر بھی لاگو ہو گا؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے۔

بیرسٹر مسرور شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اس  خیال کا اظہارکیا کہ حکومت بڑے سکینڈلز میں مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں پشاور میں گذشتہ تین سال سے جاری بی آرٹی منصوبے کی طرف بھی اشارہ کیا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی غیر قانونی کام ضابطے کی غلطی سے شروع ہوتا ہے اور کسی بھی ایسے کیس میں ظاہری طور پر براہ راست کسی کو مالی فائدہ نہیں پہنچتا۔

سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر کے مطابق:’ سرکاری ملازمین کی محکمانہ غلطی یا غفلت بہت ہی سبجیکٹیوsubjective) (مسئلہ ہےکیونکہ تمام فیصلے اچھی نیت سے ہوتے ہیں اور فیصلے اور اقدامات بھی غلط نتائج کی وجہ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی کافی ابہام پایا جاتا ہے اور حکومت کو اسے دور کرنا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان