مسلم لیگ ن کا آرمی ایکٹ پر’یو ٹرن‘؟

آرمی ایکٹ میں ترامیم کے بل پر پی ٹی آئی حکومت کی حمایت پر مسلم لیگ ن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ٹوئٹر پر لوگ ’ووٹ کو عزت دو‘ کے پیش ٹیگ کے ساتھ مسلم لیگ ن پر تنقید کر رہے ہیں۔(تصویر: اے ایف پی)

سپریم کورٹ کی ہدایت پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کے لیے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا، جب کہ بل کو آج سینیٹ میں بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر 2019 کو ریٹائر ہونا تھا، تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کی ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی تھی جسے ریاض حنیف راہی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

مذکورہ درخواست پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک تین رکنی بینچ نے گذشہ ماہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کی اجازت دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کی ہدایت کی تھی۔

اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بینچ نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ قانون سازی نہ ہونے کی صورت میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اپنے عہدے سے سبکدوش تصور ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کی گئی ہے، جس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت اور توسیع کا طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری پہلے ہی دی جاچکی ہے۔

جس کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی سے بھی بل کی حمایت کرنے کے سلسلے میں مدد مانگی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی آرمی ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی واضح حمایت حاصل نہیں کرسکی۔ پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس حوالے سے بات کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی جماعت جمہوری قانون سازی کے عمل میں مثبت طور پر شامل ہونا چاہتی ہے۔

بلاول کا مزید کہنا تھا: ’جمہوری عمل پر عمل پیرا ہونا ہمارے لیے قانون سازی جتنا اہمیت کا حامل ہے۔ پیپلز پارٹی اس کو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی اٹھائے گی۔‘

تاہم بلاول کے اس پیغام سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ پیپلز پارٹی آرمی ایکٹ کی ترمیم کے معاملے پر حکومت کی حمایت کرے گی یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹوئٹر صارفین سوال کرتے نظر آئے: ’آپ کی طرف سے ہاں ہے یا ناں؟‘

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے آرمی ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے آرمی ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے اپنی پارٹی کو کچھ ہدایات جاری کی ہیں، جن کے مطابق: ’اہم بل 24 یا 48 گھنٹوں میں منظور نہیں کیے جاتے لہٰذا آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے لیے کم سے کم یہ ٹائم فریم اپنایا جائے کہ بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے اور قائمہ کمیٹی کو ریفر کردیا جائے۔‘

واضح رہے کہ ابھی تک مسلم لیگ ن کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کے حوالے سے کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کے حوالے سے چلنے والی خبروں پر سوشل میڈیا صارفین خوب تبصرے کر رہے ہیں اور ’ووٹ کو عزت دو‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ مسلم لیگ ن کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

صحافی سید طلعت حسین نے ٹوئٹر پر لکھا: ’شہباز شریف اور نواز شریف نے آرمی ایکٹ کی ترامیم پر پی ٹی آئی کا تھوکا چاٹ کر آج ووٹ اور ووٹر کو تاریخی عزت دی ہے۔‘

فریحہ بٹ نامی ایک صارف نے لکھا: ’اگر ایسا ہوا تو میں مسلم لیگ ن کو کبھی ووٹ نہیں دوں گی۔‘

اویس نثار نے میمز کی دنیا کی ایک اہم کردار ’آنٹی گورمنٹ‘ کی تصویر کے ساتھ لکھا: ’یہ خاتون یاد ہیں؟ وہ بالکل درست کہہ رہی تھیں۔‘ مذکورہ خاتون نے اپنے ایک انٹرویو میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ سب مل کر ہمیں پاگل بنا رہے ہیں۔‘

ارسلان رفیق نامی ایک صارف نے مشہور ڈرامہ سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ کی ایک کردار مہوش کو پڑنے والے تھپڑ کے سین کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’مسلم لیگ ن کے ووٹرز کے منہ پر ایک طمانچہ۔‘

عبداللہ خان نامی صارف نے ایک ٹوٹی ہوئی پلیٹ کی تصویر شیئر کی، جسے سنی پلاسٹ لگا کر جوڑا گیا تھا اور ساتھ میں لکھا: ’ووٹ کو عزت دو کا حال۔‘

عدیل اشرف نامی صارف نے اسے ’2020 کا پہلا یو ٹرن‘ قرار دیا۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل