وہ سب جو گولڈن گلوبز ایوارڈز میں پہلی بار ہوا

77 ویں گولڈن گلوبز ایوارڈز کی تقریب میں اس وقت تاریخ رقم ہوئی جب ’جوکر‘ سب سے زیادہ ایوارڈز جیتنے والی کامک بک پر مبنی فلم بن گئی، جب کہ جوکر کا کردار نبھانے والے واکین فینکس اس رول کے لیے اعزاز جیتنے والے دوسرے اداکار بن گئے۔

واکین فینکس جوکر کا کردار نبھانے والے گولڈن گلوب جیتنے والے دوسرے اداکار بن گئے  جبکہ اوکوافینا بہترین کامیڈی اداکارہ کا ایوارڈ جیتنے والی پہلی ایشیائی نژاد اداکارہ بن گئیں۔ (اے ایف پی)

اتوار کو منعقد ہونے والے 77 ویں گولڈن گلوبز ایوارڈز کی تقریب میں اس وقت تاریخ رقم ہوئی جب اوکوافینا بہترین کامیڈی اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی ایشیائی نژاد اداکارہ بنیں جب کہ ’جوکر‘ گولڈن گلوبز کی تاریخ میں سب سے زیادہ ایوارڈز جیتنے والی کامک بک پر مبنی فلم بن گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ واکین فینکس کو ’بیٹ مین‘ کامکس کے ولن جوکر کا کردار نبھانے پر گولڈن گلوب جیتنے والے دوسرے اداکار بن گئے۔

امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں ہونے والی تقریب میں پہلی عالمی جنگ پر مبنی فلم ’1917‘ نے ٹاپ انعام یعنی بہترین ڈراما فلم جیت کر اور کوئنٹن ٹیرینٹینو کی فلم ’ونس اپون آ ٹائم۔۔۔ اِن ہالی وڈ‘ نے بہترین کامیڈی فلم کا ایوارڈ جیت کر اگلے ماہ ہونے والے آسکر ایوارڈز کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کرلی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 1960 کی دہائی کے ہالی وڈ  کو خراج عقیدت پیش کرتی فلم ’ونس اپون آ ٹائم۔۔۔‘ تین ایوارڈز اپنے نام کرکے رات کی سب سے زیادہ کامیاب فلم رہی، جب کہ مارٹن سکورسیزی کی فلم ’دی آئرش مین‘ کوئی ایوارڈ نہ جیت سکی۔

گولڈن گلوبز ہالی وڈ میں سال کے ایوارڈ سیزن کا آغاز کرتے ہیں جو فروری میں آسکر ایوارڈز کی تقریب پر ختم ہوتا ہے۔ اتوار کی تقریب کے فاتح اداکاروں اور فلموں کے لیے اگلے ماہ کے آسکر ایوارڈز کے لیے جیتنے کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔

’1917‘ دو برطانوی فوجیوں کی کہانی ہے جو پہلی عالمی جنگ کی خندقوں میں ہیں۔ اس کی عکس بندی اس طرح سے کی گئی ہے کہ یہ ایک مسلسل دو گھنٹے پر مشتمل شاٹ ہی لگتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’1917‘ کے لیے بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ جیتنے والے فلم ساز سیم مینڈیز نے منجھے ہوئے ہدایت کار مارٹن سکورسیزی اورکوئینٹن ٹیرینٹینو کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ایوارڈ  قبول کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’یہ بہت حیرت انگیز ہے۔ مجھے بس اتنا کہنا ہے کہ اس کمرے میں بلکہ اس دنیا میں کوئی ایسا ہدایت کار نہیں جو مارٹن سکورسیزی کے سائے میں نہ ہو۔‘ اس پر ہال میں تالیاں گونج اٹھیں۔

کوئینٹن ٹیرینٹینو کو بہترین سکرین پلے کا ایوارڈ ملا جب کہ اداکار بریڈ پٹ کو ’ونس اپون آ ٹائم۔۔۔ ان ہالی وڈ‘ میں لیونارڈو ڈی کیپریو کے کردار کے سٹنٹ کے رول کے لیے  بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا۔

ایوارڈ قبول کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’میں بھی اپنے شریکِ جرم کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، ایل ڈی سی (لیونارڈو)۔۔۔ آپ کے بغیر میں یہاں نہیں ہوتا۔‘

’ونس اپون آ ٹائم۔۔۔‘ ہالی وڈ فارن پریس ایسوسی ایشن کے لگ بھگ 90 ارکان میں واضح طور پر مقبول ثابت رہی جو جیتنے والی فلموں اور اداکاروں کا چناؤ کرتے ہیں، تاہم دوسری فلموں کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔

فلم ’جوکر‘ کے لیے بہترین ڈراما اداکار کا ایوارڈ جیت کر واکین فینکس نے آسکر ایوارڈ کی دوڑ میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی۔ دوسری اے لسٹ سلیبرٹیز کی طرح انہوں نے بھی ایوارڈ قبول کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی اور بڑے پیمانے پر آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر توجہ مرکوز کی۔

انہوں نے ہدایت کار ٹاڈ فلیپس کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا: ’آپ نے مجھے یہ فلم کرنے پر راضی کیا اور حوصلہ افزائی کی کہ میں اس کردار کو خلوص سے نبھاؤں۔‘

’ہالی وڈ رپورٹر‘ کے مطابق واکین فینکس کی فلم ’جوکر‘ دو ایوارڈز جیت کر سب سے زیادہ گولڈن گلوبز ایوارڈ جیتنے والی کسی کامک بک پر مبنی پہلی فلم بن گئی۔ اس کے علاوہ واکین فینکس جوکر کا کردار نبھانے والے گولڈن گلوب جیتنے والے دوسرے اداکار بن گئے۔ اس سے قبل 2009 میں آنجہانی اداکار ہیتھ لیجر کو فلم ’دا ڈارک نائٹ‘ میں جوکر کے رول کے لیے ان کی موت کے بعد ایوارڈ ملا تھا۔  

معروف اداکارہ جوڈی گارلینڈ پر مبنی فلم ’جوڈی‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ رینی زیلویگر بھی بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیت کر آسکر کی دوڑ میں پیش پیش ہیں۔

جیسا کہ توقع کی جارہی تھی جنوبی کوریا کی فلم ’پیراسائٹ‘ کو بہترین غیر ملکی زبان کی فلم کا ایوارڈ ملا جب کہ اداکارہ اوکوافینا فلم ’دا فیئر ویل‘ کے لیے جیت کر بہترین کامیڈی اداکارہ کا ایوارڈ جیتنے والی پہلی ایشیائی نژاد اداکارہ بن گئیں۔

برطانوی اداکار ٹیرن ایگرٹن کو فلم ’راکٹ مین‘ کے لیے کامیڈی یا میوزیکل میں بترین اداکار کا ایواڈ ملا جو برطانوی موسیقار ایلٹن جان کی زندگی پر مبنی کہانی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن