امریکہ سے کشیدگی کی قیمت ایرانی عوام کو چکانا پڑے گی

ایرانی عوام کے لیے اس تمام صورت حال کا انجام  مزید آمریت کی طرف بڑھتی ہوئی ایک پولیس سٹیٹ ہے جہاں زندگی زیادہ مشکل ہو گی۔

طیارے پہ میزائل حملے سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایرانی طلبا شمعیں روشن کرتےہوئے۔ (اے ایف پی)

امریکہ کی جانب سے ایرانی افواج کے مرکزی کمانڈر کو ہلاک کرنے کے جواب میں عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو اس وقت پرسکون دکھائی دیے جب ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور عراق میں حملے کا نشانہ بننے والے اڈوں کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کو ایران اور امریکہ کے درمیان بڑی کشیدگی کے خاتمے کے طور پر دیکھا گیا۔ جواب میں ایران کے وزیر خارجہ جوادظریف نے اپنے ایک ٹویٹ میں جنگ بندی کا اعلان کیا اور کہا ’ایران نے متناسب جواب دے دیا۔‘

دریں اثنا ٹرمپ ایسی جنگ نہیں چاہتے جس کی وجہ سے ان کے دوبارہ انتخاب کے امکانات کم ہو سکتے ہوں۔ ٹرمپ نے بے حد طاقتورایسے ایرانی کمانڈر کو ہلاک کرنے کا حکم دیا جن کا نام علاقے اور امریکی اتحادیوں کو خوف میں مبتلا کردیتا تھا۔ شاید ان میں سے کوئی بھی اعلانیہ طور پر سلیمانی کی موت پر خوشی نہیں منا سکتا لیکن ظاہر ہے کہ انہوں نے نجی سطح پر ٹرمپ کے اقدام کو سراہا ہے۔

صرف عسکری کمزوریوں ہی نہیں کئی وجوہات کی بنا پر ایران امریکہ کے ساتھ کبھی براہ راست جنگ نہیں کر سکتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایران نے حملوں کو اس ملک میں پہلے سے خالی امریکی اڈوں تک محدود رکھا جہاں اس کے کمانڈر کو ہلاک کیا گیا تھا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ حملے سے پہلے ایران نے امریکہ کو اطلاع دی تاکہ امریکیوں کا جانی نقصان نہ ہو۔

ایران کے پاس انتقام لینے اور امریکہ کے لیے مشکل کھڑی کرنے کے دوسرے طریقے موجود ہیں۔ وہ علاقے میں موجود اپنی اتحادی ملیشیا فورسز کو استعمال کر سکتا ہے اور باب المندب سے خلیج فارس اور بحر عمان تک جہازرانی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ان سائبر حملوں کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو کسی نہ کسی طرح امریکہ کو مستقبل میں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایران کی جوابی کارروائی اس کے دکھ سے مطابقت نہ بھی رکھتی ہو تو بھی اس کا نتیجہ علاقائی کشیدگی میں اضافے کی صورت سامنے آ سکتا ہے اور ایرانی انتظامیہ میں رجعت پسندوں اور انتہا پسند دھڑوں کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ ایسا شاید اس حد تک بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ آئندہ صدارتی انتخابات میں فوج سے تعلق رکھنے والی کوئی شخصیت حکومت میں آ جائے۔

ڈونلڈٹرمپ کے لیے جنرل سلیمانی کی ہلاکت داعش کے سربراہ ابوبکرالبغدادی کو مار دیے جانے کے بعد ایک بڑی کامیابی ہے کیوں کہ وہ دوبارہ صدر بننے کی مہم شروع کرنے جا رہے ہیں۔

اب ٹرمپ ری پبلکن پارٹی کے ساتھیوں اور ووٹروں سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کو ایک نئی جنگ میں نہیں دھکیلا اور یہ کہ ایران کے ساتھ سخت کشیدگی کے باوجود وہ اپنی بات پر قائم رہنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ سلیمانی کی موت اور ایران کے کمزور ہونے کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں اور امریکی صدارتی انتخاب سے قبل تیزی سے مکمل کیے جا سکتے ہیں۔

بالآخر ٹرمپ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ اپنی چار سالہ مدت صدارت میں امریکہ کی سلامتی اور معیشت کو بہتر بنایا گیا اور یہ وہ بات ہے جو امریکی ووٹر کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

لیکن ایرانی عوام کے لیے اس تمام صورت حال کا انجام  مزید آمریت کی طرف بڑھتی ہوئی ایک پولیس سٹیٹ ہے جہاں زندگی زیادہ مشکل ہو گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آیت اللہ خامنہ ای انتظامیہ کے پاس محدود راستے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ موجودہ حالات میں ایران امریکہ کے ساتھ کبھی مذاکرات نہیں کرے گا اور اس لیے اسے معاشی پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرتے رہنا ہوگا۔ ان پابندیوں کی وجہ سے ایرانیوں پر دباؤ میں اضافہ ہو گا جس کے نتیجے میں استحصال کا ایک نیا باب کھل جائے گا۔

اقوام متحدہ میں ٹرمپ کی نمائندہ کیلی کرافٹ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ’پیشگی شرائط کے بغیر‘ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ نے بدھ کو اپنی تقریر میں یہ موقف دہرایا ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ جب تک ڈونلڈ ٹرمپ صدر ہیں تہران امریکہ کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ بات چیت نہیں کرے گا۔

ایرانی عوام  ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی قیمت معاشی مشکلات، تذلیل اور پست حوصلے کی شکل میں اب تک ادا کر رہے ہیں۔ اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ سلیمانی کے خون کی قیمت ادا کریں گے۔

گذشتہ جمعرات کو جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے اس معاملے سے جڑے واقعات میں دو سو افراد مارے جا چکے ہیں۔ جمعرات کو جنرل سلیمانی کے جنازے کے دوران کرمان میں بھگدڑ کے بعد 50 افراد زندگی سے محروم ہو گئے۔

بدھ کی صبح عراق میں ایرانی حملے کے چند گھنٹے بعد یوکرین کا طیارہ تہران کے مضافات میں گر کر تباہ ہو گیا جس میں 176 لوگ مارے گئے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان میں 147 ایرانی شہری تھے۔

دوسری جانب امریکہ، یوکرینی اور کینیڈا کے حکام نے واضح کر دیا کہ طیارے کو ایرانی فضائی دفاع کا میزائل لگنے کے شواہد موجود ہیں۔ ایران نے پہلے اصرار کیا کہ طیارہ انجن بند ہو جانے کی وجہ سے تباہ ہوا تاہم بالآخر تسلیم کر لیا کہ حقیقت میں طیارے کو انہی کا میزائل لگا۔

اس طرح کی افسوسناک خبر ایرانیوں کے دکھ اور تکلیف میں اضافہ ہی کر سکتی ہے۔ ایرانی حکام نے سیاسی مفاد، امریکہ مخالف عوامی جذبات میں اضافے اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف شہروں میں جنرل سلیمانی کے جنازے کا اہتمام کیا لیکن ایک سویلین طیارے پر حملے نے جنازے کی اہمیت کو کم کر دیا۔

طیارے کی تباہی کا نتیجہ عالمی برادری سے محاذآرائی کی صورت میں نکلا کیوں کہ اس کی جانب سے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ طیارے کی تباہی نے ایرانی انتظامیہ کو ایک اور بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ایک ایسا بحران جس میں ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں ہے۔

(نوٹ: کاملیا انتخابی فرد انڈپینڈنٹ فارسی کی ایڈیٹر ان چیف ہیں)

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر