سعودی عرب دو ہزار سے زائد پاکستانیوں کو رہا کر چکا ہے: قریشی

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ برس دورہ پاکستان کے موقع پر سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا: ’آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں۔‘

وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی نے  یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب میں تین ہزار پاکستانی قید ہیں ۔(فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں قید پاکستانیوں میں سے دو ہزار سے زائد کو رہا کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو کے سوال کے جواب میں سینیٹ کے ارکان کو آگاہ کرتے ہوئے بتائی۔

سینیٹر سسی پلیجو کی جانب سے پوچھا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد اب تک کتنے پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے؟ اور اس وقت کتنے پاکستانی سعودی جیلوں میں قید ہیں جب کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

خیال رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ برس دورہ پاکستان کے موقع پر سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا: ’آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں۔‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے جواب میں سینیٹ کو آگاہ کیا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے فروری 2019 میں دورہ پاکستان کے دوران کیے گئے اعلان کے بعد سعودی عرب میں ہمارا سفارت خانہ پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے سینیٹ ارکان کو بتایا کہ دستیاب معلومات کے مطابق دو ہزار 80 قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے، جن میں وہ قیدی بھی شامل ہیں جو اس اعلان کے بعد رہا کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر خارجہ نے اپنے جواب میں یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب میں تین ہزار پاکستانی قید ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی تعداد تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق پاکستانی سفارت خانہ اس حوالے سے سعودی حکومت سے ملنے والی معلومات اور جیلوں کے دورے کے بعد ڈیٹا مرتب اور اس میں تبدیلی کرتا ہے۔ 

انہوں نے بتایا: ’عام طور پر سعودی عرب میں موجود قیدیوں کو سزا مکمل ہونے، شاہی خاندان کے افراد یا سعودی فرمانروا کے جیل کے دوروں کے دوران یا ہر رمضان میں ملنے والی عام معافی کے تحت رہا کیا جاتا ہے، لیکن کچھ معاملات میں جیسے کہ جرمانے یا دیت کی عدم ادائیگی کی صورت میں سزا مکمل ہونے کے باوجود کچھ افراد رہا نہیں ہو پاتے۔ اگر جرمانہ معمولی ہو تو حق عام کے قانون کے تحت ایسے قیدیوں کی رہائی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔‘

سعودی قوانین کے تحت حق خاص جو کہ انفرادی سطح پر اور کمپنیوں کو ادا کیا جاتا ہے، معاف نہیں کیا جا سکتا اور قیدی طویل عرصے تک جیل میں رہ سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں ہمارے سفارت خانے نے قیدیوں کی رہائی کے لیے جو اقدامات لیے ہیں وہ یہ ہیں:

  •  قیدیوں تک قونصلر رسائی اور قانونی معاونت
  • جیلوں کے باقاعدہ اور لگاتار دورے، سفری کاغذات کی ہنگامی بنیادوں پر فراہمی
  • شاہی دربار سے معافی کی درخواست
  • ڈی پورٹیشن کا انتظار کرتے قیدیوں کی مدد
  •  عربی اور اردو مترجم فراہم کرنا
  • تاخیر کے شکار مقدموں کے قیدیوں کے معاملے میں حکام سے ملاقاتیں اور عدالت میں عملے کی موجودگی
  • رمضان، عید اور قومی دنوں پر بننے والی حق عام کی فہرست میں پاکستانی قیدیوں کے نام شامل کرنے کی کوششیں

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان