جو عوامی رویہ ایک سال میں دیکھا، پوری زندگی میں نہیں دیکھا: عمران

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر خطاب میں کہا کہ ان کے سخت معاشی فیصلوں کی وجہ سے لوگ دکھی ہیں لیکن حالات بہتر ہو رہے ہیں۔

عمران خان سوئٹرز لینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کر رہے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر خطاب میں کہا کہ ان کے سخت معاشی فیصلوں کی وجہ لوگ دکھی ہیں لیکن حالات بہتر ہو رہے ہیں۔

عمران خان سوئٹرز لینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ امن کے بغیر معیشت بہتر نہیں بنائی جا سکتی اور اقتدار میں آنے کے بعد جو عوامی رویہ ’میں نے ایک سال میں دیکھا وہ پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔‘

’یہ عوامی رویہ صرف سخت فیصلوں کی وجہ سے تھا۔ مگر اب چیزیں بہتر ہو رہی ہیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں امن آنے سے ہمیں وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی مل جائے گی۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سٹریٹجک اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان ایک بہترین مقام پر ہے۔ ایک طرف چین اور دوسری طرف بھارت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بھارت کے بارے میں زیادہ بات نہیں کریں گے کیونکہ ’یہ صحیح موقع نہیں ہے۔‘

تاہم انہوں نے اتنا ضرور کہا کہ ’بدقسمتی سے بھارت کے ساتھ صورتحال ویسی نہیں جیسی ہونی چاہیے۔ جیسے ہی حالات بہتر ہوں تجارت شروع ہو تو ایک طرف بھارت اور دوسری طرف چین کے ہونے سے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ زراعت ہے، سب سے بڑی طاقت نوجوان نسل ہے، بس طریقہ کار صحیح نہیں ہے۔‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر کہا ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اب صرف امن کے لیے کسی ملک کے شراکت دار بنیں گے۔

’آپ اپنی معیشت کو امن و استحکام کے بغیر بہتر نہیں کر سکتے۔‘

عمران خان نے فورم سے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان ماضی میں دوسروں کی جنگوں میں حصہ بنتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوویت گئے تو پاکستان میں شدت پسند گروپ رہ گئے، منشیات پاکستان میں آنے لگی اور پھر نائن الیون کے بعد پاکستان ایک بار پھر امریکی جنگ کا حصہ بنا۔

’70 ہزار پاکستانی مارے گئے اور پاکستان کا امیج انتہائی خطرناک ملک کا بنا۔‘

’اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ اب ہم صرف امن کے لیے ہی کسی ملک کے شراکت دار بنیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے۔ ’ہم نے مشکل وقت دیکھا مگر سکیورٹی اداروں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے حالات بہتر بنانے میں کردار ادا کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے ہم نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تناؤ ختم کرنے کی کوشش کی، امریکہ اور ایران کے تعلقات بہتر کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان بات چیت کو یقینی بنایا۔ اب صرف افغانستان میں امن کا قیام ضروری ہے، جس سے سب کو فائدہ ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا