صوابی: پولیو رضاکاروں کا قتل دہشت گردی یا ذاتی دشمنی؟

ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس طرح کے واقعات نفرت یا دشمنی کا نتیجہ ہو سکتے ہیں، تاہم محکمہ صحت کے ایک ملازم کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی یہاں ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔

رواں سال خیبر پختونخوا میں پولیو کے تین کیس سامنے آ چکے ہیں(فائل تصویر اے ایف پی)

صوبہ خبیر پختونخوا کے ضلع صوابی میں بدھ کو پولیو مہم کے پہلے روز پولیس سکیورٹی کے باوجود گولیاں لگنے سے ہلاک ہونے والی دو خواتین پولیو رضاکاروں میں سے ایک کی نماز جنازہ گذشتہ رات جبکہ دوسری خاتون کی نماز جنازہ آج دوپہر ادا کی جائے گی۔

بدھ کو 36 سالہ شکیلہ اور 25 سالہ غنچہ پولیو مہم کے بعد میٹنگ کے لیے ہسپتال جا رہی تھیں کہ میر علی کے مقام پر ایک نامعلوم موٹر سائیکل سوار نے ان پر فائرنگ کر دی۔ 

ضلع صوابی کی یونین کونسل پرمولی ست تعلق رکھنے والی دونوں خواتین شادی شدہ اور 2012 سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ دفتر کے ساتھ منسلک تھیں۔ مقتولہ شکیلہ کے تین جب کہ غنچہ کے چار بچے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر صوابی شاہد محمود نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور وہ فی الوقت یہ کہنے سے قاصر ہیں کہ آیا یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے یا پھر ذاتی دشمنی۔‘

تاہم انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ صوابی ایک پرامن علاقہ ہے اور اس طرح کے واقعات نفرت یا دشمنی کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب صوابی میں محکمہ صحت کے ایک ملازم نے بتایا کہ چونکہ ماضی میں بھی پولیو ٹیموں پر حملے کے تین سے چار واقعات سامنے آئے ہیں، لہذا اس وقت صوابی کی یونین کونسلوں کو تین کیٹیگرز یعنی حساس، زیادہ حساس اور نارمل میں تقسیم کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انھوں نے مزید بتایا کہ زیادہ حساس علاقوں میں پرمولی یونین کونسل، نارنجی، سلیم خان، مانیری، پابینی، انبار اور دیگر کچھ علاقے شامل ہیں۔

ساتھ ہی انھوں نے وضاحت کی کہ کل کے واقعے میں ہلاک ہونے والی خواتین ایک ہی یونین کونسل سے تعلق رکھتی تھیں تاہم وہ آپس میں رشتہ دار نہیں تھیں۔

صوابی میں شاہ منصور کے رہائشی آفتاب احمد کا کہنا ہے کہ پرمولی اور نارنجی گاؤں کا ماحول پورے ضلع صوابی میں نہایت پرتشدد مشہور ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ علاقے پولیس کے لیے ہمیشہ سے چیلنج رہے ہیں اور یہیں پر ماضی میں پولیس اور چوکیوں پر بھی حملے ہوئے۔

جب انڈپینڈنٹ اردو نے صوابی کی ایک لیڈی ہیلتھ ورکر عارفہ سے پوچھا کہ کیا واقعی ضلعے میں والدین بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے گریز کر رہے ہیں اور اگر ایسا ہے تو اس کا کیا جواز پیش کیا جارہا ہے؟ تو انھوں نے بتایا: ’والدین کی اکثریت پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔ وہ طرح طرح کے جواز پیش کرتے ہیں اور خاص طور پر کہتے ہیں کہ پولیو کے قطروں سے نسل کشی کروائی جا رہی ہے۔‘

عارفہ کا مزید کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل پشاور میں پولیو کے قطروں کے خلاف جعلی خبروں اور ویڈیوز کے بعد والدین کی ہچکچاہٹ بڑھ گئی ہے۔

وزیراعلیٰ محمود خان نے واقعے میں ملوث افراد کو ڈھونڈ نکالنے اور انھیں سخت سزا کا حکم دیا ہے، تاہم پولیو رضاکاروں کا کہنا ہے کہ مقتول رضاکاروں کے لواحقین خصوصاً بچوں کے لیے مالی امداد کا بھی اعلان کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ رواں سال خیبر پختونخوا میں پولیو کے تین کیس سامنے آئے ہیں، جس کے بعد پولیو مہم میں مزید تیزی آئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان