خسرے کی شکار بچی اور ویکسین نہ لگوا سکنے والے باپ کا دکھ

مصنف راؤلڈ ڈہل کی بیٹی اولیویا کا قصہ، جس کی وفات 1962 میں خسرے کی وجہ سے ہوئی تھی۔

راؤلڈ ڈہل اپنی اہلیہ پیٹریکا نیل اور بیٹیوں اولیویا اور چینٹل کے ساتھ، بعدازاں اولیویا خسرے کے مرض کا شکار ہوکر چل بسی تھی۔

آج کل کے دور میں بھی بہت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بچوں کو ویکسین لگوانے کے خلاف ہیں۔

یہ خیال پچھلی چند دہائیوں سے کچھ مخصوص حلقوں میں راسخ ہو چکا ہے کہ ویکسین لگوانا بچوں کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔

راؤلڈ ڈہل ایک مشہور مصنف ہیں جنہوں نے بچوں کے لیے کئی ناول لکھے ہیں۔  مثال کے طور پر ’میٹلڈا‘ اور ’چارلی اینڈ دی چاکلیٹ فیکٹری‘ ان کے مشہور ناولوں میں سے ہیں۔

ڈہل نے یہ مضمون اُن لوگوں کی مخالفت میں لکھا ہے جو بچوں کو ویکسین لگوانے کے حق میں نہیں ہیں۔

راؤلڈ ڈہل نے یہ قصہ اپنی بیٹی اولیویا کے بارے میں لکھا، جس کی وفات 1962 میں خسرے کی وجہ سے ہوئی تھی۔

اگرچہ اُس وقت خسرہ کی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی تھی لیکن اُس وقت بھی دوسری مختلف ویکسینوں کے خلاف والدین میں مزاحمت پائی جاتی تھی۔

راؤلڈ ڈہل اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:

'میری سب سے بڑی بیٹی اولیویا کو خسرہ تب ہوا تھا، جب وہ سات برس کی تھی۔ مجھے یاد ہے جب اس کی بیماری کی علامات تھوڑی ظاہر ہونا شروع ہوئیں تو میں اُس کے بستر پر اس کے پاس لیٹ کر اسے کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ مجھے اُس کی بیماری کے بارے میں کچھ زیادہ تشویش ہرگز نہیں تھی۔  تب ایک صبح جب وہ صحت یاب ہونے کے قریب تھی تو اچانک میں نے محسوس کیا کہ اس کی انگلیاں اس کے دماغ کا ساتھ نہیں دے رہی ہیں۔ میں اُس وقت اسے مختلف جانوروں کی تصویروں میں رنگ کرنا سکھا رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہی۔

میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا تم ٹھیک ہو؟ اُس نے کہا، مجھے نیند آ رہی ہے۔ ایک گھنٹے کے بعد وہ بے ہوش ہو چکی تھی اور بارہ گھنٹے کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔ اُس کا خسرہ ایک خوفناک بیماری میں بدل چکا تھا، جو اس کی شدید ترین قسم ہوا کرتی  ہے اور ڈاکٹر اسے بچانے کے لیے کچھ نہیں کرسکے تھے۔ یہ سب کچھ اُس وقت ہوا تھا جب خسرے کے خلاف کوئی ویکسین نہیں بنی تھی۔ اب بھی اگر خدانخواستہ کسی بچے کو خسرہ ہوجائے تو اُس کے لاعلاج ہو جانے کے امکانات بہرحال بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

دوسری طرف اگر والدین کے ہاتھ میں کچھ ہے تو صرف یہ کہ وہ اس چیز پر اصرار کریں اور تسلی کرلیں کہ ان کے بچوں کو خسرے کے خلاف ویکسین لگوا دی گئی ہے۔ میں اولیویا کے لیے یہ نہیں کرواسکا تھا کیونکہ اُن دنوں کوئی قابل اعتبار ویکسین موجود نہیں تھی۔ اس وقت محفوظ ترین ویکسین ہر خاندان کو میسر ہے اور آپ نے صرف یہ کرنا ہے کہ آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں اور اپنے بچے کو ویکسین لگوا لیں۔

لوگ عام طور پر خسرے کو خطرناک بیماری نہیں سمجھتے، اگر آپ میری بات کا یقین کریں تو یہ بہت زیادہ خطرناک ہے۔  میرے خیال میں وہ والدین جو اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے سے انکار کرتے ہیں وہ اپنے بچوں کی زندگی مستقل داؤ پر لگا رہے ہوتے ہیں۔ امریکہ جہاں ویکسین لگوانا ضروری سمجھا جاتا ہے، وہاں اس بیماری کا تقریباً صفایا ہوچکا ہے۔

یاد رکھیے، بچوں کو یہ ویکسین لگوانے کی عمر 13 ماہ ہے لیکن اگر آپ نے ابھی تک یہ نہیں لگوائی تو بھی آپ کو تاخیر نہیں ہوئی۔  تمام اسکول جانے والے بچے کسی بھی عمر میں یہ ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

میں نے اپنی دو کتابوں کا انتساب اپنی بیٹی اولیویا کے نام کیا تھا۔ پہلی کتاب اس کی زندگی میں ہی اس کے نام سے منسوب کی اور دوسری کا انتساب اس کی موت کے بعد میں نے اس کے نام پر لکھا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کتنی خوش ہو گی جب اسے یہ اندازہ ہوگا کہ اس کی موت کے بعد میں نے بچوں اور ان کے والدین میں آگہی پھیلانے کے لیے اس بیماری کے بارے میں کئی بار تفصیل سے بات کی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس