آئی ایم ایف وفد ٹیکس اہداف سے مطمئن نہ ہوسکا: چیئرمین خزانہ کمیٹی

چیئرمین خزانہ کمیٹی فیاض اللہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذکرات مکمل ہونے پر اگلی قسط جلدی ملنے کی امید ہے لیکن ٹیکس اہداف حاصل کرنا مشکل نظر آ رہا ہے کیوں کہ موجودہ ٹیکسوں کے حصول سے آئی ایم ایف وفد مطمئن نہیں ہوا۔

آئی ایم ایف وفد نے پاکستان میں کاروبار کے لیے ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔(اے ایف پی)

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد نے معاہدے کے تحت معاشی خصوصاً ٹیکس اہداف حاصل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد پاکستان کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان کو قرض کی تیسری قسط جاری کرنے سے قبل آئی ایم ایف کے وفد نے پارلیمنٹ میں سینیٹ و قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس کو بریفنگ دی۔ 

ایک گھنٹہ 45 منٹ جاری رہنے والی اس میٹنگ میں آئی ایم ایف کے وفد نے معاشی اہداف حاصل نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی۔

چیئرمین خزانہ کمیٹی فیاض اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’آئی ایم ایف کے ساتھ مذکرات مکمل ہونے پر اگلی قسط جلدی ملنے کی امید ہے لیکن ٹیکس اہداف حاصل کرنا مشکل نظر آ رہا ہے کیوں کہ موجودہ ٹیکسوں کے حصول سے آئی ایم ایف وفد مطمئن نہیں ہوا۔ جو ٹارگٹ دیا گیا تھا، حکومت وہ ٹارگٹ پورا نہیں کر سکی۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب اُن سے سوال کیا گیا کہ کیا ٹیکسز کے اہداف حاصل کرنے کے لیے مزید ٹیکس لگائے جائیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’نئے ٹیکسز نہیں لگائیں گے بلکہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ آئی ایم ایف سے ٹیکس ٹارگٹ کم کرنے کی درخواست کی جائے گی۔‘ 

منی بجٹ کے حوالے سے سوال پر چیئرمین خزانہ کمیٹی نے بتایا کہ منی بجٹ نہیں آئے گا بلکہ جون میں ایک ہی بار سالانہ بجٹ آئے گا۔

چیئرمین کمیٹی فیاض اللہ کموکا نے انڈپینڈنٹ اردو کو مزید بتایا کہ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ تعلیم، صحت اور واٹر اینڈ سینیٹیشن سمیت پانچ معاشی استحکام کے اہداف پر بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو وسعت دینے کی ضرورت ہے اور برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

چیئرمین کمیٹی کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے مزید کہا کہ آزاد تجارت اور برآمدات کے ساتھ ساتھ نئے اور چھوٹے درجے کی ایکسپورٹس کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وفد نے کاروبار کے لیے ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ 

خزانہ کمیٹی کے ارکان کیا کہتے ہیں؟

پیپلز پارٹی کی جانب سے خزانہ کمیٹی کی رکن سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ ’یہ انتہائی اہم میٹنگ تھی لیکن بدقسمتی سے مشیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ موجود ہی نہیں۔ اپوزیشن عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ تمام معاملات پر ساتھ چلنے کے لیے تیار ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اب تک آئی ایم ایف کے 23 پروگرام لیے ہیں لیکن معاشی صورت حال کبھی اتنی بدحال نہیں ہوئی۔ 

کمیٹی ممبر ڈاکٹر رمیش کمار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ اگر پاکستان درآمدات کم کر رہا ہے تو برآمدات کا حجم بڑھائے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف پر غلط تنقید کی جا رہی ہے، اُن کا پروگرام پاکستانی معیشت کے لیے بہت اچھا اور دوررس ہے۔'

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ اراکین کمیٹی نے وفد کے سامنے غربت اور مہنگائی کی وجہ سے عوام کو درپیش مسائل بتائے جس پر آئی ایم ایف حکام نے کوئی جواب نہیں دیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی عائشہ غوث پاشا نے اجلاس کے اختتام پر میڈیا کو بتایا کہ مہنگائی میں اضافے اور بیروزگاری بڑھنے کے حوالے سے سوال اٹھائے گئے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’جب حکومت معاہدہ کر رہی تھی تو اسے اس وقت سوچنا چاہیے تھا کہ حالات کس نہج پر جا سکتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ برس پاکستان کی معیشت میں بہتری کے لیے حکومت نے آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا جو کہ اقساط کی صورت میں تین سالوں میں پاکستان کو ملیں گے۔ اب تک آئی ایم ایف کی دو اقساط پاکستان کو مل چکی ہیں۔

جولائی 2019 میں 99 کروڑ 14 لاکھ ڈالر کی پہلی قسط پاکستان کو موصول ہوئی تھی جب کہ گذشتہ برس دسمبر میں 45 کروڑ 24 لاکھ ڈالر دوسری قسط میں موصول ہوئے تھے۔

تیسری قسط کے لیے مذاکرات کا آغاز آج (12 فروری) سے ہوا ہے، جو 14 فروری تک جاری رہیں گے،جس کے بعد پاکستان کو 45 کروڑ ڈالر کی تیسری قسط جاری کرنے کا فیصلہ ہوگا، تاہم اس سے قبل آئی ایم ایف وفد مذاکرات میں پاکستانی معیشت کا سہ ماہی جائزہ لے گا۔

وزارت خزانہ کے مطابق تین روزہ مذاکرات میں آئی ایم ایف حکام مختلف وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے جبکہ توانائی اور ٹیکس اصلاحات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مذاکرات میں ایف بی آر کے لیے نظرثانی ٹیکس ہدف کا تعین کیا جائے گا اور ایف بی آر کی جانب سے نئے ٹیکس سمیت ٹیکسوں کی شرح میں اضافے پر بات چیت ہو گی۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان