ویلنٹائن ڈے، مدنی تکیہ اور ہم جنس پسندوں کی جنت

مجھے ویلنٹائن ڈے کا اس وقت پتہ چلا جب کچھ باکردار لوگوں نے حجاب ڈے منانے کا اعلان کیا۔

کراچی میں ویلنٹائن ڈے کے پوسٹر نذرِ آتش کیے جا رہے ہیں  (اے ایف پی)

فروری اور مارچ بہت بوجھل مہینے ہیں۔ فروری اس لیے کہ اس میں 14 تاریخ آتی ہے۔ مارچ اس لیے کہ اس میں آٹھ تاریخ آتی ہے۔

14فروری کو لوگ محبتوں کا اعتراف کرتے ہیں اور آٹھ مارچ کو خواتین اپنے پیدائشی، بنیادی اور انسانی حق کے لیے پدرسری معاشرے کی دل آزاری کرتی ہیں۔ سرِ عام تشدد کرنا تو سنا بھی ہے اور دیکھا بھی ہے، سرِ عام محبت کرنے کی یہ روایت خدا جانے کہاں سے آ گئی؟

میرا اپنا وجدان کہتا ہے کہ ہو نہ ہو یہ پیار محبت والی انسانیت سوز کارروائی یہود و نصاریٰ نے ڈالی ہو گی۔ پرسوں جب فیصل آباد کی ستارہ ملز والوں کا اشتہار اخبار میں دیکھا تو تصدیق بھی ہو گئی۔

اپنے اس اشتہار میں ستارہ ملز کے مالکان نے شدید الفاظ میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے حیائی پر مبنی ویلینٹائنز ڈے کا یہ کلچر ہمارے جوانوں میں کہاں سے آگیا؟ یہ تو مغربی کلچر ہے جس کا مقصد ہمارے نوجوانوں میں فحاشی عام کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ ویلنٹائن ڈے کی مذمت میں ایک طویل حدیثِ مبارکہ بھی نقل کی گئی تھی۔

میرا دھیان ستارہ ملز کے اُن اشتہارات کی طرف چلا گیا جس میں نیم برہنہ خاتون ماڈل کے ذریعے وہ اپنے زنانہ ملبوسات کی تشہیر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوست سے میں نے پوچھا، ’اس تصویر کے حوالے سے بھی کوئی حدیثِ مبارکہ موجود ہے کیا؟‘

دوست نے کہنی مار کے غالب کا مصرع پھینکا، ’ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے!‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بچپن اور لڑکپن میں محلے کے لوگوں نے فہد کو اور مجھے یا تو گلی کے نکڑ پہ دیکھا ہے یا پھر موٹر سائیکل پر۔ تخمینہ لگایا جائے تو زیادہ عرصہ موٹر سائیکل پر ہی گزرا ہے۔ فہد موٹر سائیکل چلا رہا ہے تو پیچھے میں بیٹھا ہوں۔ میں چلا رہا ہوں تو پیچھے فہد بیٹھا ہوا ہے۔

یہ تصویر اِس قدر جم گئی تھی کہ اگر لوگ مسلسل دوچار بار سے زیادہ ہمیں اکیلے موٹر سائیکل دوڑاتے دیکھتے تو افواہ پھیل جاتی کہ لمڈوں کے بیچ کوئی پھڈا ہو گیا ہے۔ کچھ دنوں بعد ساتھ دیکھتے تو فرحان اور اسد جیسے بدقماش دور سے آواز دیتے کہ ’ہاں بھئی دوستی ہو گئی پھر سے کیا؟‘

زمانہ آیا کہ غمِ عاشقی پر غمِ روزگار بازی لے گیا۔ فرصت کے رات دن ختم ہوئے اور فکر و غم کے ماہ و سال شروع ہو گئے۔

مجھے لڑکپن کے اس عرصے پر ہمیشہ سے بڑا ناز رہا۔ اچانک ایک دن انکشاف ہوا کہ کراچی میں مدنی تکیہ ایجاد ہوا ہے۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ دعوتِ اسلامی کے مرکز فیضان مدینہ میں بیٹھے کچھ اولیائے کرام نے ایجاد کیا ہے۔

سنتے ہی پہلا خیال یہ آیا کہ یہ کوئی آرام دہ روحانی تکیہ ہو گا، جس پر سر رکھنے کے بعد بندہ بشر خواب میں یثرب کی وادیوں کی طرف نکل جاتا ہو گا۔ قریب قریب ’میں یہاں ہوں میرا دل مدینے میں ہے‘ والی صورتِ حال بن جاتی ہو گی۔

ہر جمعرات شبِ جمعہ پر جانے والے دوست نے بتایا کہ اس تکیے کا تعلق سونے سے نہیں بلکہ موٹر سائیکل سواروں سے ہے۔ موٹر سائیکل پر دو مرد سوار ہوں تو ان کے بیچ شیطان گھس کے بیٹھ جاتا ہے۔ شیطان کی جگہ مارنے کے لیے مدنی تکیہ ایجاد کیا گیا ہے۔ ہدایت دی گئی ہے کہ جب آپ موٹرسائیکل پر کسی کے پیچھے بیٹھیں تو بیچ میں یہ تکیہ رکھ لیا کریں تاکہ شیطان کو سانس نہ آئے۔

خدا مجھ سے جھوٹ نہ بلوائے، اِس تکیے کے بابت سنا تو یہ سوچ کر چکرا گیا کہ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں تھی؟ اس قدر ذہانت کے ہوتے ہوئے لوگ کس منہ سے گلہ کرتے ہیں کہ مسلمان ایجادات میں دنیا سے پیچھے رہ گئے ہیں؟

میں ایک نظر تکیے کو دیکھتا اور ایک نظر ماضی پر ڈالتا تو شدید رائیگانی کا احساس ہوتا۔ آغازِ جوانی موٹر سائیکل پر گزار دی اور کبھی اس طرف دھیان ہی نہیں گیا؟ رہ رہ کر خیال آتا رہا کہ یا تو میرے اور فہد کے بیچ شیطان سرے سے موجود نہیں ہوتا تھا، اگر ہوتا بھی تھا تو خاموش بیٹھ کے ہمارے سگرٹوں کا دھواں کھینچ رہا ہوتا تھا۔ کیونکہ جس امکان کی طرف حضرتِ شیخ کا ذہینِ کامل گیا ہے اُس طرف تو کبھی ہماری موٹر سائیکل پر تعینات شیطان کا ذہن بھی نہیں گیا۔ یقین مانیے اگر یہ تکیہ ایجاد نہ ہوتا تو ساری عمر یہ جانے بغیر گزر جاتی کہ اور بھی پہلو ہیں موٹر سائیکل کے، سواری کے سوا۔ 

سچ بتا رہا ہوں مجھے فروری کے آنے پر بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس مہینے میں کہیں 14 تاریخ جیسی ایک فحش اور بدکردار تاریخ بھی بکل مار کے بیٹھی ہوئی ہے۔ دوسال پہلے اس کا علم تب ہوا تھا جب کچھ باکردار لوگوں نے حجاب ڈے منانے کا اعلان کیا تھا۔ پچھلی بار مجھے اس کا علم تب ہوا تھا جب پتا چلا کہ فیصل آباد کی ایک یونیورسٹی نے ’سسٹر ڈے‘ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بار مجھے ابھی پرسوں ہی علم ہوا جب میں نے ایک مذہبی جماعت کی طرف سے جاری کردہ ’حیا ڈے‘ کا اشتہار دیکھا۔ ہر بار اپنے باحیا دوستوں اور اُن کی بہنوں کی مارا ماری سے مجھے 14 فروری کا علم ہوتا ہے تو مجھے ایسے لگتا ہے جیسے یہ سب فروری کے شروع ہوتے ہی مدنی تکیہ بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا تکیہ، جو نشاندہی کم یاد دہانی زیادہ ہے۔

دو سال پہلے کا ویلنٹائن ڈے جس دھوم دھڑکے سے منایا گیا تھا میرا نہیں خیال کہ ایسا ویلنٹائن ڈے پہلے کبھی منایا گیا ہو۔ اِس کارِ خیر کا ایصالِ ثواب سابق جج شوکت صدیقی صاحب کے علاوہ کسی کو نہیں کیا جا سکتا۔ شوکت صدیقی صاحب تہذیبِ مشرق کے حوالے سے بہت حساس تھے۔ انہوں نے فرمان جاری کیا کہ اسلام آباد میں جہاں کہیں پھول غبارے بیچنے والے نظر آئیں انہیں پکڑلیا جائے۔

ہوٹلوں میں آنے والے جوڑوں سے نکاح نامے طلب کیے جائیں۔ پارکوں میں بیٹھے جوڑوں سے باز پرس کی جائے۔ اس قدر ہارڈ ریمائنڈر کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن لوگوں نے 14 فروری کو حلوہ پوری کا پلان بنایا تھا وہ بھی محبتیں بانٹنے نکل گئے۔

15 فروری کو میرے ایک گے دوست نے بتایا کہ ’مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ پاکستان تو ہمارے لیے جنت ہے۔‘

میں نے حیرت سے پوچھا، ‘کیوں؟‘

بولا، ’گیسٹ ہاؤس میں جتنے بھی لوگ جنسِ مخالف کے ساتھ آئے ان سے نکاح نامے طلب کیے گئے۔ جو میری طرح اپنے ہم جنس کے ساتھ آئے اُن کا تو شناختی کارڈ بھی ٹھیک سے نہیں دیکھا گیا۔ رات کے آخری پہر گیسٹ ہاؤس پر چھاپہ بھی پڑا، سب کو لے گئے ہمارے تو دروازے پہ دستک بھی نہیں دی گئی۔‘

محفل میں بیٹھے دوسرے دوست نے کہا، ’پگلے یہ تو امتیازی سلوک برتا گیا ہے تمہارے ساتھ۔ تمہیں اِس امتیازی سلوک پر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کرنا چاہیے کہ آئندہ ہوٹلوں میں ہم جنس پسندوں سے بھی نکاح نامے طلب کیے جائیں، ورنہ اس روز بغیر کاغذات کے ہونے والی کسی بھی قسم کی فحاشی کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ