’کتاب ملے نہ ملے، سموسہ ضرور ملے گا‘

بارسلونا میں رائج روایتی صحافت کے دُنیا میں ’دیا ٹی وی آن لائن‘ کسی شمع سے کم نہیں۔

جاوید مُغل میئربارسلونا محترمہ آدا کولاؤ سے تمغہ امتیاز وصول کرتے ہوئے (عرفان راجہ)

انسان نے جب دُنیا میں آباد ہونے کو ترجیح دی تو اُس کا پہلا فعل محبت تھا اور پہلی خبر اُس کے قتل کی بنی۔ بارسلونا میں خیر کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہا۔ یہاں ہلکی پُھلکی روایتی سے لے کر بھاری بھر کم روایتی اور جدید صحافت متعارف کروانے والے موجود ہیں۔

نئے رُجحان متعارف کروانے والوں میں مثال کے طور پر حال ہی میں وجود میں آنے والا ’نیوز ڈپلومیسی بارسلونا‘ اپنی باقاعدہ صحافتی مہارت اور جدت کی اپنی مثال آپ ہے۔ نیوز ڈپلومیسی بارسلونا کے وسیم رزاق گجرات یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے ہیں اور پیشہ ور صحافی ہیں۔ بارسلونا میں مقیم ہونے سے قبل معتبر پاکستانی صحافتی اداروں میں رپورٹنگ کی خدمات انجام دے چُکے ہیں۔ اُن کے لکھے اور بیان کے پیرائے صحافتی اسلُوب سے مزیّن ہیں۔

بارسلونا کی صحافت کے باب میں ایک اور نیا علمی و ادبی چہرہ خوش گفتار حافظ احمد کا ہے جو ایک بڑے جرمن میڈیا مرکز سے وابستہ ہیں اور بارسلونا لسانیات کے سکول میں اُردو کے معلم ہیں۔

شہر بارسلونا کی اکلوتی پاکستانی خاتون صحافی کا سب سے بڑا اعزاز تو خیر یہی ہے کہ وہ لمبی صحافیانہ قطار کا واحد نسوانی رنگ ہیں اورجِس طرح کی تھرتھلی ڈالنے والے حالات پیدا کیے جاتے ہیں اُن میں کرن خان کا جمے رہنا بلاشبہ بڑی بات ہے۔ وہ پاکستان کے بڑے ڈراما اور نیوز چینل کے ساتھ منسلک ہیں۔

اُن کی اصل یہ ہے کہ وہ بلدیہ بارسلونا میں ایشیائی برادریوں کے لیے حکومتی کاروباری معاون ہیں اور پھر وہ ایک سکول میں اردو کی معلمہ بھی ہیں۔ یہ قاری پر ہے کہ وہ چاہے تو اُستاد کو عزت دو کے تحت بڑا کام اردو کی تعلیم کو دے سکتا ہے۔

شاہد احمد شاہد بارسلونا کی صحافتی دنیا کا ایک اور معتبر نام ہے اور وہ کُل وقتی صحافی ہیں۔ پاکستان کے بڑے میڈیا چینل سے وابستہ ہیں۔ شعر و ادب کے شوقین ہیں، محفل اُن کے دم سے سج جاتی ہے، خطاب پر دسترس حاصل ہے۔

بارسلونا میں رائج روایتی صحافت کے دُنیا میں ’دیا ٹی وی آن لائن‘ کسی شمع سے کم نہیں۔ دیا ٹی وی آن لائن کے روح و رواں ملک فیاض اور ڈاکٹر انعام حسین شاہ ہیں۔ نیا اسلوب، سُخن، دستاویزی پروگرام، بات چیت، انٹرویوز، معلوماتی و تفریحی پروگرام گو پہلے موجود تھے مگر جدت و حُسنِ معاشرت سے عاری تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دیا ٹی وی نے رائج سوچ کے معیار سے پرے ایک نہی جہت متعارف کروائی، فلسفہِ برداشت دیا کا مرکزی خیال ہے۔ ڈاکٹر انعام خود اعلیٰ تعلیم یافتہ، پی ایچ ڈی سکالر، کالم نویس ہیں، وہ نئی جہتیں، اور ملک فیاض نئے زاوئیے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مزاج کے جتنے بانکے ہیں الفاظی کے اُتنے ہی تیکھے ہیں۔ گاہے اُس سرجن کی طرح ہو جاتے ہیں جسے جراحی سے غرض ہوتی ہے، مریض بے شک ابھی نیم بے ہوش ہو مگر اُن کے کہے اور لکھے کو قبولیّت اور مقبولیّت حاصل ہے۔

اخباری و زمانی ترتیب سے جاوید مُغل ایک عرصے سے بارسلونا میں صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اُن کا ادارہ اور اخبار ’ہم وطن‘ بارسلونا کے کئی صحافیوں کے لیے ایک ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ مغل صاحب کی جہدِ مسلسل کا امین اُن کے اخبار کا سرِورق ہے جس پر ’خدمت کے تاوقت 19 سال‘ لکھے ہیں۔ آپ سموسہ ڈپلومیسی کے موجد ہیں۔

جاوید مُغل بارسلونا مرکز میں مقیم ہیں۔ باقاعدہ صحافی ہیں اور وقت کے تقاضوں کے مطابق عین ہوتے رہتے ہیں۔ ہر سال 23 اپریل کو کاتالونیہ میں سانت جوردی کا تہوار منایا جاتا ہے۔ اس دن کی خاص بات کتاب، گلاب کا پھول اور گندم کی ڈالی ہے یعنی علم، محبت اور اپنی مٹی۔ رمبلہ روال بارسلونا پر پرانے وقتوں میں اردو سے متعلق صرف ایک سٹال ہوا کرتا تھا جو کہ جاوید مغل روال پر عالمی شہرت یافتہ بِلّے کے مُجسمے سے ذرا فاصلے پر لگایا کرتے تھے۔ کتاب، پھول اور گندم کے ساتھ مغل صاحب کےسٹال کا سموسہ بھی شہرت پا گیا۔ مثل مشہور ہے کہ ’کتاب ملے نہ ملے، سموسہ ملے گا!‘

اُن کی معاشرتی انضمام اور صحافتی خدمات پر اُنہیں بارسلونا شہری کونسل یُوں تو بارہا اسناد سے نواز چُکی ہے، قونصل خانہ پاکستان بھی اپنا حصہ ڈال چُکا ہے مگر حالیہ ایوارڈ برائے حُسنِ کارکردگی ’تمغۂ امتیاز‘  اعلیٰ ترین سطح پر وہ امتیاز ہے جو بطور پاکستانی صرف وہی حاصل کر پائے ہیں۔ شہری اور صوبائی حکومتی سطح پر اُن کی خدمات کا اعتراف بلاشبہ بڑی کامیابی ہے اور اس سے پاکستانی اردو صحافت و ادب کی حکومتی حلقوں میں رسائی و شنوائی مزید آسان ہوئی ہے۔

بارسلونا کی صحافتی برادری کی اکثریت کے برعکس جاوید مغل کے پاس کسی پاکستانی ٹی وی چینل کےساتھ الحاق نہیں، لہٰذا وہ کسی فرد یا ادارے پر اپنی صحافت کی بین الاقوامی دھاک بٹھائے بغیر اردو اور ہسپانوی ذرائع ابلاغ میں بطور حوالہ استعمال ہوتے ہیں۔ آپ بہت سے صحافی حضرات کے لیے اُستاد کا درجہ رکھتے ہیں اور کُچھ اُنہیں بارسلونا کا بابائے صحافت بھی مانتے ہیں۔ خود اُن کو بابا ہونے پہ پس و پیش ہے مگر اب اُنہیں عمرِ رواں کے پیش نظر قبول کر ہی لینا چاہیے اور شُکر ادا کرنا چاہئیے کہ زندگی رائیگاں نہیں گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ