قتل کی دھمکی، گرل فرینڈ کا ریپ: کنٹریکٹر کا قطری شہزادے پر مقدمہ

قطری شہزادے شیخ خالد بن حماد خلیفہ الثانی پر مقدمہ چلانے والے شخص کی وکیل کا کہنا ہے کہ  ان کے موکل کی گرل فرینڈ کے ریپ کے بعد دھمکیوں سے ان کے محاسبے کی لڑائی کو دبایا نہیں جاسکتا۔

شیخ خالد بن حماد خلیفہ الثانی ایک بااثر ریس کار ڈرائیور ہیں جنہوں نے مقدمے کے مطابق آلندے اور پِٹارڈ کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے ان کے دشمنوں کو قتل نہ کیا تو انہیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی (تصویر: فیس بک)

 ریپ کی شکار ایک خاتون کا مقدمہ لڑنے والی وکیل کا کہنا ہے کہ قطری شہزادے شیخ خالد بن حماد خلیفہ الثانی کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے قانونی جنگ کو کسی بھی چیز سے دبایا نہیں جا سکتا۔

عرب نیوز کے مطابق متاثرہ خاتون کی وکیل ریبیکا کیسٹینیڈا کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کیلیفورنیا کے شہر پاساڈینا میں مقدمے کے شریک مدعی میتھیو آلندے کی گرل فرینڈ کو مبینہ طور پر ظالمانہ تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے قطری شاہی خاندان کے اہم رکن شیخ خالد بن حماد خلیفہ الثانی پر تین کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔

میتھیو آلندے ان دو کنٹریکٹرز میں سے ایک ہیں جنہوں نے الثانی پر الزام لگایا تھا کہ قطری شہزادے نے ان کو قتل کروانے کی کوشش کی تھی کیوں کہ انہوں نے ان کی عزت کا دفاع اور ان کے دشمنوں کو قتل کرنے کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کی گرل فرینڈ پر وحشیانہ حملہ ان ہی وجوہات کی بنا پر کیا گیا جس کا ذکر مقدمے میں کیا گیا ہے۔

وکیل ریبیکا کیسٹینیڈا نے کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتیں کہ اس جنسی زیادتی یا تشدد کا تعلق اُس مقدمے سے ہے، جسے انہوں نے الثانی کے خلاف آلندے اور میتھیو پِٹارڈ کی مدعیت میں دائر کیا ہے تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ قطری شہزادے کے احتساب کے لیے اس قانونی لڑائی کو کسی دباؤ سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔

کیسٹینیڈا نے عرب نیوز کو بتایا: ’ہم ابھی تمام حقائق سے لاعلم ہیں کہ اصل میں ہوا کیا تھا لیکن مدعی اپنے مقدمات کی پیروی سے کسی طور پر پیچھے نہیں ہٹ رہے۔ در حقیقت اس کا الٹا اثر پڑا ہے اور وہ کامیابی کے لیے اب پہلے سے کہیں زیادہ پر امید ہیں۔‘

شیخ خالد بن حماد خلیفہ الثانی ایک بااثر پلے بوائے اور ریس کار ڈرائیور ہیں جنہوں نے مقدمے کے مطابق آلندے اور پِٹارڈ کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے ان کے دشمنوں کو قتل نہ کیا تو انہیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

اس مقدمے کا باعث بننے والی سرخیوں سے شیخ خالد بن حماد خلیفہ الثانی کے بھائی، جو قطر کے امیر بھی ہیں، کی سبکی ہوئی ہے۔

آلندے نے پاساڈینا پولیس کو بتایا کہ جب وہ 14 جنوری کو نوکری سے واپس گھر پہنچے تو انہوں نے اپنی 42 سالہ گرل فرینڈ ابی ہان کو بستر پر خون میں لت پت پایا جن کے چہرے اور سر پر گہرے زخم تھے۔

پولیس کی جانب سے لیے گئے ڈی این اے ٹیسٹ سے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کا علم تو ہوا تاہم ملزم کی شناخت نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاساڈینا کے ڈیٹیکٹیو جنہیں اس واقعے کی تحقیقات کے لیے طلب کیا گیا تھا، کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ محض ایک ڈکیتی کی واردات نہیں تھی۔

 انہوں نے کہا کہ اپارٹمنٹ سے کوئی قیمتی شے چوری نہیں ہوئی تھی جہاں 10 ہزار ڈالر مالیت کے زیورات اور دیگر قیمتی اشیا باہر ہی پڑی تھیں۔

آلندے نے اپنے ساتھی پِٹارڈ کے ساتھ مل کر قطری شہزادے کے خلاف 23 جولائی 2019 کو مقدمہ دائر کیا تھا۔

مقدمے میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح شیخ خالد کے متنازع طرز زندگی نے انہیں ایسے کرداروں سے متعارف کرایا، جن کے بارے میں انہیں خدشہ تھا کہ وہ انہیں سوشل میڈیا پر بدنام کردیں گے۔

آلندے کو الثانی نے 15 اکتوبر2017 سے 4 فروری  2018 تک بطور پیرامیڈک ملازمت پر رکھا تھا۔

پِٹارڈ 17 ستمبر  2017 سے 10 جولائی 2018 تک بطور امریکی سکیورٹی ڈائریکٹر اور قطر میں ایک سینیئر دفاعی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔

ان کے دشمنوں کو قتل کرنے سے انکار کے بعد الثانی ان سے ناراض ہو گئے تھے، انہیں بندوق سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور دوحہ میں واقع اپنے محل میں انہیں کئی ماہ تک قید رکھا۔

آلندے جو اب لاس اینجلس میں پیرامیڈیکس کے شعبے میں ملازمت کر رہے ہیں اور پِٹارڈ، جو سابق ​​امریکی میرین ہیں، فروری 2018 میں قطر سے فرار ہوگئے تھے۔

مقدمہ دائر ہونے کے بعد سات ماہ سے بھی زیادہ عرصے تک الثانی ممکنہ طور پر اس امید کے ساتھ اپنی شناخت چھپاتے رہے کہ وہ عدالتی اور قانونی چارہ جوئی سے بچ جائیں گے۔

کیسٹینیڈا نے ابتدائی طور پر فلوریڈا کی ایک وفاقی عدالت میں ان کے اور ان کی دو کمپنیوں جی ای او اسٹریٹجک ڈیفنس سولیوشن ایل ایل سی اور کے ایچ ہولڈنگز ایل ایل سی کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔

تاہم  جب شیخ خالد نے عدالت کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا اور وکلا نے بھی ان کی نمائندگی نہیں کی تو کیسٹینیڈا نے پانچ نومبر 2019 کو اس مقدمے میں توسیع کرتے ہوئے ان کی ایک اور کمپنی الانابی ریسنگ یو ایس اے ایل ایل سی، جس کے دفاتر فلوریڈا میں ہیں، کے خلاف بھی مقدمہ دائر کر دیا۔

الانابی ریسنگ یو ایس اے ایل ایل سی  اور الثانی کے وکیلوں نے آخرکار اس مقدمے کا جواب دیا اور فیڈرل کورٹ کے جج تھامس پی نائی سے استدعا کی کہ اس مقدمے کو برخاست کر دیا جائے۔

ان کا استدلال تھا کہ فلوریڈا میں نہ تو الثانی اور نہ ہی الانابی ریسنگ یو ایس ایل ایل سی کی کوئی قانونی موجودگی ہے، اس لیے یہ وفاقی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

متاثرہ خاتون کی وکیل نے خوشی خوشی عدالت سے مقدمہ خارج کرنے کے لیے کہا اور اعلان کیا کہ اسے میساچوسٹس میں دوبارہ دائر کیا جائے گا جہاں الانابی ریسنگ یو ایس اے ایل ایل سی کا صدر دفتر واقع ہے۔

کیسٹینیڈا کا خیال ہے کہ مقدمہ دوبارہ دائر کیا گیا ہے اور اس طرح وہ الثانی کو عدالت میں اپنا بیان داخل کرنے اور دستاویز پیش کرنے پر مجبور کردیں گی، بصورت دیگر عدالت کا فیصلہ ان کے مؤکل کے حق میں چلا جائے گا۔

ان کی قانونی تدبیر سے ایسا لگتا ہے کہ پلڑا آلندے اور پِٹارڈ کے حق میں زیادہ جھک سکتا ہے۔

عرب نیوز کی جانب سے مقدمے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا الثانی کے وکلا نے کوئی جواب نہیں دیا۔

آلندے اور ان کی گرل فرینڈ کے خلاف تشدد کے باعث کیسٹینیڈا نے عرب نیوز کو الثانی کے سکینڈلز کے حوالے سے دسمبر میں مزید تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔

کیسٹینیڈا نے کہا کہ الثانی نے آلندے اور پٹارڈ کو لاس اینجلس میں مقیم منشیات فروش، جو قطری شہزادے کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔

نامعلوم منشیات فروش کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان پاس قطر اور لاس اینجلس میں الثانی کی منشیات اور ہم جنس پرست سیکس پارٹیز کی تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں۔

’ہمیں منشیات فروش کے دعوؤں کی سچائی کا علم نہیں ہے تاہم شیخ خالد نے انہیں سنجیدگی سے لیا اور وہ چاہتے تھے کہ پٹارڈ اور آلندے بلیک میلر کو مار ڈالیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ایک اور معاملے میں الثانی نے دونوں سکیورٹی کنٹریکٹرز کو مراکش کی ایک خاتون کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا جو ان کی اہلیہ کی دوست تھی۔

کیسٹینیڈا کا کہنا تھا کہ الثانی کو خدشہ ہے کہ وہ خاتون ایک سعودی شہری کو ان کے بارے میں اس وقت پریشان کن معلومات فراہم کررہی تھیں جب ان کے بھائی امیرِ قطر کی سعودی عرب اور تین دیگر عرب ممالک کے ساتھ کشیدگی عروج پر تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا