’اب تیل اور پیسہ نہیں ملے گا‘: وینزویلا کے بعد ٹرمپ کا کیوبا کو انتباہ

ٹرمپ کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے امریکی فوجی کارروائی میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری کو امریکہ کی جانب سے چین کو ایک سخت پیغام تصور کیا جا رہا ہے ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نو جنوری، 2026 کو فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر ایئر فورس ون سے نکلتے ہوئے (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کیوبا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہوانا کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کیا تو اسے آئندہ تیل اور مالی امداد نہیں ملے گی۔

ٹرمپ نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر لکھا: ’کیوبا کو اب مزید تیل یا پیسہ نہیں ملے گا۔ بالکل بھی نہیں۔ میں انہیں سختی سے مشورہ دیتا ہوں کہ دیر ہونے سے پہلے امریکہ سے ڈیل کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ کیوبا طویل عرصے تک وینزویلا سے بڑے پیمانے پر تیل اور مالی تعاون پر انحصار کرتا رہا ہے۔

ٹرمپ کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے امریکی فوجی کارروائی میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری کو امریکہ کی جانب سے چین کو ایک سخت پیغام تصور کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکی براعظموں سے دور رہے۔

چین کو سخت پیغام

امریکی حکام کے مطابق کم از کم دو دہائیوں سے چین لاطینی امریکہ میں اپنی سفارتی اور معاشی موجودگی بڑھا رہا ہے جس میں ارجنٹینا میں سیٹلائٹ ٹریکنگ سٹیشن، پیرو میں بندرگاہ اور وینزویلا کو معاشی سپورٹ دینا شامل ہے۔

واشنگٹن کے لیے یہ پیش رفت طویل عرصے سے تشویش کا باعث رہی ہے۔

متعدد حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ مادورو کے خلاف کارروائی کا ایک مقصد چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا بھی تھا اور چین کے لیے سستا وینزویلا کا تیل لینے کے دن ختم ہو چکے ہیں۔

ٹرمپ نے جمعہ کو اسی حوالے سے واضح کہا: ’ہم چین اور روس کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن ہم انہیں اپنے پڑوس میں نہیں دیکھنا چاہتے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ چین کو بتا رہے ہیں کہ امریکہ تیار ہے اور وہ امریکی تیل خرید سکتا ہے۔

تین جنوری کو امریکی کمانڈوز کے کاراکس میں اچانک حملے اور وینزویلا کے صدر کو حراست میں لینے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے چین کی امریکہ میں اثراندازی کی حقیقی حدود سامنے آ گئی ہیں۔

چین اور روس کی جانب سے فراہم کردہ دفاعی سسٹمز کو بھی امریکی فورسز نے چند منٹوں میں ناکارہ بنا دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چینی امور کے ماہر کریگ سنگلٹن کے مطابق: ’یہ حملہ چین کے بڑی طاقت ہونے کے دعوے اور اس کی اصل صلاحیت کے درمیان واضح فرق کو سامنے لاتا ہے۔ وہ احتجاج تو کر سکتا ہے لیکن واشنگٹن کے دباؤ کے سامنے اپنے اتحادیوں یا اثاثوں کو بچا نہیں سکتا۔‘

واشنگٹن میں چینی سفارتخانے نے اس کارروائی کو امریکہ کے ’یکطرفہ، غیر قانونی اور دھونس پر مبنی اقدامات‘
قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اور لاطینی امریکی ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون جاری رہے گا۔

ادھر امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا وینزویلا پر عائد کی گئی بعض پابندیاں مزید نرم یا ختم کر سکتا ہے تاکہ عالمی منڈی میں وینزویلا کے تیل کی فروخت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

اے ایف پی کے مطابق اتوار کو میڈیا سے گفتگو کے دوران سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ہم اس تیل پر سے پابندیاں ہٹا رہے ہیں جو فروخت کیا جانا ہے۔امریکی وزیرخزانہ سے جب پوچھا گیا کہ مزید پابندیاں کب ہٹائی جا سکتی ہیں تو اس پر انہوں نے کہا کہ یہ آئندہ ہفتے کے اوائل میں بھی ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے کسی حتمی تاریخ کی وضاحت نہیں کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا