گلگت میں کرونا وائرس کے مریض سامنے آنے پر تشویش کی لہر

گلگت بلتستان حکومت نے سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی ادارے سات مارچ تک بند کر دیے ہیں اور امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

گلگت میں صحت کے حکام نے وائرس سے نمٹنے کی تیاریاں کر رکھی ہیں (عبدالرحمٰن بخاری)

گلگت سے کرونا وائرس کے تین مریض سامنے آنے کے بعد سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور ہر طرف لوگ ماسک پہنے نظر آتے ہیں، جب کہ دکان داروں نے ماسک کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے آگہی فراہم نہ کرنے کی وجہ سے افواہوں کا بازار گرم ہو گیا ہے اور اس وائرس اور اس سے متاثرہ مریضوں سے متعلق طرح طرح کی باتیں سننے میں آ رہی ہیں۔

گلگت بلتستان حکومت نے سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی ادارے سات مارچ تک بند کر دیے ہیں اور امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

محکمہ صحت نے دس سے زائد افراد کے خون کے نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے اسلام آباد بھیج دے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر شاہ زمان نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے تین افراد میں کرونا وائرس پایا گیا ہے۔ ان مریضوں کے بلغم کے نمونے اسلام آباد بھیجے گئے تھے جہاں قومی ادارۂ صحت کی لیبارٹری میں ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ ان مریضوں میں وائرس موجود ہے۔

اس کے بعد متاثرہ مریضوں کو قرنطینہ منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے اہل خانہ کے نمونے حاصل کر کے اسلام آباد بھیج دیے ہیں۔

کرونا وائرس سے متاثرہ افراد نے حال ہی میں زیارت کے سلسلے میں ایران کا سفر کیا تھا جہاں سے واپسی پر وہ بیمار پڑ گئے۔ جب ان کا طبی معائنہ کیا گیا تو وہ کرونا سے متاثرہ نکلے۔

ان مریضوں کی اطلاع ملنے کے بعد لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

منور حسین کو کھانسی کی تکلیف تھی جس کی وجہ سے وہ ماسک لگا کر ہسپتال آئے ہیں۔ انہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’کرونا وائرس پھیلنے کا خوف بڑھ گیا ہے۔ معمولی سی شکایت پر فوری طور پر ڈاکٹروں سے رجوع کیا جا رہا ہے۔‘

ایک اور شہری بلال احمد کہتے ہیں کہ ’جب سے پتہ چلا ہے کہ گلگت میں کرونا کے مریض آ گئے ہیں، اس وائرس سے بچنے کے لیے ماسک کا استعمال میں اضافہ ہو گیا ہے، اور تاجروں نے ماسک کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، حکومت اس طرف توجہ دے۔‘

صحت کے شعبے پر کام کرنے والے سینیئر صحافی تنویر احمد نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں کرونا وائرس سے متعلق معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ محکمۂ صحت کے ذمہ دار حکام اور حکومتی عہدیدار میڈیا کو صورتحال سے آگاہ نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے افواہوں کا بازار گرم ہے اور عوامی سطح پر لوگوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔‘

ڈاکٹر شاہ زمان کے مطابق عوام ایسے افراد سے ملاقات سے گریز کریں جو حال ہی میں ایران کا سفر کر کے واپس آئے ہیں۔

حمیرا بی بی سماجی ورکر ہیں۔ انہوں نے کہا: ’گلگت بلتستان میں کرونا وائرس پھیلنے کی خبریں سن کر بہت پریشان ہوں اور ماسک کا استعمال شروع کر دیا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتی ہوں۔‘

محکمہ صحت گلگت بلتستان نے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے تمام اضلاع میں قائم ہسپتالوں میں آئیسولیشن وارڈ قائم کر دیے ہیں۔

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے انڈپینڈنٹ اُردو کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور محکمہ صحت کی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

فراق کے مطابق گلگت بلتستان کے داخلی مقامات پر مسافروں کو ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم سکریننگ کے بعد گلگت بلتستان میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے

گلگت اور سکردو کے ہوائی اڈوں پر بھی محکمہ صحت نے ڈیسک قائم کر دیے ہیں اور کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جہاں مسافروں کی سکریننگ کی جا رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت