کراچی کی ماں بیٹی جن کا اوڑھنا بچھونا کرکٹ ہے

پی سی بی امپائرنگ پینل میں شامل سلیمہ امتیاز اپنی بیٹی کائنات امتیاز کو پاکستان کے لیے کھیلتا دیکھ کر کہتی ہیں: ’میری بیٹی نے میرے خواب کو سچ کر دکھایا۔‘

مارچ کے مہینے میں انڈپینڈنٹ اردو ایسی پاکستانی خواتین کی کہانیاں پیش کر رہا ہے، جنہوں نے کامیابی کے راستے میں رکاوٹوں کو آڑے نہیں آنے دیا۔ اسی سلسلے میں آج پاکستانی ماں بیٹی کی کہانی پیش کی جارہی ہے، جو کرکٹ کے میدان میں خود کو منوا رہی ہیں۔


سال 2020 کے آغاز میں ہونے والے نیشنل ٹرائنگولر ٹی ٹوئنٹی ویمن کرکٹ چیمپیئن شپ میں ایک ماں اور بیٹی کی جوڑی بڑی مشہور ہوئی۔ یہ دونوں خواتین کوئی اور نہیں بلکہ قومی ٹیم کی آل راؤنڈر کائنات امتیاز اور ان کی والدہ سلیمہ امتیاز ہیں جو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ویمن امپائرنگ پینل کا حصہ ہیں۔  

سلیمہ امتیاز تقریباً 14 سال سے امپائرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ پاکستان میں کُل دس خواتین امپائرز ہیں جن میں سے صرف دو سندھ میں مقیم ہیں۔ سلیمہ امتیاز ان دو خواتین میں سے ایک ہیں۔

اپنی بیٹی کائنات کو پاکستان کے لیے کھیلتا دیکھ کر وہ کہتی ہیں کہ ’میری بیٹی نے میرے خواب کو سچ کر دکھایا۔‘ لیکن ہر دوسری ماں کی طرح ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ ان کی بیٹی کی شادی ایک ایسے شخص سے ہو جو اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے، اور اس کا خیال رکھے۔

سلیمہ امتیاز نے بتایا: ’میں نے کرکٹ شادی کے بعد کھیلنا شروع کی کیوں کہ میرے گھر والے مجھے کھیلنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ میرے شوہر بھی کرکٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں لیکن ہم نے کائنات پر کبھی یہ پابندی نہیں لگائی کہ اسے کرکٹر ہی بننا ہے۔ 2005 میں ہونے والے ایشیا کپ میں کائنات نے جب بال پِکر کے فرائض انجام دیے تو اس وقت وہ بہت چھوٹی تھی لیکن اس نے یہ طے کرلیا کہ اسے فاسٹ بالر بننا ہے۔ تو اس دن سے لے کر آج تک میں نے اپنی بیٹی کی بھرپور سپورٹ کی ہے اور آگے بھی کرتی رہوں گی۔‘

کائنات نے 2010 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میں ڈیبیو کرنے کے بعد 11 ون ڈے اور 12 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل چکی ہیں۔ وہ آل راؤنڈر کی حیثیت سے کھیلتی رہی ہیں اور نو وکٹوں کے ساتھ 51 رنز اپنے نام کرچکی ہیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں وہ صرف 8.20 کی اوسط سے 41 رنز بنا چکی ہیں اور اس کے ساتھ چھ وکٹیں بھی حاصل کرچکی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک کھلاڑی ہونے کی حیثیت سے کائنات کو اپنی فٹنس کا بے حد خیال رکھنا ہوتا ہے لیکن جب ہم نے ان سے پوچھا کہ ایسی کون سی چیز ہے جو انہیں اتنی پسند ہے کہ وہ اسے کسی بھی وقت کھا سکتی ہیں؟ تو انہوں انتہائی معصومیت سےجواب دیا: ’آئی جسٹ لو پیزا! مجھے صرف پیزا کھانے کی ہی طلب ہوتی ہے اور جس دن میں بہت مشکل ٹریننگ کرتی ہوں اس دن تو میں رات میں لازمی طور پر پیزا کھاتی ہوں۔‘

سلیمہ امتیاز نے بتایا کہ کائنات بچپن میں بہت شرارتی تھیں اور چپکے چپکے اپنے پورے منہ پر لپ سٹک لگا لیا کرتی تھیں اور پھر شیشے میں خود کو دیکھ کر ڈر جاتی تھیں۔

پاکستانی آل راؤنڈر کی والدہ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ ’کائنات بہت ذائقے دار کھانا بناتی ہیں لیکن ایک ڈش ہے جو کائنات نہیں بناتیں اور وہ ہے بریانی۔‘

ویمن کرکٹ ورلڈکپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کی خواہش مند کائنات امتیاز اور ان کی والدہ سے جب ہم نے پوچھا کہ آخر کس طرح کا شخص کائنات کے لیے اچھا شوہر ثابت ہوسکتا ہے تو ان کی والدہ کا کہنا تھا: ’کائنات اپنے کریئر کے ساتھ ساتھ اپنے گھروالوں کو لے کر چلنا جانتی ہیں اور اسی طرح کا شخص ان کے ساتھ چل سکتا ہے جو نہ صرف رشتوں کی قدر کرنا جانتا ہو بلکہ ایک مضبوط اور کامیاب عورت کے ساتھ چلنا بھی۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا