ٹرمپ کو تحائف دینے میں چین اور سعودی عرب سب سے آگے

2017 میں امریکی صدر اور ان کے خاندان کو غیر ملکی رہنماؤں کی جانب سے ایک لاکھ 40 ہزار ڈالر سے زائد کے تحائف ملے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی نائب ولی عہد محمد بن سلمان السعود  20 مئی 2017  کو ریاض کے ایک ہوٹل میں ملاقات کے موقع پر۔ فوٹو: اے ایف پی 

وائٹ ہاؤس میں آنے کے بعد پہلے ہی سال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان کو غیر ملکی رہنماؤں کی جانب سے ایک لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے تحفے تحائف موصول ہوئے۔ 

چین اور سعودی عرب 2017 میں امریکی صدر اور ان کے خاندان کو سب سے زیادہ مالیت کے تحائف دینے والوں میں شامل ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق، چینی صدر شی جن پنگ نے صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول ملانیا ٹرمپ کو 14 ہزار ڈالر مالیت کا ایک خطاطی کا فن پارہ، پریزینٹیشن باکس اور 16 ہزار 250 ڈالر مالیت کا چینی مٹی کا بنا ڈنر سیٹ دیا۔ اس ڈنر سیٹ کی پلیٹوں پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مار-اے- لاگو ریزورٹ میں واقع ’پنک ہاؤس‘ کی تصویر نقش کی گئی ہے۔

سعودیوں سمیت مختلف عرب رہنماؤں نے ٹرمپ خاندان کو 24 ہزار ڈالر سے زائد لاگت کے تحائف دیے۔  

ان میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان کی جانب سے دیا گیا چھ ہزار چار سو ڈالر کا یاقوت اور زمرد سے جڑا ہوا ہار اور بحرین کے شہزادہ سلمان بن حماد کی طرف سے دیا گیا چار ہزار 850 ڈالر کا سونے کا پانی چڑھا ہوا لڑاکا طیارے کا ماڈل بھی شامل ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان کو ابوظہبی کے شہزادہ محمد بن زید کی طرف سے تین ہزار 700 ڈالر مالیت کا کانسی کا بنا ہوا عربی ہرنوں کا مجسمہ، کویت کے امیر کی طرف سے ایک ہزار 160 ڈالر کے سونے کے سکے اور عمان کے نائب وزیراعظم کی طرف سے ایک ہزار 260 ڈالر کا پرفیوم بھی ملا۔  

اس کے علاوہ یروشلم کی دیوارِ گریہ کی دیکھ بھال کرنے والے ربی نے ٹرمپ خاندان کو چار ہزار 500 ڈالر کی لاگت کی ذاتی مجلد ’زبور‘ دی جبکہ یروشلم کے چرچ آف ہولی سیپلکر نے تقریباً پانچ  ہزار 800 ڈالر کا سونے اور ہیرے کا ہار اور گریک اورتھوڈاکس سربراہ نے چار ہزار 200 ڈالر کا نیٹیوٹی سین دیا۔

صدر ٹرمپ کے امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے سے پہلے، فلسطینی رہنما محمود عباس نے انہیں اور خاتونِ اول کو بازنطینی زمانے کا نیٹویٹی سین اور ملانیا ٹرمپ کا پورٹریٹ دیا، جن کی کل قیمت تقریباً چھ ہزار 770 ڈالر تھی۔  

یورپی رہنماؤں نے بھی امریکی خاندانِ اول کو مہنگے تحائف سے نوازا۔ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے پانچ ہزار 264 ڈالر کے ماؤنٹ بلانک قلم اور سٹیشنری جبکہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے 1783 میں بنا امریکہ کا نقشہ دیا جس کی لاگت لگ بھگ ایک ہزار 100 ڈالر ہے۔  

اسی طرح ویت نام کے وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو قیمتی پتھروں سے بنا ان کا ایک پورٹریٹ بطور تحفہ دیا، جس میں صدر ٹرمپ امریکی جھنڈے کے آگے کھڑے ہیں، دوسری جانب پولینڈ کے صدر نے انہیں ’صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نیو یارک میں‘ کے نام سے ایک فوٹو البم دیا۔ آٹھ سو 50 ڈالر لاگت کے اس البم میں صدر ٹرمپ کی بلیک اینڈ وائٹ اور ٹرمپ ٹاور کی رنگین تصاویر شامل ہیں۔

خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کو بھی کپڑے، زیورات اور مزید اشیا تحائف کے طور پر ملیں۔ جاپان کے وزیراعظم کی اہلیہ نے ملانیا کو دو ہزار 200 ڈالر لاگت کی میکی موتو کی ہیرے اور موتیوں کی بالیاں اور تین ہزار ڈالر مالیت کی پینٹنگ دی۔ اطالوی وزیراعظم پاؤلو جنٹیلونی نے بھی ملانیا ٹرمپ  کو فیراگامو کا پرس دیا۔

صدر کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کو بیلجیئم کے ہیڈ آف سٹیٹ کی جانب سے ایک ہزار 23 ڈالر کا ڈیل وہ پرس ملا جبکہ سعودی حکومت نے ایوانکا اور ملانیا ٹرمپ کو خوبصورت کڑھائی والے ملبوسات دیے، جن میں پندرہ سو ڈالر کا عبایا بھی شامل ہے۔

2017 میں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر کو غیر ملکی سفارتکاروں کی جانب سے صرف چھ تحائف ملے۔ ان میں سے سب سے مہنگا تحفہ تین ہزار 360 ڈالر کا قلم تھا جو اردن کے شاہ عبداللہ نے دیا۔

ٹرمپ کے خاندان کو ملنے والے تحائف نیشنل آرکائیو میں جمع کروا دیے گئے ہیں اور توقع ہے کہ امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا آفس آف پروٹوکول 64 صفحوں پہ مشتمل تمام تحائف کی فہرست اور ان کی قیمت فیڈرل رجسٹر میں شائع کرے گا۔       

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا