اچھی فوٹوگرافی کے لیے صرف کیمرہ اہم نہیں: آمنہ یاسین

پاکستان کی مشہور اور عالمی مقابلوں میں حصہ لینے والی فوٹو گرافر آمنہ یاسین نوجوانوں کو اچھی تصاویر کھینچنے کے لیے کیا مشورہ دیتی ہیں؟

ہر لمحہ جو گزر رہا ہے وہ ایک تصویر ہے۔ جو کیمرے کی زد میں آ گیا وہ امر ہو گیا، جو ذہن میں محفوظ رہا اسے دیکھنے والے کی زندگی تک کی مدت ملی اور جو کوئی نہ بنا پایا وہ اگلے سانس کے ساتھ ختم ہو گیا۔

تصویر جب کیمرے سے نہیں بھی کھنچتی تھی تب بھی لوگ پورٹریٹس بناتے تھے، لینڈ سکیپ بناتے تھے، سٹل لائف ہوتا تھا۔

یہاں تک کہ سیلفی بھی پینٹ ہوتی تھی۔ وان گوف کا سیلف پورٹریٹ دیکھا جا سکتا ہے، اور بھی بہت سے بنانے والے تھے۔

کیمرہ آیا تو کام ذرا آسان ہو گیا۔ شروع میں جو کیمرے تھے وہ ’روح کھچ‘ کیمرے کہلاتے تھے۔ ان کے سامنے بیٹھنے والوں نے شاید بہت دیر انتظار کرنے کے بعد تنگ آ کے انہیں یہ نام دیا ہو گا۔

چیز ہی ایسی ہوتی تھی، مونچھوں کو بل دیے صاحب بہادر بیٹھے ہیں، دوپٹہ سلیقے سے اوڑھے بیگم ان کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے کھڑی ہیں، کیمرے والے کی گردن پوری کی پوری کیمرے کے پردے میں غرق ہے اور انتظار ہو رہا ہے۔

تصویر خدا جانے کب کھنچے گی، مونچھوں کے بل مرجھا گئے، آنکھیں پتھرا گئیں، ماتھا پسینے سے بھر گیا، بیگم صاحب بے چاری پیر تک نہیں بدل سکتیں، سانس سب کا رکا ہوا ہے، آخر جب کیمرے والے کا سر باہر نکلتا تھا تو مبارک سلامت شروع ہو جاتی تھی کیونکہ یہ طے ہوتا تھا کہ اس نے جب اعلان کرنا ہے تب متاثرین کھل کے سانس لے سکتے ہیں۔

پھر تصویر کی دھلائی کا مرحلہ ہوتا تھا، ڈارک روم میں چھتیس طرح کی مشکلات اٹھائی جاتی تھیں۔ آٹھ دس پرنٹ مسترد ہونے کے بعد ایک میں رزلٹ بہتر ملتا تھا تو فوٹوگرافر فتح یاب ہو کر ایک ہفتے کے بعد تصویر دیتا تھا۔

اس کے بعد تھوڑی ترقی ہو گئی اور باقاعدہ رِیل والے کیمرے آ گئے، ان میں سہولت یہ تھی کہ تھوڑی زیادہ تصویریں لے لی جائیں جو بعد میں اکٹھی دھلوائی جا سکتی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولرائیڈ کیمروں کا اپنا ایک مزہ تھا، ادھر تصویر کھینچیے، ادھر کھٹاک سے پرنٹ ہو کے حاضر، تو یہ سب کچھ وقت کے ساتھ بہتر سے بہتر ہوتا جاتا تھا۔

چھتیس تصویروں کا رول اور مختلف کمپنیوں کے ہلکے پھلکے سے کیمرے ابھی کل ہی کی بات ہیں۔ کئی گھروں کی الماریوں میں پرانے نیگیٹیوز آج بھی پڑے ہوں گے۔ پھر ہم لوگ ایک دم بڑی سی چھلانگ لگا کر ڈیجیٹل فوٹوگرافی کے دور میں داخل ہو گئے۔

یہاں پورا منظر بدل گیا۔ شروع میں ڈیجیٹل کیمرے تھوڑے مہنگے تھے لیکن مارکیٹ کو دھیان میں رکھتے ہوئے چین اور تائیوان نے جب کیمرے بنانے شروع کیے تو عام آنسان کی پہنچ میں آ گئے۔

اچھا پھر یہ خرچہ بھی ایک ہی بار کا تھا، ایک بار کیمرہ خرید لیجیے اس کے بعد جی بھر کر تصویریں کھینچیے، میموری کارڈ بھر گیا تو کمپیوٹر میں خالی کیا، بیٹری خالی ہوئی تو اسے چارجر سے بھر لیا، فری فنڈ میں ہزاروں تصویریں کھچ گئیں جو آج بھی کسی ہارڈ ڈسک میں پڑی کلبلا رہی ہوں گی۔

یہ معاملہ ابھی چار پانچ برس میں عروج پر پہنچا تھا کہ موبائل فونز میں بھی کیمرے لگ گئے اور اب تو یوں ہے کہ بہت ساری پروفیشنل سہولیات والا کیمرہ ہر اچھے سمارٹ فون میں دستیاب ہے۔ اب ہر انسان جو موبائل رکھتا ہے وہ فوٹو گرافر ہے۔ لیکن کیا ہر فوٹو گرافر یادگار تصویریں کھینچتا ہے؟

اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ اچھی تصویر وہ ہے جو صرف آپ کو پسند نہ ہو اس کی اپیل یونیورسل ہو۔ ایک جاپانی کو بھی وہ تصویر اتنی ہی پسند آئے جتنی ایک روسی کو آ سکتی ہے، یا کوئی چینی بھی اسے اتنا ہی پسند کرے جتنا ایک ایرانی کر سکتا ہے ۔

جاپان، ایران، روس کی بات آئی تو اب لازم ہے کہ ہم آمنہ یاسین کا ذکر کریں۔ آمنہ موجودہ زمانے کی ایک مانی ہوئی فوٹوگرافر ہیں۔ 

وہ سوشل ڈاکیومینٹری اور سیلف پورٹریچر پر فوکس کرتی ہیں اور انہیں کئی بین الاقوامی ایوارڈز مل چکے ہیں۔ جاپان میں تصویروں کا ایک بین الاقوامی مقابلہ ہوتا ہے ’انٹرنیشنل فوٹو گرافک سیلون جاپان‘۔ وہاں اس مرتبہ 40 ممالک کے فوٹو گرافر شامل تھے، 10 ہزار تصویریں مقابلے کے لیے بھیجی گئیں اور اس میں آمنہ یاسین پاکستان کے لیے گولڈ میڈل لے کر آئیں۔

ان کی جو تصویر منتخب ہوئی اس کا نام تھا ’ریمیمبرینس آف دی ایبسنٹ۔‘ ویڈیو میں تصویر دیکھیے اور فیصلہ کیجیے۔ نیشنل جیوگرافک فورم یور شاٹ پر بھی تین مختلف سال ان کی تصویریں فیچر کی گئیں اور پبلش ہوئیں۔

آمنہ نے ایک اہم بات ہمیں یہ بتائی کہ بین الاقوامی طور پہ پرنٹ زیادہ چلتے ہیں، ڈیجیٹل تصویر بھیج دینا کافی نہیں ہوتا۔ نئے سیکھنے والوں کو تصویروں کے پرنٹ لینے کا آرٹ بھی آنا چاہیے۔

آمنہ یاسین نے یہ بھی بتایا کہ وہ ان ممکنات پرغور کرتی ہیں جو پاکستان میں ہو نہیں رہے ہوتے اور فوٹوگرافی کے ان تجربوں پر غور کرنے کے لیے بچوں کو بھی دعوت دیتی ہیں، ورکشاپس بھی منعقد کرتی ہیں۔

ان کی ’بیونڈ دا سیلف‘ نامی سیریز ان کے انسٹاگرام یا فیس بک اکاؤنٹ پر دیکھی جا سکتی ہے، جس میں مختلف تھیمز پر وہ خود ماڈل بھی بنتی ہیں اور یہ سیلف فوٹو گرافس کئی کتابوں کے سرورق میں بھی ڈھل چکی ہیں۔

آمنہ یاسین بتاتی ہیں کہ موبائل یا ڈی ایس ایل آر کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی جتنی اچھے مشاہدے کی۔ اگر آپ کی آنکھ دیکھنے والی ہے تو پوری دنیا میں آپ کے لیے تصویریں ہی تصویریں بھری پڑی ہیں۔

ان کا نوجوانوں کو پیغام تھا کہ ہر چیز کی مہارت کی بجائے کسی ایک قسم کی فوٹوگرافی پر فوکس کریں اور اس میں نت نئے راستے تلاش کریں۔

نئے سیکھنے والوں کے لیے ایک اور اہم بات یہ ہے کہ فوٹو گرافی وقت مانگتی ہے، بہت تھوڑا سا وقت دے کر بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

بڑے شہروں میں فوٹو گرافی کی نمائشیں ہوتی ہیں، اگر وقت ملے اور موڈ ہو تو وہاں کا چکر لگا کر جائزہ لیجیے۔ کمپیوٹر سکرین پر تصویر اور اسی تصویر کا پرنٹ بنانے کے درمیان کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس بارے میں کھوج لگایے۔

بلیک اینڈ وائٹ تصویر بعض اوقات رنگین تصویروں سے زیادہ موثر ابلاغ کس طرح کرتی ہے، اس پر غور کیجیے۔ کچھ بھی نہیں کرنا تو کھلے آسمان تلے جایے، اڑتے پرندے، سامنے موجود بجلی کا کھمبا، کہیں کونے میں اُگا پھول، ٹینکی سے نکلا پیپل، پڑوسیوں کی بلی، گلی کا کتا، سامنے والوں کا چھوٹا سا بچہ، سوکھے ہوئے پتے، سب کچھ میں ہزاروں تصویریں چھپی ہیں۔ کوشش کیجیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ