افغان معاہدہ: مردہ پیدائش؟

تشدد نے اور افغان حکومت کے معاہدے کی کچھ شرائط پر عمل کرنے سے انکار نے اس معاہدے کے مستقبل کے بارے میں شدید تحفظات کھڑے کر دیے ہیں۔

طالبان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وقت ان کی طرف ہے (اے ایف پی)

تاریخ ساز دوحہ معاہدہ پیدائش کے کچھ دن بعد ہی شدید خطرات میں گھر گیا ہے۔ ابھی معاہدے کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ تشدد کا ایک خوفناک سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس میں طالبان، امریکی اور افغان افواج برابر کی شریک ہیں۔

اس تشدد نے اور افغان حکومت کے معاہدے کی کچھ شرائط پر عمل کرنے سے انکار نے اس معاہدے کے مستقبل کے بارے میں شدید تحفظات کھڑے کر دیے ہیں۔

تمام فریقوں کے ردعمل سے یہ لگتا ہے کہ یہ معاہدہ ایک مجبوری کے تحت کیا گیا ہے اور تمام فریق اس میں نیک نیتی سے شامل نہیں ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو ایک مشکل صدارتی مہم کا سامنا ہے اور وہ امریکی عوام کے سامنے افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کو اپنی ایک اہم کامیابی کے طور پر پیش کرکے صدارتی انتخاب جیتنا چاہتے ہیں۔ بلاشبہ امریکی عوام اپنی تاریخ کی سب سے مہنگی اور لمبی جنگ، جس کا کوئی اختتام نظر نہیں آرہا، سے بہت عاجز آچکے ہیں۔

ہزاروں امریکی اموات اور ایک کھرب ڈالر سے بھی زیادہ رقم خرچ کرنے کے باوجود امریکی افواج افغانستان میں امن اور ایک مضبوط حکومت قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں اس لیے ایک چالاک کاروباری شخص کی طرح صدر ٹرمپ نے اپنے نفع نقصان کا جائزہ لیتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کی ابتدا کی۔

دوسری طرف طالبان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وقت ان کی طرف ہے۔ امریکی افغانستان میں لمبے قیام کے بعد تھکاوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ امریکی جانتے ہیں کہ انہیں افغانستان میں مکمل کامیابی نہیں مل پائے گی اس لیے وہ جلد از جلد خروج کے خواہش مند ہیں۔ طالبان افغانستان پر مکمل اختیار چاہتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ غیر ملکی افواج کے ہوتے ہوئے یہ ناممکنات میں سے ہے۔ اس لیے انہوں نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ ان کی نظر میں یہ معاہدہ ان کے لیے افغانستان میں مکمل اقتدار کا راستہ ہموار کر سکتا ہے۔

اگر اس معاہدے میں امریکہ اور طالبان کو کوئی خوش آئند مستقبل نظر آ رہا ہے تو بہت سے فریق اس سے نالاں بھی ہیں اور اسے ناکام کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ان ناراض قوتوں میں افغان حکومت، افغان فوج، شمالی اتحاد اور سب سے بڑھ کر امریکہ کی اپنی سی آئی اے شامل ہیں۔ ان تمام فریقوں کی یقیناً کوشش ہوگی کہ یہ معاہدہ ناکام ہو کیونکہ اس کی کامیابی ان کے اقتدار اور طاقت کے خاتمے پر منتج ہو سکتی ہے۔

اس لیے افغان حکومت نے ابتدا ہی سے معاہدے کی بیخ کنی کے لیے پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ رہائی کے بعد یہ قیدی طالبان کی طاقت میں اضافہ کرسکتے ہیں اور اشرف غنی حکومت کبھی بھی یہ نہ چاہے گی۔’

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان افواج بھی اس معاہدے کے خلاف ہیں کیونکہ طالبان کی کامیابی میں انہیں اپنا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے۔ افغان افواج کو تقریباً پندرہ سال سے خطیر امریکی امداد سے پروان چڑھایا گیا ہے۔ اس وقت ان کا افغان سکیورٹی معاملات میں ایک اہم کردار ہے۔ ان کے مالی اور دیگر مفادات بھی موجودہ نظام میں پوشیدہ ہیں۔ یقیناً اپنی اہمیت اور مفادات کے تحفظ کے لیے افغان فوج معاہدے کے نفاذ میں روڑے اٹکائے گی۔

شمالی اتحاد ہمیشہ سے طالبان کے خلاف نبرد آزما رہا ہے۔ انہیں بھی طالبان کی طاقت میں اضافہ کسی طور پر قبول نہیں ہوگا اور وہ اس کا شدت سے مقابلہ کریں گے۔ شواہد بتا رہے ہیں کہ درپردہ ان طاقتوں کو سی آئی اے کی حمایت حاصل ہے اور رہے گی۔ مختلف اطلاعات کے مطابق سی آئی اے اس معاہدے سے متفق نہیں ہے اور یہ معاہدہ صدر ٹرمپ نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے ان پر مسلط کیا ہے۔

سی آئی اے ماضی میں بھی اپنی حکومتوں کی پالیسیوں کے خلاف کام کرتی رہی ہے۔ اس کی دانست میں یہ معاہدہ امریکہ کے عالمی مفادات کے خلاف ہے اور افغانستان میں مزید بدامنی کا باعث ہوگا جس سے امریکہ کو مستقبل قریب میں دوبارہ سے نمٹنا پڑے گا مگر اس وقت تک امریکہ کا کافی نقصان ہوچکا ہوگا۔ اس لیے سی آئی اے کی نظر میں خطے اور عالمی امن کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ افغانستان سے مکمل طور پر انخلا نہ کرے اور نہ ہی طالبان پر اعتماد کرے۔

دو بیرونی فریق ایران اور بھارت اس معاہدہ کی وجہ سے افغانستان میں اپنے اثر رسوخ میں کمی دیکھ رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے افغانستان میں خطیر سرمایہ کاری کی ہے۔ بھارتی ایجنٹوں نے افغانستان کی زمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں بھی کی ہیں۔ طالبان کے غلبے کی وجہ سے نہ صرف بھارت کی سرمایہ کاری کے ڈوبنے کا خطرہ ہے بلکہ اس کی پاکستان مخالف سازشیں بھی ناکام ہو جائیں گی۔ ایران کی شمالی اتحاد میں ضخیم اور طویل سرمایہ کاری ہے اور وہ لسانی بنیادوں اور ہمسایہ ملک ہونے کی وجہ سے کبھی بھی افغانستان میں اپنے اثر و نفوذ میں کمی کو پسند نہیں کرے گا۔

یہ تمام عوامل اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ معاہدہ ناکامی کی طرف گامزن ہے اور افغانستان میں مستقبل قریب میں امن کی امید کرنا خام خیالی ہے۔ اگر معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے بہت خوش آئند ہوگا مگر چونکہ آثار اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں اس لیے ہمیں اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

موجودہ حالات میں ہمیں معاہدے کی حمایت اور کامیابی کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اس کی کامیابی ہمارے فوری قومی مفاد میں ہے۔ معاہدے کے نفاذ کے سلسلے میں اپنا براہ راست کردار کم سے کم رکھ کر ہمیں امریکی حکومت پر زور دیتے رہنا چاہیے کہ وہ اس معاہدے پر عملدرآمد کروائے۔

چونکہ صدرٹرمپ کو اگلے آٹھ مہینوں میں صدارتی انتخاب کا سامنا ہے اور اس معاہدے کی کامیابی کافی حد تک ان کی صدارتی انتخاب میں کامیابی سے مشروط ہے تو ہمیں اس تعلق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ پر اس معاہدے کے عمل درآمد پر دباؤ جاری رکھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں طالبان کو بھی اس معاہدے کی کامیابی کے لیے کام کرنے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ اگر معاہدہ ناکام ہوتا ہے اور افغانستان میں تشدد میں اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں سلامتی کے دیگر مسائل کے علاوہ مہاجرین کی ایک نئی لہر کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

اس معاہدے کی ناکامی اور امریکہ کے انخلا کی صورت میں افغانستان دوبارہ سے 90 کی دہائی والا افغانستان بن جائے گا اور شاید نسلی بنیادوں پر تقسیم بھی ہو جائے۔ چونکہ افغانستان تاریخی طور پر کئی سلطنتوں کا حصہ رہا ہے اور جدید دور میں بھی اس کی سالمیت میں مرکزی حکومت کا کم ہی کردار رہا ہے تو اگر یہ مستقبل میں نسلی بنیادوں پر آزاد مملکتوں میں تقسیم ہو جاتا ہے یا ڈھیلی ڈھالی کنفیڈریشن کی شکل اختیار کرتا ہے تو شاید یہ خطے اور عالمی امن کے لیے بہتر ثابت ہو۔

ہم نے حالیہ تاریخ میں دیکھا ہے کہ سوویت یونین، یوگوسلاویہ اور چیکوسلواکیہ نسلی بنیادوں پر آزاد ملکوں میں تقسیم ہوئے جو اب خوشحالی سے قومی ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ ہمارے اپنے ہاں بھی بنگلہ دیش کی علیحدگی واقع ہوئی ہے۔ اس لیے اگر افغان نسلی گروہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے تو بجائے اس کے کہ وہ مستقل بنیادوں پر ایک دوسرے کے دشمن رہیں اور قتل و غارت میں مبتلا رہیں تو افغان رہنماؤں کو مستقبل قریب میں نسلی بنیادوں پر پرامن علیحدگی یا کنفیڈریشن کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ