لاہور قلندرز کی جیت کو بریک لگ گئے 

کراچی کنگز نے لاہور قلندرز کو باآسانی 10 وکٹ سے ہرا کر پلے آف مرحلے میں اپنا راستہ ہموار کر لیا۔ 

لاہور قلندرز کے فخر زمان بولڈ ہونے کے بعد (اے ایف پی)

کراچی کے تماشائی جمعرات کو لاہور قلندرز کے جارحانہ بلے باز بین ڈنک کی دھواں دھار بیٹنگ دیکھنے کی امید کے ساتھ نیشنل سٹیڈیم پہنچے تھے لیکن ان کی توقعات پر اس وقت اوس پڑھ گئی جب ڈنک 14 گیندوں پر صرف نو رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ 

ویسے کراچی کنگز کے خلاف اس میچ میں لاہور کی پوری ٹیم کی کارکردگی بہت خراب تھی کیونکہ بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں وہ کچھ نہ کر سکے۔

کنگز کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ لاہور کے بلے باز ایک اچھی بیٹنگ وکٹ پر بڑا سکور نہ کر سکے۔ لاہور کے پہلے آؤٹ ہونے والے اوپنر فخر زمان تھے جنھیں عماد آصف نے بولڈ کیا۔ کرس لین اور ڈنک مکمل ناکام رہے۔ 
کنگز نے دونوں کی بیٹنگ کا مکمل جائزہ لے کر اچھی منصوبہ بندی سے گیندیں کیں جس کے نتیجے میں وہ جلدی آؤٹ ہو گئے۔ دوسری طرف سے کپتان سہیل اختر نے اچھی بیٹنگ کی اور 68 رنز بنائے۔ ان کے علاوہ محمد حفیظ نے 35 رنز سکور کیے لیکن بقیہ بلے باز کچھ نہ کر سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کراچی کی نپی تلی بولنگ کے باعث لاہور مقررہ 20 اوورز میں پانچ وکٹ کے نقصان پر بمشکل 150 رنز کا سکور بنا سکی۔ کراچی کے کرس جارڈن اور محمد عامر نے آخری اوورز میں لاہور کے بلے بازوں کی ساری کوششیں ناکام بنا دیں۔ 

کنگز کی مضبوط بیٹنگ لائن کے سامنے 151 کا ہدف آسان نظر آتا تھا جو انھوں نے بغیر نقصان کے پورا کرلیا۔  
اگر لاہورکے بولرز کراچی کی طرح ورسٹائل بولنگ کرتے تو شاید کچھ مقابلہ دیکھنے کو ملتا لیکن شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف سمیت تمام بولرز اوور پچ گیندیں کرتے رہے جس کا شرجیل خان اور بابر اعظم نے پورا فائدہ اٹھایا۔
دونوں نے خوبصورت شاٹ کھیل کر آسانی سے ہدف 17 اوورز میں حاصل کرلیا۔ شرجیل خان نے 74 جبکہ بابر اعظم نے 69 رنز بنائے۔ 
قلندرز کی فیلڈنگ بہت خراب رہی۔ ڈنک اور معاذ خان نے ایک ہی اوور میں شرجیل خان کے آسان کیچ چھوڑے۔ شرجیل کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا انعام دیا گیا۔ 
کرونا وائرس کی وبا کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کھلاڑیوں کو ہاتھ نہ ملانے کی ہدایت کی تھی لیکن میچ کے بعد تقسیم انعامات کے دوران پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان اور دوسرے سپانسرز کھلاڑیوں سے ہاتھ ملاتے رہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پی سی بی اپنے فیصلوں پر خود کتنا عمل کرتی ہے۔ 
کراچی کے بقیہ میچ اب خالی سٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے حکومت سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ تماشائیوں کو سٹیڈیم نہ آنے دیا جائے تاکہ وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کو روکا جاسکے  

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ