بھارتی اہلکاروں کی ہلاکت کا الزام: یٰسین ملک پر فرد جرم عائد

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یٰسین ملک اور دیگر چھ افراد پر 1990 میں مبینہ طور پر بھارتی فضائیہ کے چار اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔

17 دسمبر 2018 کی اس تصویر میں یٰسین ملک ایک احتجاج میں شریک ہیں (تصویر: اےا یف پی)

بھارت کے زیر انتظام جموں کی ایک عدالت نے پیر کو جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین یٰسین ملک اور دیگر چھ افراد پر 1990 میں مبینہ طور پر بھارتی فضائیہ کے چار اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے مقدمے میں فرد جرم عائد کر دی۔

بھارتی خبر رساں ادارے آئی اے این ایس کے مطابق یٰسین ملک اور دیگر پر ٹاڈا اور رنبیر پینل کوڈ (آر پی سی) کی متعدد دفعات کے تحت قتل، اقدامِ قتل، مجرمانہ سازش، غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

جے کے ایل ایف کے چیئرمین دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں اور بھارتی حکومت نے ان کی تنظیم پر مارچ 2019 میں پابندی لگا دی تھی۔

ذرائع نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ یٰسین ملک اور ان کے معاون شوکت بخشی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مقدمے کی کارروائی میں پیش ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا مطالبہ کیا۔ ذرائع نے بھارتی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ مقدمے کی اگلی سماعت 30 مارچ کو ہو گی۔

ہفتے کو انسداد دہشت گردی کے حوالے سے قائم  ٹاڈا عدالت نے کہا تھا کہ آئی اے ایف اہلکاروں کے سری نگر میں ہونے والے قتل میں یٰسین ملک کے ملوث ہونے اور ان پر مقدمہ چلانے کے لیے ابتدائی شواہد موجود ہیں۔

بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے خصوصی جج سبھاش گپتا نے کہا تھا کہ پہلی نظر میں عدالت کے پاس یہ یقین کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں کہ ملزمان یٰسین ملک، علی محمد میر، منظور احمد صوفی عرف مصطفی، جاوید احمد میر عرف ملکا، نانا جی عرف سلیم، جاوید احمد زرگر اور شوکت احمد بخشی دہشت گردی کی واردات میں ملوث تھے۔

جے کے ایل ایف کے سربراہ ملک پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارت کے سابق مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی اور ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بہن روبیا سعید کو اپنے پانچ ساتھیوں کی رہائی کے لیے اغوا کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا