پاکستان میں ایک دن کا بادشاہ

اس دن بادشاہ جو بھی حکم کرتا ہے وادی کے لوگ اسے ماننے کے پابند ہوتے ہیں، دوسری صورت میں جرمانہ بھی لگایا جاتا ہے۔

چترال کے علاقے وادی کیلاش میں برفانی ہاکی جیتنے والے فاتح کھلاڑی کو ایک دن کے لیے بادشاہ بنا دیا جاتا ہے۔ یہ رسم سینکڑوں سال سے جاری ہے۔

وادی بمبوریت کے آخری گاؤں شیخانندہ میں ہر سال برفانی ہاکی کھیلی جاتی ہے۔ یہ لوگ افغانستان کے صوبہ نوستان سے 1895 کے لگ بھگ ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے اور اپنے ساتھ چند کھیل اور رسمیں بھی ساتھ لائے، جن میں برفانی ہاکی اور بزکشی شامل ہے۔

برفانی ہاکی کا فائنل میچ جیتنے کے بعد ٹیم کے کپتان کو  تین دن کے لیے بادشاہ بنایا جاتا تھا، جسے مقامی زبان میں مہتر کہتے ہیں  تاہم آج کل صرف ایک دن کے لیے مہتر بنایا جاتا ہے۔

رواں برس بھی کیلاش برون ٹیم اور شیخانندہ  ٹیم کے درمیان برفانی ہاکی کا زبردست مقابلہ ہوا جس میں شیخانندہ ٹیم نے چار کے مقابلے میں سات گول سے برون ٹیم کو شکست دے کر  ٹرافی اپنے نام کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اختتامی تقریب کے موقع پر  وزیر اعلیٰ خیبر پحتونخوا کے اقلیتی امور کے معان خصوصی وزیر زادہ کیلاش مہمان خصوصی تھے، جنہوں نے باقاعدہ اعلان کیا کہ وہ علاقے کی روایات کا حترام کرتے ہوئے ایک دن کے لیے مہتر تسلیم کرتے ہیں۔

تاہم اس مرتبہ فرق یہ تھا کہ ایک کی بجائے دو بادشاہ یعنی مہتر بنائے گئے۔ مہتر نمبر ایک شیخانندہ بڑے گاؤں سے عبدالرؤف کو چنا گیا جبکہ شیخانندہ چھوٹے گاؤں سے محمد نصیر کو مہتر نمبر دو کے طور پر منتحب کیا گیا۔

ان مہتروں کو گھوڑوں پر سوار کرکے کھیل کے میدان سے جلوس کی شکل میں گاؤں لایا گیا جہاں چھتوں پر کھڑی خواتین اور بچوں نے احتراماً ان پر پھول نچھاور کرکے خوش آمدید کہا۔

جب ایک مہتر سے پوچھا گیا کہ اس مرتبہ دو مہتر کیوں بنائے گئے تو انہوں نے جواب دیا: ’تبدیلی آگئی ہے۔‘

ان مہتروں نے پورے گاؤں کا چکر لگایا اور ہاتھ ہلا کر لوگوں کے خیر مقدمی نعروں کا جواب دیا۔ بعدازاں ان کو ایک مکان میں لایا گیا جہاں انہوں نے قیام کیا اور اپنی کابینہ مقرر کی جن میں وزیر، مشیر، سیکرٹری، ایس ایچ او اور سیکورٹی عملہ شامل تھا۔

اس دن بادشاہ جو بھی حکم کرتا ہے وادی کے لوگ اسے ماننے کے پابند ہوتے ہیں اور نہ ماننے کی صورت میں جرمانہ بھی لگایا جاتا ہے۔ دوسری جانب علاقے کے لوگوں کو بھی بادشاہ کے سلام کے لیے حاضر ہونا پڑتا ہے اور نہ آنے کی صورت میں ان پر جرمانہ بھی لگایا جاتا ہے۔

یہ علامتی بادشاہ لوگوں سے علاقے کے راستے، سڑکیں اور پُل وغیرہ رضاکارانہ طور پر مرمت کرواتے ہیں اور کئی سالوں سے چلے آرہے تنازعات کو بھی حل کرتے ہیں۔

ایک مہتر کا کہنا تھا: ’میرا بس چلے تو غربت ختم کردوں اور لوگوں کے تمام مسائل حل کروں۔ اگر ہمارے حقیقی حکمران ان روایتی بادشاہوں کی طرح ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہو کر ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں تو ملک خداداد میں ہر طرف خوشی  ہی خوشی ہوگی۔‘

بادشاہ بننے والا شخص اپنے طور پر تمام لوگوں کے لیے ایک بیل ذبح کرتا ہے اور آنے والے مہمانوں کو بھنا ہوا گوشت کھلاتا ہے جس میں روایتی طعام جُش بھی شامل ہے، جسے سوپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نہایت عجیب و غریب، مخصوص اور دلچسپ کھیل اور رسم کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں تماشائی بھی آتے ہیں۔

رات کے وقت ایک ثقافتی شو کا اہتمام ہوتا ہے، جس میں لوگ اپنی روایتی موسیقی پیش کرتے ہیں اور رقص کیا جاتا ہے۔

اس رسم میں مسلمان اور کیلاش دونوں حصہ لیتے ہیں اور سب مل جل کر ایک دوسرے کی خوشی  غمی میں شریک ہوتے ہیں جو پیار، محبت، اتفاق اور اتحاد کی ایک مثال ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا