بریگزٹ ڈیل ہو گی یا نہیں؟ فیصلہ کل

اگر برطانوی پارلیمان ڈیل پر متفق نہیں ہوتی تو برطانوی اور برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے رہائشیوں کو مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں۔

برطانوی پارلیمان کے باہر بریگزٹ کے حق میں مظاہرین احتجاج کر رہے ہیں۔ تصویر: روئٹرز/ٹوبی میلوِل

برطانوی اراکین پارلیمان منگل کو برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) پر مجوزہ معاہدے پر رائے شماری کریں گے۔

معاہدے کا مقصد برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کو ہموار کرنا ہے۔

یہ معاہدہ ایک دفعہ پہلے بھی پارلیمان کے سامنے جنوری میں پیش کی گیا تھا مگراُس وقت پارلیمان نے معاہدے کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ تاہم اس بار توقع کی جا رہی ہے کہ 29 مارچ کو بریگزٹ ڈیدلائن کے پیش نظر متعدد اراکین پارلیمان معاہدے کے حق میں ووٹ دیں گے۔

بریگزٹ پر سخت موقف رکنے والوں نے معاہدے پراعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت آئرلینڈ کی سرحد سے متعلق شقوں کی وجہ سے برطانیہ آنے والے سالوں میں بھی یورپی یونین کے ساتھ کسٹم اتحاد میں جڑا رہے گا۔ برطانوی حکومت اس شق پر سمجھوتے کے لیے یورپی یونین سے مزید مذاکرات کر رہی ہے۔

معاہدے کی مزید شقوں میں شہریوں کے حقوق اور برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان حتمی مالی لین دین کی تفصیلات موجود ہیں۔

ڈیل کے اہم نکات:

ٹرانزیشن پیریڈ اور معاشی تعلقات

ٹرانزیشن پیریڈ یا عبوری مدت ڈیل کے اہم ترین نکات میں سے ایک ہے۔ ڈیل کے تحت 31 دسمبر، 2020 (ٹرانزیشن پیریڈ) تک برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین صورتحال موجودہ حالات پر ہی رہی گی اور برطانیہ اور یورپی یونین آپس میں مستقبل پر مذاکرات جاری رکھیں گے۔ اس سے مختلف حکومتوں، بہت سے کاروبار اور افراد کو بریگزٹ کے بعد آنے والی حالات میں ڈھلنے میں آسانی ہو گی۔ 31 دسمبر، 2020 تک کے وقت میں صرف ایک فرق یہ ہوگا کہ برطانیہ یورپی یونین کے اداروں کا حصہ نہیں رہ پائے گا۔

برطانیہ یورپی یونین کی کسٹمز یونین اور 'سنگل مارکیٹ' کا بدستور حصہ اور یورپی یونین کے تجارت، سرمایہ کاری، شعبہ خدمات اور لیبر کے قواعد و ضوابط کا پاس رکھنے کا پابند ہوگا۔ ٹرانزیشن پیریڈ کے دورانیے میں ایک سے دو سال کی توسیع بھی ممکن ہو سکے گی۔

آئرلینڈ سرحد

معاہدے کی ایک شق کے مطابق اگر برطانیہ اور ریپبلک آف آئرلینڈ ٹرانزیشن پیریڈ کے بعد مفت تجارتی معاہدے پر راضی ہونے میں ناکام رہتے ہیں تو شمالی آئرلینڈ (برطانیہ کا حصہ) اور ریپبلک آف آئرلینڈ کی سرحدوں پر چیک پوسٹیں نہیں لگائی جائیں گی۔

معاہدے کے تحت برطانیہ اور یورپی یونین ایک کسٹم سرزمین بنائیں گے اور شمالی آئرلینڈ بھی یورپی یونین مارکیٹ کے قوانین کی پابندی کرتے ہوئے تجارتی اشیا کی بلا روک ٹوک آمد و رفت جاری رکھے گا۔ جبکہ شمالی آئرلینڈ کے کاروباری افراد یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ میں اشیا بغیر کسی پابندی کے لے جا سکیں گے۔

اگر برطانیہ یا یورپی یونین کو ٹرانزیشن پیریڈ کے بعد لگتا ہے کہ ان انتظامات کو ختم ہونا چاہیے تو وہ مل کر اس اتنظام کو ختم کرسکتے ہیں۔

کچھ برطانوی اراکین پارلیمان کو ڈر ہے کہ برطانیہ ٹرانزیشن پیریڈ کے انتظامات میں ہمیشہ کے لیے جکڑ کر رہ جائے گا جس سے اس کی آزاد تجارتی پالیسی کے ذریعے ترقی کے عزم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مجوزہ ڈیل برطانیہ میں مقیم 30 لاکھ سے زائد یورپی یونین کے شہریوں اوریورپی یونین میں رہنے والے 10 لاکھ سے زائد برطانوی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔

یورپی یونین اور برطانیہ کے شہری اور ان کے خاندان موجودہ ممالک میں رہائش، کام اور پڑھائی جاری رکھ سکیں گے اور انہیں مقامی شہریوں جیسے حقوق ہی حاصل ہوں گے۔

یہ سہولیات ان تمام افراد کے لیے ہیں جو ٹرانزیشن پیریڈ ختم ہونے سے پہلے سفر کریں گے۔ انہیں صحت کی سہولیات، پینشن اور دیگر سہولیات میسر رہیں گی۔

ٹرانزیشن پیریڈ ختم ہونے کے بعد برطانیہ میں آنے والے یورپی یونین کے شہری پر سخت امیگریشن قوانین لاگو ہوں گے جس پر ابھی برطانوی پارلیمان میں بحث جاری ہے۔

برطانیہ کے یورپی یونین کو بقایہ جات کا تخمینہ 39 ارب پاؤنڈز (7 ہزار ارب پاکستانی روپے) کے قریب ہے۔

اگرمعاہدہ پاس ہوگیا

اگربرطانوی پارلیمان منگل کو معاہدے کے حق میں ووٹ دیتی ہے تو 29 مارچ کو برطانیہ کا یورپی یونین سے علیحدگی ہو جائے گی۔

اگر معاہدہ پاس نہ ہوا؟

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کے دیے گئے ٹائم ٹیبل کے مطابق اگر برطانوی پارلیمان معاہدے کے خلاف ووٹ دیتی ہے تو اس سے اگلے دن دوبارہ رائے شماری ہوگی جس میں برطانیہ کی علیحدگی بغیر کسی معاہدے کے ہونے یا نہ ہونے پر پارلیمان میں رائے شماری ہو گی۔

اگربیشتراراکین نے معاہدے کے بغیر یورپی یونین چھوڑنے پر ووٹ کیا تو 29 مارچ کو برطانیہ سے علیحدگی کسی معاہدے کے بغیر ہو جائے گا۔ اگر اراکین ڈیل کے بغیر علیحدگی کی مخالف میں ووٹ دیتے ہیں تو اس سے اگلے دن پارلیمان میں علیحدگی کو مؤخر کرنے پر رائے شماری ہوگی۔

علیحدگی کو موخر کرنے کے خلاف ووٹ کی صورت میں برطانیہ بغیر کسی ڈیل کے یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائے گا اور اگر علیحدگی کو مؤخر کرنے کے حق میں اکثریت نے رائے دی تو برطانوی وزیراعظم یورپی یونین سے درخواست کریں گی کے علیحدگی کی ڈید لائن میں توسیع کی جائے۔

بغیر معاہدے کے علیحدگی سے کیا ہوگا؟

برطانیہ کا یورپی یونین سے بغیر کسی معاہدے کے علیحدہ ہونے سے 29 مارچ، 2019 کو برطانیہ یورپی یونین کے حصہ نہیں رہے گا جس کا مطلب ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان مستقبل کے معاملات پر کوئی معاہدے موجود نہیں ہوں گے۔

معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں برطانیہ کو ٹرانزیشن پیریڈ نہیں مل سکے جس کے تحت برطانیہ اور یورپی یونین دونوں آہستہ آہستہ بریگزٹ کی تیاری کر سکتے ہیں۔ معاہدہ طے نہ پانے کی صورت میں برطانیہ اور یورپ کے درمیان سرحد پر سیکورٹی چیک پوسٹوں کی تعیناتی، برطانیہ اور یورپی یونین کی آپسی تجارت میں رکاوٹیں اور عوام کو دیگر مسائل درپیش آئیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا