ایوارڈ یافتہ ڈراما نگار آمنہ مفتی سے ایک ملاقات

آمنہ مفتی ایک ڈراما نگار، سکرپٹ رائٹر اور ٹیچر ہیں، بااختیار اور کامیاب خواتین کی ان سے اچھی مثال ہمیں پاکستان میں کہاں ملے گی؟

صحافت میں ایم اے کرنے والی آمنہ بیگم کو آپ ڈرامہ نگاروں کی صف اول میں آمنہ مفتی کے نام سے موجود دیکھتے ہیں۔ 

اب تک انہوں نے جو ڈرامے لکھے ذرا ان کی فہرست دیکھ لیجیے:

'الو برائے فروخت نہیں'

'جہیز'

'سبز پری لال کبوتر'

'مایا'

'رخصتی'

'اضطراب'

'مول'

'فروا کی اے بی سی'

'جگنو' ( شہزوری کی ڈرامائی تشکیل )

'گھگھی' ( امرتا پریتم کے ناول پنجر کی ڈرامائی تشکیل )

'آخری سٹیشن'

'زن مرید'

'دل محلے کی حویلی'

'جب تک عشق نہیں ہوتا'

'ٹیلی فلم'

'اجل ان سے مل'

'مر کز یقین'

'دادا رے دادا ۔۔۔'

لندن فلم فیسٹیول کے لیے ایک فلم انہوں نے 'خیمے میں مت جھانکیں' کے نام سے لکھی۔ 'من و تو' عرف خمار سنان کے نام سے سٹیج ڈرامہ بھی لکھ چکی ہیں۔ لیکن ڈرامے یا لکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ادب سے بھی تعلق برقرار رکھا ہوا ہے۔ ان کے تین ناول 'جرات رندانہ'، 'آخری زمانہ'، اور 'پانی مر رہا ہے' بالترتیب 2007، 2010 اور 2018 میں آ چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 افسانے بھی ان خاتون کے مختلف ادبی جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں اور ان کا ایک عدد مجموعہ ابھی زیر طباعت ہے۔

آمنہ مفتی پڑھاتی بھی ہیں۔ جامعہ پنجاب شعبہ صحافت میں سنہ 2017 سے فلم سکرپٹ کی وزٹنگ ٹیچر ہیں۔ بااختیار اور کامیاب خواتین کی ان سے اچھی مثال ہمیں پاکستان میں کہاں ملے گی؟

انہیں ملنے والے اعزازات میں پین ایوارڈ 2007، ساحر ایوارڈ 2015 اور لکس ایوارڈ برائے سکرین رائٹنگ 2014 سمیت ناول 'پانی مر رہا ہے' پر 2019 میں ملنے والا گولڈ میڈل بھی شامل ہے۔

آمنہ مفتی سے آپ اب تفصیلی طور پہ واقف ہو چکے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے آپ تک پہنچائے گئے اس انٹرویو میں ان سے تین سوال پوچھے:

ادب میں پیسہ زیادہ ہے یا ڈراما نویسی میں؟ کیا اتنا پیسہ ڈراما نگاری میں کمایا جا سکتا ہے کہ اس سے گھر چل سکے؟

کمائی نہ ہونے کے باوجود ادب سے وابستہ رہنا کیا اپنے اندر کے فنکار کو زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے؟

ڈراموں میں جو نوک جھونک اور لڑائی جھگڑے آپ لکھتی ہیں، کیا وہ آپ کو اپنے آس پاس نظر آتے ہیں یا وہ اصلی زندگی نہیں ہوتی؟

آمنہ مفتی کے جوابات اس ویڈیو میں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن