ہمارے حکمرانوں کے دلچسپ محاورے

ان محاوروں کے جملہ حقوق بحق سرکار محفوظ ہیں، لہذا انہیں سرکاری محاورے بھی کہا جاسکتا ہے۔

جلالِ بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا، اردو کے چند محاورے ہمارے اربابِ اقتدار کے لیے مختص ہو چکے ہیں۔ ان محاوروں کے جملہ حقوق بحق سرکار محفوظ ہیں، لہذا انہیں سرکاری محاورے بھی کہا جاسکتا ہے۔

آپ چاہیں توانہیں حکومتی رسومات بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان کی تفصیل ملاحظہ فرمایئے:

1۔ سخت نوٹس لینا: حکمرانوں اور وزرائے کرام میں سخت نوٹس لینے کی عادت بہت پختہ ہو چکی ہے۔ جب عوام بجلی، گیس، پٹرول کی قلت یا مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر احتجاج کرتے ہیں تو ارباب اقتدار سخت نوٹس لیتے ہیں۔ یہ نوٹس اتنا سخت ہو تو ہے کہ عوام سے نگلا جاتا ہے اور نہ تُھوکا، لہذا قلت اورمہنگائی برقرار رہتی ہے۔

2۔ برہم ہونا: برہم ہونے میں بھی ہمارے اکابرین حکومت اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ وہ کسی سرکاری ادارے، ہسپتال یا رمضان بازار وغیرہ کے اچانک دورے کے موقع پر وہاں دیو مالائی بدانتظامی دیکھ کرمیڈیا کی موجودگی میں سخت برہم ہو جاتے ہیں۔ اس نازک موقع پر وہ دو چار اہلکاروں کو معطل کرنے سے بھی نہیں چُوکتے۔ البتہ بدانتظامی ایسی ڈھیٹ واقع ہوئی ہے کہ ایسی کسی برہمی کو خاطر میں نہیں لاتی اور سرکاری اداروں کے حالات جوں کے توں رہتے ہیں۔

3۔گُھل مِل جانا: کھبی کبھی ہمارے حکمران عوام میں گھل مل بھی جاتے ہیں۔ اس طرح انہیں براہ راست عوامی مسائل جاننے کا نادر موقع ملتاہے۔ اس گھلنے ملنے کے لیے حکمرانوں کو ’عوام‘ مہیا کرنا انتظامیہ اور پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے، جو ان کی گڈ گورنس اور ملک و قوم کے لیے انقلابی فلاحی اقدامات کی دل کھول کر تعریف کرتے ہیں۔

4۔ بغل گیر ہونا: ہمارے سلاطین اپنی میلی کچیلی غریب رعایا کے ساتھ ٹی وی کیمروں کے سامنے بغل گیر ہونے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ رسم بھی ’گھل مل جانے‘ سے مشابہت رکھتی ہے۔ تاہم ارباب اختیار گندے مندے عوام سے بغیل گیر ہونے کے فوراً بعد اپنی سرکاری رہائش گاہ میں جا کر نہا دھو کر نئے کپڑے پہن لیتے ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے آج کل یہ رسم معطل ہے۔

5۔ گلو گیر ہونا: اکابرین حکومت جب دور دراز کسی گاؤں میں درندگی کا شکار ہونے والی بچی کے کچے گھر میں صحافیوں کے ہمراہ ہیلی کاپٹر میں جاتے ہیں تو وہ مظلوم بچی کے سر پر ہاتھ رکھ کر گلو گیر ہو جاتے ہیں اور ملزمان کو سخت سزا دینے کا اعلان کرتے وقت اکثر ان کی آواز بھی بھرا جاتی ہے۔ کبھی کسی عوامی جلسے سے خطاب کے دوران وہ گذشتہ حکومتوں کی جانب سے عوام کی بنائی جانے والی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے بھی گلو گیر ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ غم غلط کرنے کی خاطر کسی غیرملکی دورے پر چلے جاتے ہیں۔

6۔ آبدیدہ ہونا: حکمران کسی زلزلہ، قحط یا سیلاب زدہ علاقے کا فضائی جائزہ لیتے وقت بھوکے ننگے متاثرین کی قابل رحم حالت دیکھ کر آبدیدہ ہونے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پھر انتظامیہ کو متاثرین کی بحالی کے سخت احکامات جاری کر کے گھر پہنچ جاتے ہیں، جہاں پرتکلف لنچ ان کا منتظر ہوتاہے۔ سخت احکامات مذکورہ وصول کرنے والے بھی گھر پہنچ کر ان کی اتباع میں یہی کام کرتے ہیں اور متاثریں سرکاری امداد کے انتظار میں اسی حالت میں پڑے رہتے ہیں۔

7۔ جذباتی ہونا: اکابرین حکومت کو ویسے تو سب اچھا کی رپورٹ ملتی ہے لیکن اگر وہ کبھی میڈیا پر بجلی اور گیس کی لوڈشیڈ نگ بارے کوئی ظالمانہ رپورٹ دیکھ لیں تو وہ فوراً جذباتی ہو جاتے ہیں۔ تاہم جب ان کے وزیر اور مشیر ان کے سامنے یہ سب میڈیا کی سازش ثابت کرتے ہیں تو جذبات کا یہ طوفان تھم جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

8۔ انکوئری کاحکم دینا: بھاری جانی و مالی نقصان کے کسی بھی حادثے کی انکوائری کا حکم دیناب ھی حکمرانوں کی سرشت میں شامل ہے۔ کئی ماہ کی اعلیٰ سطحی انکوئری کے بعد  کلیریکل سٹاف کے چند عناصر کو ذمہ دار ٹھرا کر انہیں برطرف کر دیا جاتا ہے۔ جلد ہی وہ اپنی نوکریوں پر بحال ہو جاتے ہیں اور عوام کسی نئے سانحے کی انکوئری کر کے ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنانے کے مطالبات کر رہے ہوتے ہیں۔

9۔ رپورٹ طلب کرنا: یہ بھی درج بالا محاورے کا ہم پلہ ہی ہے۔ کسی بھی قومی حادثے کی رپورٹ طلب کرنا اہل اقتدار کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ تاہم ایسی رپورٹس کو بھی اکثر جِن بھوت ہی لے اڑتے ہیں اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔

10۔ رقت طاری ہونا: ہمارے ارباب اقتدار جب سرکاری خرچے پر اہل وعیال اور دوستوں کے ہمراہ عمرے پر جاتے ہیں تو حرم میں ملک وقوم کے سر سے بلائیں ٹلنے کی دعائیں مانگتے وقت ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے۔ حالانکہ اگر وہ چاہیں تو قوم کے سر سے بلائیں ٹالنے کا کام یہیں بیٹھے خود بھی کرسکتے ہیں۔ اس نیک کام کے لیے قومی خزانے پر اتنا لمبا ہاتھ مارنے کی کیا ضرورت ہے بھلا؟

11۔ امدادی چیک تقسیم کرنا: بیواؤں، غریبوں اور بےکسوں کے بجلی وغیرہ سے کاٹے گئے ٹیکسوں سے حکمران ان میں امدادی چیک اور سلائی مشینیں وغیرہ بھی تقسیم کرتے ہوئے میڈیا کے لیے فوٹو بنوا کر حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہیں۔

12۔ تہیہ کرنا: ’جنگل کے بادشاہ‘ کو کون کسی کام سے روک سکتا ہے بھلا، چاہے وہ تہیہ کرنا ہی کیوں نہ ہو۔ پس ہمارے اہل اقتدار بھی ہر روز جلسوں میں عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کا تہیہ کرتے ہیں مگر شام کو وہ یہ تہیہ تہہ کر کے قالین کے نیچے رکھ دیتے ہیں۔

13۔ پرزور مذمت کرنا: ہمارے حکمران ہر ایسے ناخوشگوار واقعہ، حادثے یا سانحے کی پرزور مذمت کرتے ہیں، جن کے ذمہ داروں میں ان کا اپنا نام نہ آتا ہو۔

14۔ الزام تراشنا: کوئی نامور سنگ تراش ایسا فن پارہ نہیں تراش سکتا، جیسے ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشتے ہیں، جیسے غدارہے، ملک دشمن ہے، وہ اور ملک اکٹھے نہیں چل سکتے وغیرہ وغیرہ۔

15۔ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنا: ہمارے ہر حکمران کو کرپشن جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا پیدائشی شوق ہوتا ہے۔ ہر صاحب اقتدار اپنے دور میں یہ کارِخیر بجا کر جاتا ہے مگر کرپشن کی جڑیں ایسی مضبوط ہیں کہ پھر سے اُگ کرقدآور درخت بن جاتی ہیں، خدا جانے کیسے؟

16۔ پرہجوم پریس کانفرنس: حکمران و وزرا جب بھی کوئی پریس کانفرنس کرتے ہیں تو اسے پرہجوم ضرور قرار دیتے ہیں۔ اس سے ان کو اپنی اہمیت کا احساس دلانا ہوتا ہے اگر پریس کانفرنس کسی وجہ سے پرہجوم نہ ہو تو برہمی والا نسخہ یہ وزرا اپنے منتظمین پر کھل کر استعمال کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ