لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں تک شراب پہنچانے والا کتا 

امریکی ریاست میری لینڈ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر لگائے گئے لاک ڈاؤن کے دوران خریداروں تک شراب پہنچانے والا کتا لوگوں کے دل جیت رہا ہے۔

 'سوڈا پپ' کے نام سے مشہور یہ کتا شہریوں کو سٹون ہاؤس اربن وائینری سے خریدی گئی شراب پہنچانے میں مدد کرتا ہے(تصویر:الائسا روسٹر)

امریکی ریاست میری لینڈ میں کرونا (کورونا) وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر لگائے گئے لاک ڈاؤن کے دوران خریداروں تک شراب پہنچانے والا کتا لوگوں کے دل جیت رہا ہے۔

 'سوڈا پپ' کے نام سے مشہور یہ کتا شہریوں کو سٹون ہاؤس اربن وائینری سے خریدی گئی شراب پہنچانے میں مدد کرتا ہے، تاکہ سماجی دوری کے اصول پر عمل کیا جا سکے۔

برینڈل باکسر نسل سے تعلق رکھنے والا یہ 11 سالہ کتا ہمیشہ سے اتنا محنتی نہیں تھا لیکن کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر لوگوں کے گھروں تک محدود ہو جانے کے بعد اس نے یہ کردار بخوبی نبھاتے ہوئے لوگوں کی مدد شروع کر دی کیونکہ وہ خود شراب خریدنے وائنری کے اندر نہیں آ سکتے تھے۔

سٹون ہاؤس کی مالکہ لوری یاتہ کا کہنا ہے کہ 'جب ہمیں مہمانوں کو اپنی وائنری میں بلانے کی اجازت نہیں، جہاں سماجی تعلق قائم ہو سکے تو ہم نے دیکھا کہ سوڈا کافی اداس تھا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'ہم دیکھتے تھے کہ جب بھی دروازہ کھلتا تو سوڈا ہر آنے والے کو اچھلتے ہوئے خوش آمدید کہتا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ ہمیں دیکھ سکتے، ان کے سر پہلے سوڈا کی جانب مڑ جاتے تھے ۔'

ظاہری طور پر سوڈا اس نئے کردار سے زیادہ کچھ کر رہا ہے۔ وہ گھوڑے کی زین میں شراب کی بوتلیں لوگوں تک بہت احتیاط سے پہنچاتا ہے۔

لوری یاتہ کہتی ہیں 'جب ہمیں کال آتی ہے تو میں سوڈا کی کمر پر ہاتھ رکھتی ہوں اور سوڈا فوراً تیار ہو جاتا ہے۔ میں مبالغہ نہیں کر رہی لیکن یہ بہت جلدی تیار ہو جاتا ہے۔'
لوگ وقت سے پہلے کال کرکے اپنی شراب کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں اور جب وہ یہ وصول کرنے آتے ہیں تو سوڈا کار پارکنگ میں ہر گاڑی کے دروازے تک جا کے ڈیلیوری پہنچاتا ہے۔
لوری یاتہ کہتی ہیں: 'میں ایک پیک میں دو بوتلیں رکھتی ہوں، پھر میں دروازہ کھولتی ہوں تو یہ اپنے راستے پر روانہ ہو جاتا ہے اور پارکنگ لاٹ میں جاکر لوگوں تک شراب پہنچاتا ہے۔ میں یقینی بناتی ہوں کہ آس پاس کوئی جانور تو نہیں جیسے کہ گلہری، خرگوش یا بطخ وغیرہ، آخر کو یہ ایک کتا ہے۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ