یوٹیوب ویڈیوز دیکھ کر اپنی ڈیلیوری خود کرنے کی کوشش میں خاتون ہلاک

26 سالہ غیر شادی شدہ خاتون پورے حمل سے تھیں، جب انہوں نے زچگی کی آن لائن ویڈیوز دیکھ کر اپنی ڈیلیوری خود کرنے کی کوشش کی۔

خاتون کی اپنی ڈیلیوری خود کرنے کی کوشش کے پیچھے یہ خوف تھا کہ ایک کنواری ماں ہونے پر انہیں معاشرے میں تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔تصویر: پی اے

بھارت کے شہر گورکھ پور کی رہائشی ایک خاتون یوٹیوب ویڈیو کلپس دیکھ کر اپنی ڈیلیوری خود کرنے کے دوران چل بسیں، اس واقعے میں ان کا بچہ بھی جان سے گیا۔

پولیس کے مطابق 26 سالہ غیر شادی شدہ خاتون پورے حمل سے تھیں، جب انہوں نے زچگی کی آن لائن ویڈیوز دیکھ کر اپنے کرائے کے گھر میں اپنی ڈیلیوری خود کرنے کی کوشش کی۔

پولیس کے مطابق اس کوشش کے دوران خاتون اور ان کا بچہ دونوں ہلاک ہوگئے۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے کنٹونمنٹ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او روی رائی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ واقعہ گورکھ پور کے علاقے بلاند پور میں اتوار (10 مارچ) کو پیش آیا۔

انہوں نے  مزید بتایا کہ خاتون کی اپنی ڈیلیوری خود کرنے کی کوشش کے پیچھے یہ خوف تھا کہ ایک کنواری ماں ہونے پر انہیں معاشرے میں تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔

ایس ایچ او رائی کے مطابق اس واقعے کا علم اُس وقت ہوا جب خاتون کے پڑوسیوں نے ان کے کمرے سے باہر آنے والے خون کو دیکھ کر مالک مکان کو اطلاع کی۔

رائی کے مطابق مالک مکان روی اوپادے نے دروازہ توڑا تو کمرے میں خاتون اور ان کا بچہ مردہ حالت میں موجود تھے۔

انہوں نے فوراً پولیس کو اطلاع دی، جس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوایا۔

ایس ایچ او کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد خاتون کی لاش ان کے ورثا کے حوالے کردی گئی، جنہوں نے ایف آئی آر درج کروانے سے انکار کردیا۔

رپورٹ کے مطابق خاتون کے اسمارٹ فون سے انکشاف ہوا کہ وہ ’خود زچگی کیسے کروائی جائے‘ اور ’زچگی کے محفوظ طریقے‘ کے نام سے یوٹیوب ویڈیوز دیکھ رہی تھیں۔

خاتون کی لاش کے قریب سے 2 قینچیاں، ایک بلیڈ اور کچھ دھاگے بھی برآمد ہوئے۔

ایس ایچ او رائی کے مطابق بہرائچ سے تعلق رکھنے والی خاتون  نے چار روز قبل ہی یہ مکان کرائے پر لیا تھا، جبکہ ان کے رشتے داروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ غیرشادی شدہ تھیں۔

بھارت جیسے قدامت پسند معاشرے میں غیر شادی شدہ خواتین کو حمل کے حوالے سے سماجی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ڈاکٹروں سے رجوع نہیں کرتیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا