فطرت نے وبا کے دوش پر دوستی کا پیغام بھیجا ہے؟

ہر وہ چیز جو زمین سے اُگ رہی ہے، زمین پہ جم رہی ہے، پہاڑوں سے نکل رہی ہے، سمندر میں تیر رہی ہے، جنگلوں میں گھوم رہی ہے، کیچڑ میں رینگ رہی ہے، ہوا میں اڑ رہی ہے یا جس بھی حیثیت میں سانس لے رہی ہے اسے دیکھ کر چینیوں کو ہڑپ جانے کا خیال آتا ہے۔

13 فروری 2020 کی اس تصویر میں چینی دارالحکومت بیجنگ کی ایک مارکیٹ میں لوگ گوشت کی خریداری کر رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی)

فطرت نے مدت سے انسانی سامراج کے خلاف مزاحمتی تحریک چلائی ہوئی تھی۔ انسانی طاقتوں نے ہلکی پھلکی جھڑپوں کو نظر انداز کیا تو تحریک میں شدت پیدا ہوگئی۔ مختلف سمتوں سے ہونے والے چھوٹے بڑے حملوں سے بھی بات نہ بنی تو کرونا (کورونا) کے نامعلوم گوریلا دستوں نے تابڑ توڑ حملے شروع کردیے۔

یہ حملے اتنے جان لیوا ثابت ہوئے کہ انسانی سامراج فطرت کے ساتھ اپنے روایتی تعلق کا ازسرِ نو جائزہ لینے پر مجبور ہوگیا۔ کچھ لوگ اس تصادم کے حل کے لیے انسانی رویوں میں کسی بڑے بدلاؤ پر زور دے رہے ہیں۔ سیانے البتہ یہ کہہ کر جان چھڑا رہے ہیں کہ فطرت کے ساتھ تصادم کی بڑی وجہ چین کا ‘جو ملے کھا جاؤ' والا نظریہ خوراک ہے۔اگر وہ ہماری طرح دیکھ بھال کر چیزیں کھانا شروع کردیں تو ممکن ہے فطرت کے گلے شکوے دور ہوجائیں۔ سیانے آسان بھاشا میں کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ کسی نے اپنے لچھن بدلنے ہیں تو بدلتا پھرے، ہم تو بھئی ہمیشہ کی طرح کُھلا کھائیں گے۔ ویسے بھی زندگانی چار دن کی ہے۔ ہم اپنی جی لیں، آنے والوں کا اللہ مالک ہے۔   

لین یوتانگ چین کے بھلے دانشور ہیں۔ان کی مشہور کتاب 'جینے کی اہمیت' مجھے تو خاصے کی چیز لگتی ہے۔ پتے کی بات کرتے ہیں، ڈیل کارنیگی یا کسی موٹیویشنل سپیکر کی طرح بے پرکیاں نہیں اڑاتے۔ زندگی کے حوالے سے مختلف خطوں میں رہنے والوں کی ترجیحات کا وہ موازنہ کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ دنیا کو دیکھنے کا چینیوں کے ہاں طریقہ کیا ہے، مغرب کا انداز کیا ہے، مشرق کا ڈھنگ کیا ہے اور عربوں کا زاویہ کیا ہے۔ ایک جگہ چینیوں اور انگریزوں کے زاویہ نظر کا موازنہ کرتے ہوئے دلچسپ مثال پیش کرتے ہیں۔

لکھتے ہیں: ایک انگریز ڈاکٹر اگر کسی مریض کے گردے میں پیوند لگارہا ہو تو اس کے ذہن میں آنے والے زیادہ تر خیالات کا تعلق انسانی جسم کی پیچیدگیوں، گردے کی تکلیفوں، طبی سہولتوں، علاج معالجے اور دوادارو سے ہوگا۔ یہی گردہ اگر ایک چینی ڈاکٹر کے سامنے ہو تو وہ ایک بار یہ ضرور سوچے گا کہ اسے تیل میں تلا جائے تو کیسا ذائقہ دے گا اور اُبال کے صرف کالی مرچ اور نمک چھڑک کر کھایا جائے تو کیسا لگے گا۔

یہ تو خیر سامنے کی حقیقت بھی ہے۔ ہر وہ چیز جو زمین سے اُگ رہی ہے، زمین پہ جم رہی ہے، پہاڑوں سے نکل رہی ہے، سمندر میں تیر رہی ہے، جنگلوں میں گھوم رہی ہے، کیچڑ میں رینگ رہی ہے، ہوا میں اڑ رہی ہے یا جس بھی حیثیت میں سانس لے رہی ہے اسے دیکھ کر چینیوں کو ہڑپ جانے کا خیال آتا ہے۔ ان کا معاملہ کسی کم آمیز شاعر جیسا بھی نہیں ہوتا کہ خیال ابھی آیا شعر اگلے سال ہوگا۔ معاملہ بالکل نقد و نقد اور ہاتھ کے ہاتھ ہوتا ہے۔صبح کو خیال آتا ہے اور شام کو وہ خیال ہلکی آنچ پہ ابل رہا ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چینیوں کی یہ حرکت ہمیں عجیب تو لگتی ہے، لیکن دیکھا جائے تو چینی ہمارے مقابلے میں کافی حقیقت پسند واقع ہوئے ہیں۔ اماں ابا کو کھاتا پیتا دیکھ کر جس گوشت کی ہمیں عادت پڑی ہم وہی کھاتے چلے آرہے ہیں۔ چینیوں کی طبعیت میں شاید موروثیت نہیں ہے۔ایسا نہیں ہے کہ باپ دادے کسی عقیدے پر تھے تو اگلی نسل بھی اسی پر ہوگی۔ بزرگ کسی جماعت سے وابستہ تھے تو اگلی پیڑی بھی اسی سے چپکی رہے گی۔ پچھلے والوں میں چار پانچ جانور کھانے کا چلن تھا تو منہ ہاتھ دھوکر اگلے والے بھی انہی جانوروں کے پیچھے پڑے رہیں گے۔  

چینیوں کی سوچ یقینا یہ ہے کہ گائے کھائی جاسکتی ہے تو گدھے میں کیا کمی ہے۔ مرغی اور بطخ کے تکے بن سکتے ہیں تو بگلے اور سارس کے کیوں نہیں بن سکتے۔ دنبے کا باربی کیو ہوسکتا ہے تو کتے کا کیوں نہیں ہوسکتا۔ خرگوش تلا جاسکتا ہے تو بلی میں کیا مسئلہ ہے۔ بٹیر ڈکارا جا سکتا ہے تو چمگادڑ میں کیا حرج ہے۔ جھینگے سُوڑے جاسکتے ہیں تو کیکڑے نے کیا گناہ کیا ہے۔ اونٹ نگلنے کی عادت بھی تو شروع میں کسی نے مشکل سے ڈالی ہی ہوگی نا میرے بھائی۔ اتنے بڑے جناور کی  عادت ڈالنے سے اگر کسی کو موت نہیں پڑی تھی تو چھوٹا سا کتا کھانے سے مروڑ کیسے اٹھ سکتے ہیں۔ مہذب لوگ اگر جگر، گردے، دل، پوٹے، دُم، کلیجی، زبان، اوجڑی، انڈے بچے، سِری پائے اور باقی سپئیر پارٹس نہ کھاتے ہوں تو  بات بھی کریں۔ خود تو وحشیوں کی طرح مغز اور نلیاں فرائی کرکے کھا رہے ہیں اور چلے ہیں ہمیں کھانے کی تمیز سکھانے۔ ہٹ!

پھر چینی ہماری طرح جذباتی تضادات کے شکار بھی نہیں ہیں۔ مثلاً کوئی جنگل اور صحراؤں میں پرندوں یا جانوروں کا شکار کرے تو ہمارے دل بیٹھ جاتے ہیں۔ ہم شکاری کو وحشی، درندہ، ظالم، بے رحم اور جانے کیا کیا کچھ کہنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن ہم اگلے دن اسی جانور کا سودا کرتے ہیں، بقلمِ خود اسے ذبح کرتے ہیں، شوق سے حصے بخرے کرتے ہیں، فخر سے تصویریں لیتے ہیں، مزے سے سیخوں پر چڑھاتے ہیں، کوئلوں پر ان کا تیل نکالتے ہیں، سیخ لہراتے ہیں، خدا کا نام لیتے ہیں اور ہنسی خوشی ہڑپ جاتے ہیں۔

اگر کسی بھاگتے ہوئے ہرن کو تیر مارکے کھاجانا درندگی ہے تو انسانیت کیا یہ ہے کہ گائے بھینس دنبے اور بکرے کو پہلے پکڑا جائے، پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے طبیلے میں لے جایا جائے، پانی پلا کر زمین پر پٹخا جائے اور بہت ہمدردی کے ساتھ گلے پر چھری پھیری جائے، مزے کے ساتھ تڑکے لگائے جائیں اور خلوص کے ساتھ ہضم کرلیا جائے؟ یہ تو عبید اللہ علیم کی 'ہے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں' والی بات ہوگئی۔ سیدھا بھیجے میں گولی اتار کے مارا یا منہ پہ تکیہ رکھ کے مارا، مرنے والے کو کیا ملا؟ ڈھاک کے وہی تین پات؟ مرنے والے کے لیے تو ان دونوں صورتوں میں تو اُتنا فرق بھی نہیں ہے جتنا غالب کے قیدِ حیات اور بندِ غم میں ہوسکتا ہے۔

بھلا مرغی کی ران کھینچتے ہوئے تیتر مرحوم سے ہمدردی کا اظہار کیسے کیا جاسکتا ہے۔ ہرن شکار ہوجائے تو ہمیں خیال آتا ہے کہ اس بیچارے کے بھی تو بچے ہوں گے۔وہ بچے اب جنگل میں اکیلے رہ گئے ہوں گے۔ لیکن جب ہم کسی بکری پر تکبیر پڑھ رہے ہوتے ہیں تب یہ خیال ہرگز نہیں آتا کہ یہ بھی رشتے میں کسی کی ماں بہن اور بیٹی ہوگی۔ اسے بھی جدائی کا دکھ ملا ہوگا، اس کی ماں کس حال میں ہوگی، اس کے بچے کہاں رہ گئے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ پارٹی کے لیے خان جی کو کہتے ہیں دیکھ بھائی چھوٹے سائز کا دنبہ لائیو، گوشت مزے کا ہوتا ہے۔

اس کا سیدھا سادہ مطلب یہی ہوتا ہے کہ کسی ماں کے نومولود کو اٹھاکے لانا۔ وہی نومولود جسے جانوروں والے چینل پر یتیم ہوتا دیکھ کر ہماری نیند حرام ہوجاتی ہے۔ اب یہ تو ایسا ہی ہے کہ فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں زندگی کا حق مانگنے والوں کو پولیس مقابلوں میں مار دیا جائے اور کشمیر و فلسطین میں ستائے جانے والے انسانوں کے حق میں شہر کو احتجاجی بینروں سے بھر دیا جائے۔

ہمیں کوئی کہہ دے کہ یہ سوپ کیکڑے کا ہے تو ہمیں ابکائی آجاتی ہے۔ کیونکہ آنکھوں کے سامنے بیچارے کیکڑے کی الجھی ہوئی شکل آجاتی ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ مرغی کا سوپ ہے تو طبعیت کھل جاتی ہے۔ کیونکہ ہماری جمالیات کو مرغی کی شکل و صورت سے کوئی الجھن نہیں ہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ جن جانوروں پر پیار نہیں آتا، ان کی کاٹا پیٹی کی جائے اور اُن جانوروں کو بخش دیا جائے جن پر پیار آتا ہے۔ نہیں، اپنا تو معاملہ ہی الٹا ہے۔اسی کو دیکھ کے جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے۔ اسی جانور پر چھری پھیر دیتے ہیں جس پر ہمیں چھتیس ماؤں جیسا پیار آتا ہے۔ چینی سوچتا تو ہوگا کہ جو لوگ مچھلی جیسی معصوم جان پر سہولت سے چھری چلا دیتے ہیں وہ ہم سے کس بات کا حساب کر رہے ہیں۔

صوفی ملنگ ہونا، گوشت میٹھا ہونا اور آسانی سے میسر ہونا کچھ جانور کا قصور ٹھہر گیا ہے۔ وہی جانور محفوظ ہیں جن کا گوشت خوش قسمتی سے قابلِ خوراک نہیں ہے یا پھر ہمارے نظریات کو اُن پر اطمینان نہیں ہے۔ ایک بڑی تعداد پھر اس لیے بچی ہوئی ہے کہ ان پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ہمیں دھڑکا ہوتا ہے کہ لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔جو ہاتھ نہیں آتے ان کے لیے ہم زندگی کا بندوبست کرکے انسانیت کا ثبوت دے دیتے ہیں اور جو ہاتھ لگ سکتے ہیں ان کا خیال صرف اس لیے رکھتے ہیں کہ وہ مزید خوراک کے قابل ہوسکیں۔

ہمیں اس بات پر اعتراض ہے کہ کراچی والے روز ہزاروں گیلن گندگی سمندر میں کیوں ڈال دیتے ہیں۔ کیا یہ اعتراض ہمیں اس لیے ہے کہ ہمیں آبی حیات سے کوئی ہمدردی ہے؟ ہر گز نہیں۔ اول و آخر ہمیں اپنی بقا کی فکر پڑی ہوئی ہے۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ ہمیں صاف ستھرا پانی چاہیے۔اور جو خوراک ہمیں اُس پانی کے اندر سے فراہم ہو رہی ہے وہ بھی ہمیں اصلی اور نسلی چاہیے۔

فطرت کی حالیہ پر تشدد کارروائیوں کے بعد ایک حد تک ہی سہی، مگر انسانی اشرافیہ فطرت کے متعلق کچھ مختلف سوچنے لگی ہے۔ اس سوچ میں جبر اور تسلط کی پالیسی کی بجائے باہمی دلچسپی کے منصوبے پیش نظر ہیں۔ ماضی میں جن لوگوں نے کہا تھا کہ فطرت کو طبعی موت مرنے کا حق دیا جائے، وہ اب بجا طور پر اپنا لکھا اور کہا دوہرا کر دنیا کو کچھ یاد دلارہے ہیں۔اس پوری بحث میں وہ لوگ فی الحال احمق ہیں جو فطرت کے ساتھ انسانوں کی طرح پیش آنے کو کہہ رہے ہیں۔ وہ سارے لوگ البتہ سدا کے سیانے ہیں جو خود تو آستین چڑھا کے پہاڑی بھینسے کا کلیجہ چبارہے ہیں اور دوسروں کے نوالے تولنے پہ تُلے ہوئے ہیں۔

میں آج کل پہاڑوں پر علی احمد جان کی رہنمائی میں ڈھائی ہزار سال پہلے کی تہذیب کے نقش ڈھونڈ رہا ہوں۔ گئے وقتوں کے کسی سادھو کا پتہ دینے والے ایک درخت کے سائے میں ہم بیٹھے تو سامنے ایک بکری آ گئی۔ دیر تک اس نے علی احمد جان کو گھورا۔ جیسے کہ کہہ رہی ہو، ہاں بھائی تو پھر کیا خیال ہے؟

خیال یہ ہے کہ احمقوں کی بات مان کر فطرت کے ساتھ نیا ضابطہ اخلاق طے کر لیا جائے، یا پھر شریف جانوروں کی شرافت کا فائدہ اٹھانے کی بجائے چینیوں کی طرح چھوٹے بڑے اور لال پیلے کی تمیز ختم کر دی جائے۔ تیتر بٹیر کے بال و پر نوچنے ہیں تو پھر دم توڑتی ہوئی فاختہ پر ماتم بھی نہ کیا جائے۔ گُردے کپورے کھانے ہیں تو پھر کیکڑے پر ابکائی بھی نہ ماری جائے۔ ایک آنکھ روتی ہوئی اور دوسری آنکھ ہنستی ہوئی ٹِک ٹاک پر ہی اچھی لگتی ہے۔   

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ