سندھ میں کرونا وائرس کے متاثرین میں سے 70 فیصد مرد

حکومتِ سندھ کی جانب سے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے اعداد و شمار کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت کراچی اس وائرس سے سب زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں کیسز کی تعداد 685 ہے۔

پورے سندھ میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں مردوں کی تعداد 833 ہے جبکہ کرونا سے متاثرہ خواتین کی تعداد 353 ہے۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

حال ہی میں حکومتِ سندھ کی جانب سے کرونا (کورونا) وائرس سے متاثرہ افراد کے اعداد و شمار کی ایک رپورٹ سامنے آئی، جس میں صوبہ سندھ اور اس کے دارالحکومت کراچی کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سندھ میں 70 فیصد مرد اور صرف 30 فیصد خواتین کرونا وائرس سے متاثر ہوئی ہیں۔

صوبہ سندھ میں کل 29 اضلاع ہیں اور آبادی 50 ملین کے قریب ہے۔ سندھ کے 21 اضلاع سے جمع کیے گئے ڈیٹا کے مطابق اب تک کرونا وائرس کے 1186 مثبت کیسز اور 21 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں، جن میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وائرس سے 70 فیصد مرد جبکہ صرف 30 فیصد خواتین متاثر ہوئی ہیں۔

اس کا انداز اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے سندھ میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں مردوں کی تعداد 833 ہے جبکہ کرونا سے متاثرہ خواتین کی تعداد 353 ہے۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سندھ میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد میں 90 فیصد سے زائد مرد اور صرف چھ فیصد خواتین ہیں۔

اس رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں کرونا وائرس نے سب سے زیادہ نوجوانوں کو متاثر کیا ہے۔ ان میں سب سے بڑی تعداد 20 سے 29 سال کے افراد کی ہے جو 219 ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسرے نمبر پر وہ افراد ہیں جن کی عمر 30 سے 39 سال کے درمیان ہے، یہ تعداد 200 رہی۔

40 سے 49 برس کی عمر والے 157 افراد کرونا وائرس سے متاثر ہوئے، 50 سے 59 سال کی عمر کے 127 جبکہ 60 سے 69 سال کی عمر کے 97 افراد کو اس وائرس نے نشانہ بنایا۔

اسی طرح 70 سال یا اس سے زائد عمر کے 119 افراد میں یہ وائرس رپورٹ ہوا جبکہ اس وبا سے نو سال تک کے بچے سب سے کم متاثر ہوئے ہیں۔

سندھ کے کرونا سے متاثرہ شہروں میں کراچی سرفہرست

اس رپورٹ کے مطابق سندھ میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر کراچی ہے، جہاں اب تک کیے گئے ٹیسٹس کے نتیجے میں 685 کیسز سامنے آچکے ہیں۔ کراچی کے بعد دوسرے نمبر پر سکھر میں کرونا وائرس کے کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی ہے جو 289 ہے، جس کی وجہ ایران سے بذریعہ تفتان آنے والے زائرین ہیں۔

اگر مقامی طور پر وائرس کی منتقلی کی بات کی جائے تو سندھ کے شہر حیدرآباد میں کل 184 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد حیدرآباد نور مسجد سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے ارکان کی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سندھ کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر کراچی کے چھ اضلاع ہیں جن میں سب سے زیادہ ضلع شرقی متاثر ہوا ہے جہاں اب تک کرونا وائرس کے 191 کیسز سامنے آچکے ہیں۔ اس ضلع کے بعد دو سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع وسطی اور جنوبی ہیں، جہاں اس رپورٹ کے مطابق 143 اور 112 کیسز سامنے آئے ہیں۔

ضلع شرقی میں گلشن ٹاؤن، کورنگی ٹاؤن، لانڈھی ٹاؤن اور شاہ فیصل ٹاؤن شامل ہیں۔ رقبے کے حساب سے یہ کراچی کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ اس ضلع کے گلشن ٹاؤن میں ریکارڈ کیے گئے کیسز کی تعداد 122 ہے جو کراچی کے دیگر ٹاؤنز کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

ضلع شرقی کے ڈپٹی کمشنر احمد علی صدیقی سے جب پوچھا گیا کہ ان کی جانب سے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟ تو انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ضلع شرقی میں اس لیے کیسز کی زیادہ تعداد ریکارڈ ہوئی ہے کیوں کہ ہماری ریپڈ ریسپانس ٹیم کا نیٹ ورک بہت مضبوط ہے۔ کراچی میں سب سے زیادہ کرونا وائرس کے ٹیسٹوں اور مریضوں کی تشخیص ضلع شرقی میں ہی ہوئی ہے۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ 'اس وبا کی روک تھام کے لیے ہماری ٹیم زیادہ سے زیادہ ٹیسٹس اور فیومیگیشن کروا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہم لوگوں کو یہ بھی ہدایت کر رہے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہیں۔ ہم یہ ہرگز برداشت نہیں کرسکتے کہ ضلع شرقی میں ایک بھی کیس رپورٹ ہونے سے رہ جائے۔'

سندھ میں کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کی صورت حال

وزارتِ صحت سندھ کے ترجمان عاطف ویغیو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سندھ میں اب تک 12 ہزار 209 کرونا وائرس کے ٹیسٹس کیے جاچکے ہیں، جن میں 868 افراد میں یہ وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا، یعنی ان مریضوں کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سندھ میں روزانہ کی بنیاد پر 300 ٹیسٹس کیے جا رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ان ٹیسٹوں کی تعداد کو بڑھا کر 2200کردیا جائے۔ اگر ٹیسٹوں کی تعداد بڑھا دی گئی تو اس صورت میں سندھ کے پاس صرف 12 دن کی ٹیسٹ کٹس رہ جائیں گی۔‘

وزارتِ صحت سندھ کے ترجمان عاطف ویغیو کے مطابق اس وقت سندھ میں لاک ڈاؤن کے باوجود کرونا وائرس کے مقامی طور پر منتقل ہونے والے 20 کیسز روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہورہے ہیں۔ سندھ میں اس وقت دس مقامات پر کرونا وائرس کے ٹیسٹس ہو رہے ہیں، جن میں آغاخان ہسپتال ، انڈس ، سول ، اوجھا ڈاؤ ہسپتال، پی این ایس شفا، ضیاالدین ہسپتال، چغتائی لیب، ایس آئی یو ٹی، لیاقت میڈیکل ہسپتال حیدرآباد اور جی آئی ایم ایس گمبٹ شامل ہیں۔

عاطف ویغیو کا کہنا تھا: ’ان تمام ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیاد پر تین ہزار 470 ٹیسٹس کرنے کی گنجائش ہے لیکن جس طرح سے مقامی کیسز کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس گنجائش کو بڑھایا جائے اور ہم چاہتے ہیں کہ سندھ کے ہر شہری کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت