کھبے سپنرز کہاں چلے گئے؟

کھبے سپنرز روایتی کرکٹ کا حسن ہوتے تھے۔ ان کا گیند کو پکڑنا اور بائیں ہاتھ سے اس پر انگلیوں کی گرفت کو بار بار مضبوط کرنا اور پھر امپائر اور وکٹوں کے درمیان سے 45 ڈگری کے زاویے سے بھاگتے ہوئے گیند پھینکنے کے عمل کو دیکھنا بذات خود ایک عجیب منظر ہوتا ہے۔

پاکستان کھبے بولرز کے معاملے میں اتنا زرخیز تو نہیں رہا لیکن گذشتہ ادوار میں کچھ ایسے بڑے بولرز  آئے جنہوں نے کھیل کے نقشے بدل دیے۔اقبال قاسم کا نام ان تمام بولرز میں سرفہرست ہے(تصویر: پی سی بی)

پرانے دور کی کرکٹ میں سپنرز ٹیم کا لازمی جزو ہوا کرتے تھے۔ کرکٹ کی تاریخ ایسے سپنرز سے بھری پڑی ہے جو کسی بھی ٹیم کی جان ہوا کرتے تھے۔

ان سپنرز میں لیفٹ آرم سپنرز جنہیں پاکستان کی کرکٹ میں مخصوص نام 'کھبے' سے جانا جاتا ہے۔ ہمیشہ ٹیم کی جان رہے ہیں۔

کھبے سپنرز روایتی کرکٹ کا حسن ہوتے تھے ان کا گیند کو پکڑنا اور بائیں ہاتھ سے اس پر انگلیوں کی گرفت کو بار بار مضبوط کرنا اور پھر امپائر اور وکٹوں کے درمیان سے 45 ڈگری کے زاویے سے بھاگتے ہوئے گیند پھینکنے کے عمل کو دیکھنا بذات خود ایک عجیب منظر ہوتا ہے۔

زیادہ تر کھبے سپنرز کا ہتھیار ان کی لائن اور لینتھ ہوتی ہے۔ ایک ہی زاویے سے مسلسل ایک لائن میں گیند کرنے کا فن شاید صرف کھبے سپنرز کے پاس ہے۔ وہ ایک مستقل مزاجی سے گیند پھینکتے ہیں، گیند کو ایک مخصوص فلائٹ دیتے ہیں، ہوا کے دوش پر تیرتی ہوئی گیند جب بلے باز سے ایک میٹر کے فاصلے پر گرتی ہے تو  اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اٹیک کرے اور غلطی کرے۔ 

ڈیرک انڈر ووڈ،  فل ایڈمنڈ، وینو منکڈ، بشن سنگھ بیدی، ڈینیل وٹوری، رنگانا ہیرتھ، شکیب الحسن، دلیپ دوشی، منندر سنگھ اور نجانے کتنے وہ بڑے کھبے سپنرز ہیں جن کی بولنگ پر زیادہ دیر صبر سے کھیلنا ہر بلے باز کے لیے ایک امتحان عظیم ہوتا تھا۔ اکثر بلے باز اس کوآسان سمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر ہٹ کرتے اور رد عمل میں اکثر دھوکا کھا جاتے۔ اگر گیند کی پچ تک نہ پہنچتے تو سٹمپ آؤٹ ہوتے یا پھر کہیں پر کیچ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کھبے بولرز کے معاملے میں اتنا زرخیز تو نہیں رہا لیکن گذشتہ ادوار میں کچھ ایسے بڑے بولرز  آئے جنہوں نے کھیل کے نقشے بدل دیے۔

اقبال قاسم کا نام ان تمام بولرز میں سرفہرست ہے۔ ایک طویل عرصہ تک پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اقبال قاسم کے کریڈٹ پر بہت سارے ایسے میچ ہیں جہاں وہ ٹیم کی امیدوں کا مرکز تھے اور انہوں نے مایوس نہیں کیا۔ آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ ہو یا بھارت کے خلاف بنگلور ٹیسٹ ان کی بولنگ نے ٹیم کو سرفراز کیا۔

ان کی سب سے بڑی خوبی ان کا سٹیمنا اور گھنٹوں ایک ہی لائن میں بولنگ تھی۔ وہ مڈل اور لیگ سٹمپ پر بولنگ کرتے، جس سےسنیل گواسکر جیسے مہان بلے باز کو بھی مشکل پیش آتی تھی۔

نسیم الغنی پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کے اولین کھبے بولر تھے۔ وہ ایک اچھے بولر تھے لیکن زیادہ وکٹیں نہ لے سکے۔ ان کے ساتھ مبشر سجاد بھی اچھے کھبے اسپنر تھے لیکن زیادہ نہ چمک سکے۔

اقبال قاسم کے بعد پاکستان کوئی موثر لیفٹ سپنر پیدا نہ کرسکا۔ اگرچہ ندیم خان، عبدالرحمٰن، محمد نواز اور کئی دوسرے بولرز آئے مگر ان کی بولنگ میں نہ تو اس قدر جان تھی کہ مستقل جگہ پاتے اور نہ ہی ان میں محنت کا وہ جذبہ تھا، جس کے لیے اقبال قاسم مشہور تھے۔

مشہور کرکٹ مبصر قمر احمد جو خود بھی ایک کھبے اسپنر تھے،  کہتے ہیں کہ اگر کھبے سپنرز کی بات کی جائے تو پاکستان میں صرف ایک نام اقبال قاسم نظر آتا ہے، جنہوں نے بھرپور کرکٹ کھیلی۔ ان کے مطابق یہ الزام غلط ہے کہ عمران خان نے اقبال قاسم کو کم مواقع دیے۔ عمران خان ایک جارحانہ کپتان تھے اس لیے وہ عبدالقادر پر زیادہ بھروسہ کرتے تھے۔ عبدالقادر مرحوم لیگ  بریک گگلی بولر تھے اور عمران خان کے خیال میں ایک گگلی بولر زیادہ موثر ہوتا ہے۔

آخر اب کھبے سپنرز نظر کیوں نہیں آتے؟

قمر احمد کہتے ہیں کہ موجودہ دور کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نے سپنرز کا کردار بہت محدود کردیا ہے۔کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کرکٹ کے فارمولے نے روایتی سپنرز کو آہستہ آہستہ غائب کرنا شروع کردیا ہے۔ ایک کھبے سپنر کو اپنےآپ کو ٹریک پر لانے کے لیے پانچ چھ اوورز چاہیے ہوتے ہیں جو کہ موجودہ کرکٹ میں ناممکن ہے۔

کھبے سپنرز کا کردار ٹیسٹ کرکٹ تک رہ گیا ہے جن کی تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے۔ اب کوئی بھی ٹیم سال میں سات سے زیادہ ٹیسٹ نہیں کھیل پاتی، جس کا براہ راست اثر ان کھلاڑیوں پر پڑ رہا ہے جو روایتی کرکٹ کھیلتے ہیں۔

کھبے سپنرز کی بقا کے لیے سب سے اہم چیز طویل دورانیے کی ٹاپ لیول کرکٹ ہے۔ اگر ٹیسٹ کرکٹ کم ہے تو کرکٹ بورڈز کی ذمہ داری ہے کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کو زیادہ فروغ دیں تاکہ نوجوانوں میں روایتی کرکٹ کا شوق پیدا ہو۔

آج کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھی کچھ ایسے کھبے سپنرز موجود ہیں جو ٹیموں میں جگہ بنالیتے ہیں لیکن ان کی شمولیت کے لیے پہلی نظر ان کی بیٹنگ پر ڈالی جاتی ہے۔  رویندر جڈیجا اور شکیب الحسن اس کی مثال ہیں، جنہیں بولنگ سے زیادہ بیٹنگ کے لیے ترجیح دی جاتی ہے۔

پاکستان میں اس وقت عماد وسیم نمایاں کھبے سپنر ہیں۔ ان کے ساتھ نوجوان محمد عمر اور محمد اصغر بھی ہیں، جن کو تیار کیا جاسکتا ہے۔

ماضی میں بے شمار ٹیسٹ میچز کا اپنی خطرناک بولنگ سے نتیجہ بدلنے والے کھبے سپنرز آج کی تیز ترین کرکٹ کی طلب شاید نہ ہوں لیکن ٹیسٹ کرکٹ آج بھی ان کے بغیر نامکمل ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ جس کی بقا کے لیے آئی سی سی نے متعدد اقدامات کیے ہیں، ان میں سے ایک قدم کھبے سپنرز کی تلاش اور حوصلہ افزائی بھی ہونا چاہیے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو پرانے کھبے سپنرز کے ساتھ مل کر ایک ٹاسک ٹیم بنانی ہوگی، جو کھبے سپنرز تلاش کرے اور پھر دستیاب ٹیلنٹ کی نوک پلک سنوارے اور ان کو بڑے مقابلوں کے لیے تیار کرے۔

اگر کرکٹ کے ارباب اختیار نے توجہ نہ دی تو پھر کھبے سپنرز کا فن ختم ہوجائے گا کیونکہ ہر شے کا وجود اور بقا اس کی ضرورت اور اہمیت میں پوشیدہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ