پشاور: کیا کرونا وائرس کے کچھ کیس نظرانداز ہو رہے ہیں؟

سوشل میڈیا پر کچھ صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ کچھ کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود سرکاری حکام توجہ نہیں دے رہے، تاہم اسسٹنٹ کمشنر اس دعوی کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

پشاور: ایک بزرگ لاک ڈاؤن میں ٹرانسپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان میں کرونا (کورونا) وبا کی روک تھام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے لاک ڈاؤن سمیت مختلف اقدامات اٹھانے کے باوجود بعض حلقے الزام عائد کر رہے ہیں کہ سرکاری محکمے کرونا وائرس کے کئی پازٹیو کیسز کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر مبینہ مثبت کیسز پر توجہ نہ دینے کی شکایت کرنے والے خدشہ ظاہر کرر ہے ہیں کہ سرکاری حکام کی لاپرواہی سے وائرس  پھیلنے کا خطرہ ہے۔

بعض لوگوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے رابطہ کرتے ہوئے مختلف علاقوں کے نام بتائے، جہاں ان کے خیال میں وائرس کے مثبت کیس موجود ہیں، تاہم پولیس اور ضلعی انتظامیہ مبینہ طور  پر انہیں نظر انداز کر رہی ہے۔

اس معاملے پر عوام کی واضح رائے لینے کے لیے ان سے سوال کیا گیا تو اکثر لوگوں نے بتایا کہ آج کل افواہیں بھی پھیلائی جا رہی ہیں، جب کہ کچھ  لوگ بغض کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف پولیس کو کال کررہے ہیں۔

ایک عوامی تاثر یہ بھی  ہے کہ معاشرے کے بااثر خاندان اپنے اثر رسوخ کی بنیاد پر اپنا مرض چھپا دیتے ہیں تاکہ ان کا نام سامنے نہ آئے اور ان کے گھر پر کسی قسم کا پہرہ نہ لگے۔

ان تمام الزامات کا جواب لینے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے ضلع  پشاور کے اسسٹنٹ کمشنر اصلاح الدین خان سے رابطہ کیا تو انھوں نے ان  الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ متاثرہ افراد کو یا تو نظرانداز کیا جائے اور یا ان کا کیس چھپایا جائے۔

’کم از کم ہمارے پاس ایسا کچھ نہیں ہو رہا ۔ وائرس سے نمٹنے کے لیے اور اس کو پھیلنے سے روکنے میں ہی ہم سب کا بھلا ہے اور اسی  لیے ہم نے ایک ہیلپ لائن اور   ریپڈ رسپانس ٹیم(آر آر ٹی ) تشکیل دی ہوئی ہے، جو اطلاع موصول ہوتے ہی متعلقہ شخص کے گھر پہنچتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ لوگ ایسی باتیں کر سکتے ہیں،تاہم اس وائرس سے نمٹنے والے محکموں  کو خبر ہے کہ کس پر نظر رکھنی ہے اور کون سے علاقے کو کوارنٹین قرار دینا ہے۔

’متاثرہ شخص کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ چیک اپ کے بعد اس کا ٹیسٹ لیب جاتا ہے اور پازیٹیو آنے کی صورت میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرانتظامیہ کو اطلاع دے کر ایسے فرد کا گھر کوارنٹین قرار دینے کی درخواست کرتے ہیں۔'

اصلاح الدین خان کے مطابق ان کی ہیلپ لائن 24 گھنٹے فعال رہتی ہے  اور ہر سنجیدہ کالر کی بات پر  عمل کرنے کے لیے رات کے وقت بھی تیار رہتے ہیں۔

کرونا وائرس کے مشتبہ افراد تک رسائی حاصل کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کی ایک صوبائی ہیلپ لائن بھی  ہے،جس کے انچارج  ڈاکٹر حامد خان کے مطابق انہیں روزانہ کم و بیش ایک ہزار فون کالیں موصول ہوتی ہیں، جن میں سے  400کے لگ بھگ کالیں  رہنمائی یاشکایات درج کروانے کے لیے ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ کل پشاور کے علاقوں ہائیپر مال، ودود سنز سٹور فیز فائیو، بسم اللہ مارکیٹ حیات آباد، اور گلی نمبر 15 فیز سیون حیا ت آباد  میں کرونا وائرس کے مثبت رپورٹ سامنے آنے کےبعد  ان کو سیل کر دیا گیا تھا۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی صحت