’فرنٹ لائن سپاہی محفوظ نہیں تو جنگ خاک جیتیں گے؟‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر قیصر سجاد کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ اگر سب ڈاکٹروں کو حفاظتی کٹیں فراہم کر دی جاتیں تو آج ایسے حالات نہ ہوتے۔

ڈاکٹروں کو سپاہیوں کے سلیوٹ کا ایک منظر (اے ایف پی)

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں 150 ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

پی ایم اے ملتان کے صدر ڈاکٹر مسعود ہراج کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ ڈاکٹروں اور عملے کی زیادہ تعدادجنوبی پنجاب کے اضلاع ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں ہے اور اب یہ تعداد چالیس تک پہنچ چکی ہے۔

ڈاکٹروں میں کرونا پھیلنے کے محرکات:
سابق صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب ڈاکٹر اظہار چودھری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں میں کرونا وائرس پھیلنے کی ایک وجہ حکومت کی جانب سے انہیں حفاظتی سہولیات فراہم کرنے میں تاخیر ہے۔ دوسری وجہ ان کے مطابق یہ تھی کہ ڈاکٹروں کی جانب سے خود بھی احتیاط نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کو مشورہ دیاگیاتھاکہ یہ وائرس عالمی وبا ہے اور اس کا علاج بھی موجود نہیں لہذا ہسپتالوں کے لیے جو نئے فنڈز رکھے گئے ہیں انہیں استعمال کر کے چین کی طرز پر ایک یا دوعلیحدہ ہسپتال بنا لیے جائیں تاکہ دیگر ہسپتالوں میں مریضوں اور ڈاکٹروں سمیت عملے کو اس سے محفوظ بنایاجاسکے۔ دوسرا یہ کہ قرنطینہ سینٹرز بھی پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں بنالیے جائیں تاکہ کنٹرول کرنے میں آسانی ہو اور ڈاکٹروں کو حفاظتی سامان فوری مہیاکردیاجائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پی ایم اے کی کوئی تجویز نہیں مانی جس سے یہ نقصان ہوا۔ اب یہ وبا نہ صرف آبادیوں تک پھیل رہی ہے بلکہ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کا عملہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہا، محفوظ ہی نہیں تو وہ علاج کیاکریں گے؟

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے خود بھی احتیاط نہیں کی یہی وجہ ہے کہ ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں ایک ایک ڈاکٹر سے دیگر ڈاکٹروں اور عملے میں کرونا وائرس منتقل ہوا۔
صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب ڈاکٹر سلمان حسیب نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت ڈاکٹروں کو حفاظتی کٹوں کے بغیر کرونا کے خلاف جنگ پر مجبور کر رہی ہے جو ڈاکٹروں کی زندگیوں سے کھیلنے والی بات ہے لیکن کسی نے ہماری نہیں سنی اور اب یہ اتنا بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پنجاب میں اب تک 70سے 80ڈاکٹروں،نرسوں اور عملے میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے، ابھی ٹیسٹ کیے جارہے ہیں یہ تعداد مزید بڑھنے کا خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال پر وائی ڈی اے آئندہ لائحہ عمل جلد بنائے گی اور منظر عام پر لائے گی۔
پی ایم اے ملتان کے صدر مسعود ہراج کے مطابق ملتان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے ڈاکٹروں کی تعداد26تک پہنچ گئی ہے۔ تین نرسوں اور عملے کے چار افراد میں کرونا وائرس مثبت ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔نشتر ہسپتال ملتان کے آئیسولیشن وارڈ میں علاج کرنے والا عملہ ہی وائرس سے شدید متاثر ہوچکا ہے۔
وائی ڈی اے ڈیرہ غازی خان کے صدر ڈاکٹر نعمان چودھری کے مطابق ڈی جی خان میں بھی ڈاکٹروں،نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف میں کرونا متاثرین کی تعداد سولہ ہوچکی ہے جو اب آئیسولیشن میں ہیں۔ ان کے مطابق ایران سے آئے زائرین کے لیے ڈیرہ غازی خان میں میں بنائے گئے قرنطینہ سینٹر میں ڈیوٹی کرنے والے ایک ڈاکٹر سے ان کے ہوسٹل اور ہسپتال میں کام کرنے والے دیگر ڈاکٹروں اور عملے کو یہ وائرس منتقل ہواتھا۔
حکومتی اقدامات اور ڈاکٹروں کی تشویش:
سیکرٹری محکمہ صحت پنجاب کیپٹن (ریٹائرڈ)محمد عثمان نے انڈپینڈنٹ اردوسے بات کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر کرونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن سپاہی کاکردار ادا کر رہے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے انہیں حفاظتی سامان اور دیگر سہولیات کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا گیا تاہم بعض مقامات پر ڈاکٹروں ،نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف میں کرونا وائرس کی تشخیص پر افسوس ضرور ہواہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ محکمے نے ڈاکٹروں کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ ان کی سفارشات پر مکمل عمل کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹروں کو سہولیات فراہم کرنا ہمارافرض ہے کیونکہ اس کے بغیر عام شہریوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا ممکن نہیں۔تمام ہسپتالوں میں ان کی ضرورت کے مطابق سامان فراہم کر دیا گیاہے۔
مرکزی جنرل سیکرٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے)ڈاکٹر قیصر سجاد نے اس دعوے کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کو حکومت نے بے یارومددگار چھوڑ رکھاہے۔انہیں ابتدا میں حفاظتی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں اور اپنی مدد آپ کے تحت بیشتر ڈاکٹروں نے سامان خرید کر اپنے فرائض ادا کیے۔

انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 150سے زائد ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف کو کرونا وائرس لاحق ہوچکاہے جوکہ تشویش ناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی رویہ قابل افسوس ہے۔ سندھ، پنجاب، کے پی کے، بلوچستان میں ڈاکٹروں کی زندگیاں ناقص حکمت عملی کے باعث خطرے میں ڈال دی گئی ہیں۔ ڈاکٹر قیصر کے مطابق اس وبا سے نمنٹنے کے لیے ابھی تک عالمی معیار کو مد نظر نہیں رکھاگیا۔ صرف ان ڈاکٹروں جو کرونا وائرس سے متعلق مریضوں یا قرنطینہ مراکز میں ڈیوٹی کر رہے ہیں، انہیں حفاظتی سامان فراہم کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ جب کہ دیگر ڈاکٹروں میں دوسرے امراض کے مریضوں کے چیک اپ کرنے سے کرونا وائرس منتقل ہوا۔ فرنٹ لائن سپاہی محفوظ نہیں ہوں گے تو جنگ خاک جیتیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سب ڈاکٹروں کو حفاظتی کٹیں فراہم کر دی جاتیں تو آج ایسے حالات نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ اس وباء سے لڑنے والوں کو سب سے پہلے بچایاجائے تب ہی شہریوں کو طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت