رواں صدی کی سب سے بڑی عفریت کرونا (کورونا) پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے اور معاشی اور طبی بحران کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔
دانشوروں کا خیال ہے کہ یہ تیسری عالمی جنگ ہے، یہ تباہی ہے اور دنیا کو اتھل پتھل کرنے والا، صحت، ماحول اور معیشت کا اجتماعی بحران ہے اور دنیا اب 31 دسمبر سے پہلے کی دنیا سے مختلف ہوگی۔
پاکستان کے معروف تاریخ دان اور دانشور ڈاکٹر مبارک علی سمجھتے ہیں کہ کرونا وائرس نے ثابت کردیا ہے کہ قوموں کا دفاع اب ہتھیاروں سے نہیں بلکہ صحت اور تعلیم کے ذریعے ہوگا۔
ڈاکٹر مبارک علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ پہلے جب وبائیں آتی تھی تو یہ علاقائی ہوتی تھیں، جیسے ہندوستان میں ہیضے کی وبا، ملیریا، چیچک اور خسرے کی وبا آئی تو یہ صرف ہندوستان تک ہی محدود رہی لیکن کرونا ایک عالمی وبا ہے اور اس کے سیاسی، معاشی اور اخلاقی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔
ڈاکٹر مبارک علی کے بقول: 'کرونا نے امیر اور غریب کا فرق ختم کردیا۔ جو سرمایہ دار سمجھتے تھے کہ وہ اپنے سرمائے کے ذریعے محفوظ رہیں گے، وہ غلط ثابت ہوگئے۔ یہ کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سیاسی قیادت کے لیے بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ موجودہ حالات میں کس طرح کے فیصلے کرتے ہیں۔
چودہویں صدی میں جب طاعون کی وبا آئی تھی تو اس نے یورپ کی 40 فیصدآبادی کو ختم کردیا تھا اور کھیتی باڑی کرنے والے افراد کی قلت پیدا ہوگئی تھی، جس سے معیشت اور سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوئے تھے۔
ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق: 'وبائیں معاشرے سے آتی ہیں، جب ہم فطرت کو ختم کریں گے تو فطرت انتقام لیتی ہے، دنیا میں چین سمیت دیگر ممالک نے معاشی برتری کے لیے فطرت کے خلاف کام کیے، جس کا نتیجہ کرونا کی صورت میں سامنے آیا۔'
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وبائیں طویل ہوتی ہیں، جیسے کہ کرونا جو عالمی وبا ہے اور اس کا خاتمہ وقت طلب ہے جس سے نہ صرف ہماری معشیت، زندگی، تخلیق، آرٹ اور کلچر پر اثر پڑے گا بلکہ پسماندگی بھی بڑھے گی۔
ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق چونکہ سیاسی قیادت اس کی اہل نہیں کہ وہ کرونا کے حوالے سے درست فیصلےکرسکے اس لیے سیاست دانوں کو ابھی تک ادراک نہیں کہ یہ کتنا بڑامسئلہ ہے۔
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ کرونا کی وبا سے لوگوں کو آگاہی کے لیے دانشوروں کو کردار ادا کرنےکی ضرورت ہے کیونکہ 'سیاست دان وبا کو روک نہیں سکتے، ہمیں سائنس کی طرف جانا ہوگا۔'
پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا ایران سے بذریعہ تفتان بارڈر آنے والے زائرین کے باعث پھیلی، جو ایران کے شہر قم میں زیارت کے لیے گئے تھے۔
ایران سے آنے والے زائرین کو تفتان میں رکھنے اور موثر انتظامات نہ کرنے پر بلوچستان حکومت پر شدید تنقید کی گئی تھی اور بعض لوگ تفتان کو ہی پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب قرار دیتے ہیں۔
اس حوالے سے بلوچستان کے معروف سیاست دان، دانشور اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت کرونا کا مقابلہ ایک انوکھے طریقے سے کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت ٹوئٹر، الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے، لیکن عملاً بلوچستان میں اس کا وجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کرونا کے حوالے سے پاکستان کی سیاسی قیادت مجموعی طور پر غیر منطقی باتوں میں وقت ضائع کر رہی ہے۔
ڈاکٹر مالک کے مطابق: 'بجائے اس کے کرونا کا مقابلہ کرنے کے لیے ہماری سیاسی قیادت کوئی دانشمندانہ فیصلہ کرتی لیکن وہ برآمدات اور روزگار کی بات کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں ایئرپورٹس اور سرحدیں بند ہیں تو کاروبار اور روزگار کہاں سے آئے گا؟'
ڈاکٹر مالک سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں حکمرانی کرنے والی سیاسی قیادت عوام کو دھوکہ دے رہی ہے اور اصل حقیقت سے آنکھیں چرا رہی ہے۔