طالبان کا شاعر کمانڈر انس حقانی

افغان طالبان کے اہم رہنماؤں میں سے ایک انس حقانی سے دوحہ میں ملاقات کا احوال۔

دائیں ہاتھ میں تسبیح اور پاؤں میں چپل یہ ہیں انس حقانی (اے ایف پی)

دوحہ میں اس سال 29 فروری کو بڑی تعداد میں افغانستان کے جمع طالبان نے ناصرف ’کامیابی کی ریلی‘ نکالی، امن معاہدے پر دستخط کئے بلکہ بعد میں اسی شیرٹن ہوٹل میں ایک اور منفرد اجتماع بھی منعقد کیا جس کی کوریج نہیں ہوئی۔ وہ مجلس تھی شعر و شاعری کی۔

اس مصروف ہوٹل کی ایل لابی میں منعقد اس مشاعرے میں شرکت کی دعوت مجھے بھی تھی لیکن پیشہ ورانہ مصروفیت کی وجہ سے شرکت نہ کر سکا۔ وہاں ایک اہم شخص نے اپنی نظموں کے یہ مصرعے پڑھ کر سنائے اور داد وصول کی۔

آزادی تاریک قیدخانوں سے پیدا ہوتی ہے

اور

میرا دل خون اور قلم آنسوؤں سے بھرا ہے

دو مختلف نظموں کے یہ مصرعے آپ کے خیال میں کس کے ہوسکتے ہیں؟ کسی اچھے شاعر کے یقینا۔ ایسا شخص جو مشکل حالات کو ناصرف دیکھ رہا ہے بلکہ انہیں برداشت بھی کر رہا ہے۔ اسے دنیا ایک شدت پسند تحریک کا اہم رہنما کہتی ہے لیکن اندر سے وہ بظاہر ایک نرم دل انسان معلوم ہوتا ہے۔

یہ مصرعے سوچے اور لکھے ہیں حقانی نیٹ ورک کے ایک چشم و چراغ نے۔ جی وہی حقانی نیٹ ورک جس نے کبھی سویت یونین کی افغانستان میں شکست میں کلیدی کردار ادا کیا اور پھر امریکیوں کی جان کو آ گئے۔ وہی حقانی نیٹ ورک جسے افغانستان کی طالبان تحریک کا عسکری حصہ مانا جاتا ہے۔ وہ مہلک تنظیم جسے امریکہ نے 2012 اور پاکستان نے 2015 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔

آپ کا خیال شاید حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور طالبان تحریک کے نائب امیر سراج حقانی کی جانب جائے لیکن نہیں۔ میں ان کی نہیں بلکہ ان کے شاعرانہ طبیعت کے مالک چھوٹے بھائی انس حقانی کی بات کر رہا ہوں۔ موصوف نے خود مجھے بتایا کہ وہ جنگ و جدل سے زیادہ شاعری میں دلچسپی رکھتے ہیں اور پانچ سال تک امریکی قید کے دوران اپنی مادری زبان پشتو میں کئی نظمیں اور غزلیں لکھیں جنہیں اب وہ کتابی شکل میں شائع کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہی مجھے مشاعرے کی اطلاع اور دعوت دی تھی۔

ان کا ایک اور پشتو میں شعر ہے:

احسان غشې دي وار کړی د حاسد په لوری
بس ترې بې غمه شه د شر یې اندېښنه مکؤۀ
ترجمہ: جو حاسد ہمیں کچھ مفادات کے عوض لڑانا چاہتے تھے ان کو خوب نوازا جاچکا ہے ۔ ان حاسدین کو اب خاموش ہونے کے لیے کچھ نہ کچھ مل چکا ہے وہ اس میں مگن ہے آپ اس حاسد سے بے فکر ہوکر اپنا سفر جاری رکھیں۔

اشارہ ان کا میرے خیال میں پڑوسی ممالک کے طرف ہے۔

وہ پہلے مجھے معروف کتاب ’طالبان‘ کے مصنف احمد رشید سمجھے لیکن ان کا یہ مغالطہ میں نے جلد دور کروا دیا۔ ان سے اس روز تو تفصیلی گفتگو نہ ہوسکی لیکن اگلے روز یا کسی اور اچھے موقع پر انٹرویو کا وعدہ رہا جو اب تک وفا ہونا ابھی باقی ہے۔

دوحہ کی تقریب سے تین ماہ قبل ہی  12 نومبر کو افغان صدر اشرف غنی نے ایک پریس کانفرنس میں حقانی نیٹ ورک کے تین رہنماؤں کی مشروط رہائی کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی تھی کہ ان رہنماؤں میں انس حقانی، حاجی مالی خان اور حافظ راشد کو رہا کیا گیا تھا۔

اکتوبر 2014 میں 20 سال کی عمر میں گرفتاری کے بعد انس حقانی کی کابل میں جاری سرکاری تصویر (اے ایف پی)

افغان صدر اشرف غنی نے بتایا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کے تین رہنماؤں کو ایک امریکی اور ایک آسٹریلین پروفیسر کی بازیابی کے بدلے رہا کیا جا رہا ہے۔ اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ’ان تینوں قیدیوں کی رہائی ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن افغان عوام کی بہتری کے لیے یہ قدم اٹھانا پڑا۔‘

ویسے تو حقانی نیٹ ورک کے کئی جنگجوؤں سے ملاقات رہی لیکن جلال الدین حقانی کے خاندان کے کسی فرد سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ بیس کے پیٹھے والے نوجوان انس حقانی کو دیکھ کر ایک صحافی نے کہا کہ یہ تو ’ہارڈ کور‘ شدت پسند نہیں بلکہ ایسا نوجوان لگتا ہے جو ابھی آپ سے اچانک آئس کریم کا تقاضہ کر دے گا۔ یہ بات حکیم اللہ اور عبداللہ محسود جیسے نوجوان شدت پسندوں کے بارے میں کی جاسکتی ہے جو پہلے نظر میں کچھ اور دکھائی دیتے ہیں۔    

ان تینوں کو 2014 میں افغانستان کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

انس حقانی کون ہیں؟

انس حقانی طالبان کی سینئیر قیادت میں شامل ہیں اور حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ انس حقانی نے بتایا ہے کہ انہیں 2014 میں بحرین سے 20 سال کی عمر میںگرفتار کیا گیا تھا جب وہ گوانتنامو بے سے رہائی پانے والے طالبان رہنماؤں سے ملاقات کے لیے گئے تھے۔ وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ وہ طالبان تحریک کے لیے رقم اکٹھی کرنے وہاں گئے تھے۔ انہیں بعد میں بگرام جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ انہیں اس دوران دو مرتبہ موت کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ انس کے دفاع میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ وہ ایک طالب علم تھے اور ان کا عسکریت پسندی کی کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تاہم دوسری جانب کابل میں ان کے مخالفین بھی بہت ہیں جنہوں نے سڑکوں پر انہیں پھانسی دینے کے اپنے مطالبے کے حق میں مظاہرے بھی کئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک ویب سائٹ نن ایشیا کو ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنی گرفتاری کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ وہ بحرین اپنے والد کے ایک دوست سے قانونی طور پر ملاقات کے لیے جا رہے تھے کہ امریکیوں نے گرفتار کیا اور 24 گھنٹے پوچھ گچھ کے بعد واپس قطر لے آئے۔ ’قطر سے پھر ہمیں کابل کے قریب بگرام لیجایا گیا۔ ہمیں پھر چار سال یہیں رکھا گیا۔‘

انس حقانی ان کی رہائی کے لیے پاکستان کی کوششوں کے بھی معترف ہیں۔ ’میں ان سب کا مشکور ہوں بشمول قطر اور پاکستان جنہوں نے اس سلسلے میں بہت کوششیں کیں۔‘

بگرام میں گزرے وقت اور حالات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ قیدخانے مشکلات سے عاری نہیں ہوتے۔ ’قیدی بیماریوں اور کئی دیگر مسائل کا شکار ہیں۔ ان مشکلات کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ افغان حکومت، غیرملکی اور سرخ صلیب جیسی تنظیموں کو معلوم ہیں۔ ان کے حل کے وعدے بہت ہوئے ہیں لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ میں ان قیدیوں کے حوالے سے دنیا بھر سے اپیل کرتا ہوں کہ قیدیوں کے حقوق پر توجہ دی جائے۔‘

انس حقانی طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن بہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رہائی کے بعد وہ اپنا زیادہ وقت اپنے آپ کو حالات حاضرہ سے آگاہ رکھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ’میری کوشش ہوگی کہ میں اس حیثیت میں افغان عوام کے لیے امن کو ممکن بناسکوں۔‘

حقانی خاندان میں شاید والد مرحوم جلال الدین کے بعد وہ واحد رکن ہیں جو اب عوامی سطح پر متحرک ہیں۔ ان کے ایک بھائی کو اسلام آباد میں قتل کیا گیا جبکہ بڑے بھائی سراج اب بھی روپوش ہیں۔ ان کے مقابلے میں انس اپنا موبائل فون رکھتے ہیں، لوگوں اور صحافیوں سے بات کرسکتے ہیں، مل جل سکتے ہیں۔ انہیں ابھی بہت شاعری کرنا باقی ہے۔ میری ان سے تفصیلی نشست بھی قرض ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی