ایرانی خاتون کو حجاب ’پہنانا‘ نائیکی کو مہنگا پڑ گیا

چھاتی کے کینسر کے مرض سے مرنے والی ایرانی ریاضی دان مریم مرزا خانی نے امریکہ میں کبھی حجاب نہیں پہنا لیکن نائیکی نے ایک خاکے میں انہیں سفید حجاب پہنا دکھا دیا۔

تصویر: اے ایف پی

ایران کی شہرہ آفاق ریاضی دان کا حجاب میں خاکہ بنانے پر سپورٹس ویئر کی مشہور کمپنی نائیکی ان دنوں زیر عتاب ہے۔

2017 میں چھاتی کے کینسر سے فوت ہونے والی مریم مرزا خانی نے امریکہ میں رہنے کے دوران کبھی حجاب نہیں پہنا لیکن نائیکی نے اپنے عملے کو ارسال نیوز لیٹر میں ایک خاکے میں انہیں سفید حجاب پہنا دکھایا ہے۔

عملے کے نام نیوز لیٹر کا عنوان  “Welcome to Women’s History Month!” ہے اور اس میں آئندہ منعقد ہونے والی تقریبات کی تفصیلات اور تشہیری مواد ہے۔

عملے کے کچھ لوگوں نے اس نیوز لیٹر کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے اور کچھ صارفین کا خیال ہے کہ مریم کا حجاب میں خاکہ دراصل اُس تبدیل شدہ تصویر پر مبنی ہے جسے ایران نے بطور پروپیگنڈا استعمال کیا تھا۔

مریم نے جب 2014 میں فیلڈز میڈل جیتا تو ایرانی اخبارات نے ان کی تصاویر میں از خود تبدیلی کرتے ہوئے  حجاب کا اضافہ کر دیا تھا۔

ایران میں خواتین کا حجاب پہننا ضروری ہے اور خلاف ورزی پر سخت سزا ملتی ہے۔

نائیکی کا متنازع خاکہ سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والوں میں شامل عامر سری ارسلان نے کہا ’نائیکی سے اس طرح فیلڈز میڈل جیتنے والی پہلی خاتون کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

’انہوں نے زبردستی حجاب پہنانے والے ملک کو چھوڑنے کے بعد کبھی حجاب نہیں پہنا۔ آپ کو ایسا کرنے پر شرمندہ ہونا چاہیئے‘۔

مریم شعبہ ریاضی کا سب سے اعلی فیلڈز میڈل جیتنے والی تاریخ کی اب تک پہلی خاتون ہیں۔

وہ 1999 میں گریجویشن کے بعد ایران سے امریکہ منتقل ہو گئی تھیں اور امریکہ میں رہنے کے دوران کبھی حجاب  نہیں پہنا۔

نائیکی کے ترجمان نے دی انڈیپنڈنٹ سے گفتگو میں معاملے پر معذرت  کرنے کے بجائے کہا کہ ان کی کمپنی تمام مذاہب، ثقافت، رنگ و نسل کے لوگوں کا احترام کرتی ہے اور ’ہم اس طرح کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں‘۔

ترجمان نے وضاحت کی کہ عملے کو ارسال کیے جانے والے خط کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ مریم مرزا خانی کی کامیابیوں کو سراہنا تھا۔ہم داخلی معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل