سعودی عرب میں کم عمر مجرموں کے لیے سزائے موت ختم

سزائے موت ختم کرنے کا یہ فیصلہ سلطنت کی جانب سے کوڑوں کی سزا ختم کرنے کے دو دن بعد سامنے آیا ہے۔

سعودی عرب نے 2019 میں جن 184 افراد کو پھانسی دی تھی، ان میں کم از کم ایک 16 سال سے کم عمر لڑکا بھی شامل تھا(اے ایف پی)

سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے جرائم میں ملوث بچوں کے لیے سزائے موت ختم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

سزائے موت ختم کرنے کا یہ فیصلہ سلطنت کی جانب سے کوڑوں کی سزا ختم کرنے کے دو دن بعد سامنے آیا۔

کوڑوں کی سزا کو قید، جرمانے یا کمیونٹی سروس میں بدل دیا گیا ہے، جس سے ملک میں سرعام دی جانے والی پر اس متنازع سزا کا خاتمہ ہو گیا۔

شاہ سلمان کے تازہ ترین شاہی فرمان میں استغاثہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مقدمات کا جائزہ لیں اور کم عمر مجرموں کی سزائے موت کو زیادہ سے زیادہ 10 سال قید میں تبدیل کرکے ان کو بچوں کے حراستی مراکز میں رکھا جائے۔

دس سال کی زیادہ سے زیادہ قید کی رعایت ممکنہ طور پر دہشت گردی کے علاوہ تمام جرائم میں ملوث نابالغ بچوں کو دی گئی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے درجنوں افراد کی سزائے موت ختم ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم عالمی تنظیم نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ جاننا مشکل ہے کہ اس قانون کا اطلاق ان بالغ افراد پر پر بھی کیا جائے گا، جنہوں نے مبینہ طور پر 18 سال سے کم عمر میں جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

ایچ آر ڈبلیو میں مشرق وسطیٰ کے لیے ایک محقق ایڈم کوگل نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: 'اس کا اطلاق سابقہ موت کی سزائے پانے والے ان مجرموں پر بھی ہونا چاہیے جن سے کم عمری میں جرائم سرزد ہوئے تھے۔'

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ نیا قانون کب نافذ العمل ہوگا۔

اتوار کو شائع ہونے والے ایک بیان میں ریاستی حمایت یافتہ انسانی حقوق کمیشن کے صدرعواد الاعواد کا کہنا تھا: 'یہ حکم نامہ جدید تعزیرات کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کرتا ہے اور کلیدی اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے سلطنت کے عزم کو واضح کرتا ہے۔'

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں کہا کہ ایران اور چین کے بعد سعودی عرب سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے ممالک میں سے ایک ہے۔

سعودی عرب نے 2019 میں جن 184 افراد کو پھانسی دی تھی ان میں کم از کم ایک 16 سال سے کم عمر لڑکا بھی شامل تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا