’لاک ڈاؤن میں دیسی شراب سے کہیں اموات نہ ہوں‘

مری بریوری کے مالک اسفن یار بھنڈارہ کا کہنا ہے کہ ادویات کی طرح کچھ لوگوں کے لیے شراب بھی اتنی ہی اہم ہے، اس لیے دکانیں کھلنی چاہییں تاکہ وہ گھر میں بنی شراب پی کر ہلاک نہ ہوں۔

پاکستان میں شراب بنانے والی سب سے بڑی اور 160 سال پرانی فیکٹری مری بریوری کے مالک اسفن یار بھنڈارہ نے کہا ہے کہ کرونا (کورونا) وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کے دوران دیگر تجارتی مراکز کے ساتھ ملک بھر میں غیر مسلم شہریوں کے لیے موجود شراب کی دکانیں بند ہونے سے خدشہ ہے کہ سپرٹ یا غیر معیاری اور دیسی ساخت کی شراب پینے سے کئی لوگوں کی اموات ہو سکتی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کو سکائپ پر دیے گئے انٹرویو کے دوران اسفن یار بھنڈارہ نے بتایا: ’لاک ڈاؤن کے دوران گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے پاکستان بھر میں موجود شراب کی دکانیں بند ہیں جس کے باعث مری بریوری بھی بند ہے۔ اس سے نہ صرف ہمارا اور ہمارے ورکرز کا نقصان ہوا ہے بلکہ حکومت پاکستان کا بھی نقصان ہوا ہے کیوں کہ ہم ٹیکس اور ڈیوٹی ادا کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سب میں ایک سنگین نقصان یہ بھی ہے کہ شراب کی دکانیں بند ہونے کی وجہ سے خریدار گھر میں بنی دیسی اور غیر معیاری شراب کا استعمال کر رہے ہیں جس سے وہ ہلاک ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شراب کی جاری فراہمی فائدہ ہی دے سکتی ہے، نقصان نہیں کیونکہ ادویات کی طرح شراب بھی کچھ لوگوں کے لیے اتنی ہی اہم ہے اور اگر انہیں وہ نہ ملے تو وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے غیر معیاری یا دیسی شراب پیئں گے، جس سے ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہیں ہر مہینے فروخت ہونے والی بوتلوں کا تو اندازہ نہیں مگر ان کی مری بریوری سے ہر مہینے ڈیڑھ سو سے دو سو بڑے ٹرک ملک بھر کے ہول سیلروں کو بھیجے جاتے ہیں جن میں ہزاروں بوتلیں ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق : ’مری بریوری کی سب سے زیادہ سیل صوبہ سندھ میں ہے۔ یہاں ریٹیلر اور ہول سیلر ملا کر 50 دکانیں ہیں جبکہ پنجاب میں آٹھ سے دس فائیو سٹار ہوٹل ہیں جہاں شراب بیچی جاتی ہے۔ بلوچستان میں کتنی دکانیں ہیں اس کا مجھے اندازہ نہیں مگر سندھ کے مقابلے میں کم دکانیں ہیں۔‘

سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں شراب کشید کرنے والے صرف تین کارخانے ہیں، جن میں برطانیہ دور کے دوران 1860 میں قائم ہونی والی مری بریوری راولپنڈی، انڈس ڈسٹلری کراچی اور کوئٹہ ڈسٹلری بلوچستان میں واقع ہے۔

مری بریوری کی ویب سائٹ کے مطابق سرکاری لائسنس رکھنے والی وائن شاپ یعنی شراب فروخت کرنے والی دکانیں اسلام آباد میں چار اور پورے پنجاب میں آٹھ ہیں، جبکہ سندھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن  محکمے کے ریکارڈ کے مطابق سندھ میں سرکاری لائسنس رکھنے والے 21 ہول سیلرز سمیت کُل 122 وائن شاپس ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف کراچی میں سندھ حکومت نے 85 لائنسس کا اجرا کیا ہے، جن میں لائنسس سے چلنے والی دکانوں کی تعداد 64 ہے، جبکہ باقی دکانیں صوبے کے دیگر اضلاع کے چھوٹے بڑے شہروں میں واقع ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کے بعد سندھ حکومت ملک کی پہلی صوبائی حکومت تھی جس نے اسی دن صوبے بھر کے سکولوں کو بند کر دیا اور اور پھر کچھ ہی دنوں میں پبلک ٹرانسپورٹ، شاپنگ مالز، تفریحی مقامات، عوامی پارکس اور محکمہ تعلیم سمیت دو درجن سے زائد سرکاری محکمے بند کرکے مکمل لاک ڈاؤن کردیا۔

 اس لاک ڈاؤن کے دوران دیگر تجارتی مراکز کے ساتھ صوبے بھر میں چلنے والی شراب کی دکانیں بھی پہلے دو اپریل تک اور بعد میں پورے رمضان  کے دوران بند کردی گئی ہیں۔

یہ پہلی بار ہوا ہے کہ سندھ میں اتنے لمبے عرصے کے لیے شراب کی فروخت بند ہوئی ہو۔ پاکستان میں شراب کی دکانیں جمعے کے دن اور ماہِ رمضان میں بند رہتی ہیں۔ ہر سال شراب کی دکانیں بند ہونے کے بعد سندھ اور پنجاب میں دیسی شراب پینے کے باعث بڑی تعداد میں اموات رپورٹ ہوتی ہیں۔

12 اپریل کو پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں 11 افراد دیسی شراب پینے سے ہلاک ہوگئے۔ گذشتہ ہفتے پنجاب کے علاقے خان پور میں دیسی شراب سے چار افراد اور سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں زہریلی شراب پینے سے دو بھائیوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے۔

ان میں سے زندہ بچ جانے والے شخص ارسلان نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ شراب کی دکانیں بند ہونے کے باعث انہوں نے سپرٹ پیا، جس کے باعث سب کی حالت خراب ہوگئی۔

ایک سوال کے جواب میں اسفن یار بھنڈارہ نے بتایا کہ شراب کی فروخت بند ہونے کے بعد مری بریوری نے سینیٹائیزر بنانے کے لیے حکومت سے اجازت مانگی اور حکومت نے صرف دو مہینے تک سینیٹائیزر بنانے کی اجازت دی ہے۔

انہوں نے کہا: ’اگر حکومت نے ہمیں اجازت دی تو ہم مستقل سینیٹائیزر بھی بنائیں گے۔‘

مکمل انٹریو دیکھیے:

 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا